تاریخ ‏اپنے ‏خاتمے ‏کی ‏دہلیز ‏پر۔۔۔✍عمرفراھیؔ

تاریخ اپنے خاتمے کی دہلیز پر ہے۔۔

✍عمر فراھیؔ

بیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مغرب کو یقین ہو چکا تھا کہ اکیسویں اب  ہماری ہوگی ۔جس طرح یہودیت اور عیسائیت کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب نے سیاست سے کنارہ کش اختیار کر لیا ہے نئے سرمایہ دارانہ نظام میں اسلام بھی اپنے سیاسی عزائم سے دستبردار ہو جائے گا۔افغانستان کی سرد جنگ میں امریکہ کی فتح کے بعد  The end of history کے مصنف نے اپنی کتاب میں پیشن گوئی کی کہ اب دنیا میں صرف سرمایہ دارانہ نظام ہی غالب رہے گا اور اس کی قیادت یوروپ کو کرنی ہے ۔ لیکن ایران اور افغانستان میں دوبارہ اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک اور حوصلے کو دیکھ کر پروفیسر سموئیل ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم یعنی Clash of civilization کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے صہیونیت اسلام اور صلیب کے تصادم کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک طویل جنگ اور تصادم کی پیشن گوئی کی ۔تقریبا یہی بات برطانیہ کی ایک خاتون پروفیسر نے بھی اپنی کتاب مقدس جنگ میں لکھا ہے ۔بلک مقدس جنگ کی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ نے تو واضح طور پر قبلہ اول کو موضوع بنا کر اس آرما گیڈون کی بات کی ہے جس کی طرف ان تینوں مذاھب کے پیروکار بڑھ رہے ہیں جس کا ذکر حدیثوں میں الملحمت العظمی کے نام سے آتا ہے جسے کچھ لوگ تیسری عالمی جنگ بھی کہتے ہیں ۔

حالانکہ افغانستان کی سرد جنگ میں روس کو شکست دینے میں پاکستان ,افغان مجاہدین, ایران اور سعودی عربیہ سبھی شامل تھے لیکن فتح کا سہرا امریکہ نے اپنے سر لیا اور اسے اس کا اس طرح فائدہ بھی ہوا کہ وہ ایک قطبی طاقت کے طور پر سامنے آیا ۔لیکن شیشہ گران فرنگ کو افغانستان میں اسلام پسندوں کا ایمانی جذبہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے اسلام کو بھی روس کی طرح خطرہ سمجھا ۔اقبال نے اس کھٹک کی  پیشن گوئی نوے سال پہلے ہی ابلیس کی زبانی کر دی تھی کہ میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح اور ۔۔۔۔ 
افغانیوں کی غیرت ایماں کا ہے جواب 
ملا کو اس کے کوہ دمن سے نکال دو 
اہل عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

اسی جنگ کے بعد برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے کیا کہا وہ بھی سن لیں ۔

Islamic extremism today, like bolshevism in the past is an armed doctrine.It is an aggressive ideology promoted by fanatical,well armed devotees.And like communism,it requires an all-embracing .long-term strategy to defeat it

آج کی اسلامی بنیاد پرستی کا نظریہ بھی ماضی میں اسلحہ بند اسلامی نظریے کی ہی پابند ہے ۔یہ ایک جارحانہ سوچ ہے جو اسلحہ بند انتہا پسندانہ سوچ اور عقیدے پر یقین رکھتی ہے ۔کمیونزم کی طرح ہمیں اسے بھی شکست دینے کیلئے طویل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔

اس طرح ترک سلطنت اور سویت روس کے زوال کے بعد یوروپ کے جو لبرل پروفیسر ایک طویل مذہبی سیاسی تاریخ کے خاتمے کا جشن منا رہے تھے وہ ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اسلام ابھی بھی ایک حقیقت ہے اور انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کے دین پر بالادستی حاصلِ کی ہے ایمان پر نہیں !انہوں نے جنگ جیتا ہے معرکہ نہیں ۔اپنے اس طویل منصوبہ بندی کی تکمیل کیلئے ایک طرف جہاں انہوں نے افغانستان کے مختلف متحارب گروہوں کو آپس میں متصادم ہونے کی فضا تیار کی دوسری طرف سعودی شہنشاہوں پر ایران کے اسلامی انقلاب کا خوف بٹھایا کہ اگر ایران کے اس اسلامی انقلاب کی شہرت مشرقی وسطی میں داخل ہو جاتی ہے تو مملکت سعودی کا خاتمہ بھی یقینی ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ پہلے ایک جنگ سویت روس کا خوف بٹھا کر لڑی گئی اب ایک جنگ ایران کے اسلامی انقلاب کے خوف سے شروع کرنے کی تیاری کی گئی ۔عراق چونکہ شیعہ اکثریت ملک تھا اور وہاں سنی حکمراں غالب رہے ہیں اس لئے ایرانی حکمرانو کی ہمیشہ ہی عراق پر بری نظر رہی ہے ۔اتفاق  سے ایرانی انقلاب کی وجہ سے شدت پسند ایرانی حکمرانوں کے جو عزائم بلند  تھے انہوں نے روس کے اتحادی عراق کوتنہا کھڑا دیکھ کر آنکھ دکھانا شروع کردیا ۔عرق ایران سے چھوٹا ضرور تھا لیکن اس کی عسکری طاقت ایران سے بہت کمزور بھی نہیں تھی ۔ ایران کے استعماری عزائم اور صدام  حسین کے جنگی تیور کو بھانتے ہوئے امریکہ اور سعودی عربیہ نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق کیلئے اپنی دولت اور ہتھیاروں کے خزانے کا دہانہ کھول دیا ۔اس طرح خلیج کی اس آٹھ سالہ طویل خونریز جنگ کے بعد دونوں ممالک جب ہوش میں آئے تو وہ اپنا بہت کچھ لٹا چکے تھے  ۔اس جنگ کے بعد تباہ حال عراق کی دوبارہ تعمیر کیلئے صدام حسین نے عرب حکمرانوں سے مدد کی درخواست کی تو انہوں نے ٹھینگہ دکھانا شروع کردیا ۔صدام حسین کی غلطی یہ تھی کہ وہ ایک بہادر ڈکٹیٹر تھے ماہر سیاستداں نہیں ۔ایران کے خلاف جنگ میں انہوں نے خطہ عرب میں بہت مقبولیت بھی حاصل کر لی تھی ۔خاص طور سے اسرائیل کے خلاف ان کے سخت موقف نے انہیں خطہ عرب میں اور بھی مقبول بنا دیا تھا۔اسی لئے جب عرب حکمرانوں نے ایران کی جنگ کے بعد انہیں  تنہا چھوڑ دیا تو اپنے غصے اور جنون میں کویت پر حملہ کرنےکی غلطی کر بیٹھے۔ مرتا کیا نہ کرتا سعودی حکمرانوں نے سوچا کہیں صدام حسین سعودی مملکت  کا ہی خاتمہ نہ کردے فوراً امریکہ سے مدد  طلب کی اور امریکہ نے سعودی کی سرزمین سے بمباری کر کے عراق کی اینٹ  سے اینٹ بجا دیااور پھر عراق کے خلاف عمومی تباہی کے ہتھیار سازی کا بہانہ ڈھونڈھ کرعراق پر ہر طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کی پابندی لگائی گئی ۔اس کے تمام جنگی طیاروں اور اسلحوں کو تباہ کر دیا گیا ۔عراق کی فوجی طاقت تو یہیں تباہ ہو چکی تھی ۔لیکن کہیں پر قدرت بھی اپنی چال چل رہی تھی ۔اکیسویں صدی کے اس تیسری عالمی جنگ یا آرما گیڈون یا مقدس جنگ اور ام الحرب اور الملحمت العظمی کے پس منظر میں اقبال, فرانسس فوکو ہامہ, سموئیل ہنٹنگٹن, ڈاکٹر اسرار احمد, کیرن آرمسٹرانگ اور صدام حسین نے جو بھی کہا ہو لیکن جو بات قرآن نے پندرہ سو سال پہلے کہی تھی کہ مکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین۔دنیا میں ہو یہی رہا تھا ۔بڑی طاقتیں اپنی چال چل رہے تھیں اور اللہ اپنی چال میں مصروف تھا۔ 

یعنی روس کی طرح امریکہ بھی افغانستان کے دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ جب افغانستان کے متحارب گروہ آپس میں لڑ کر تھک گئے تو اچانک انہیں کے درمیان سے نوجوانوں کا ایک گروہ اور ابھر کر سامنے آ گیا جسے دنیا طالبان کے نام سے جانتی ہے جس کی قیادت ایک ایسے غیرت مند تجربہ کار جرنل کے ہاتھ میں تھی جسے ملا محمد عمر کے نام سے جانا گیا ۔ان کے ساتھ عرب کے سلفی وہابی جنگجو بھی شریک ہو گئے جو افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے کیلئے آئے تھے ۔ان کی قیادت جو نوجوان کر رہا تھا وہ اسامہ بن لادن کے نام سے مشہور ہوا ۔ 

وہ امریکہ جو روس کے بعد ایک قطبی طاقت ہونے کا اعلان کرچکا تھا اور یوروپ میں یہ شخص ابھی بحث کا موضوع ہی بنا ہوا تھا کہ اچانک اگیارہ ستمبر 2001کو امریکہ ایک زبردست دہشت گردانہ حملے سے دہل اٹھا ۔امریکہ نے اس کا الزام اسی شخص یعنی اسامہ بن لادن پر لگایا جو اس وقت کی طالبانی حکومت میں افغانستان میں پناہ لئے ہوئے تھے ۔ ابھی تک جو امریکہ دور سے افغانیوں کو ہتھیار اور تربیت دے کر آپس میں لڑا رہا تھا 9/11 کے اس دہشت گرادانہ حملے کے بعد اس کی تاریخ میں ایک نیا موڑ شروع ہو گیا اور اب اسے خود اپنے لشکر کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا ۔اس حملے کے بعد بش نے جہاں افغانستان کو تباہ کیا اس نے تباہ حال عراق کے صدر صدام حسین کا بھی تختہ پلٹ کر انہیں سزائے موت دے کر شہید کر دیا ۔حالانکہ صدام حسین اب کسی ملک پر حملے کے قابل نہیں رہ گئے تھے لیکن عراق کو ایک ملک کی حیثیت سے ریاست کا جو درجہ حاصل تھا امریکہ اور اس کے یوروپی حواریوں کو گمان ہوا کہ ایک کمزور صدام حسین بظاہر اپنی فوج کا استعمال بھلے نہ کر پائے لیکن وہ اس ریاست میں اسلامی انتہا پسندوں کو ہتھیار اور پناہ دیکر ان کی تربیت تو کر ہی سکتا ہے۔ اس لئے صدام حسین کا زندہ رہنا بھی ٹھیک نہیں ہے ۔جیسا کہ یوروپ کے اکثر مصنفین نے اس شک کا اظہار بھی کیا ہے کہ جن تربیت یافتہ عرب حریت پسندوں نے طیاروں سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا انہیں ان طیاروں کو اڑانے کی تربیت عراق میں صدام حسین نے ہی دی تھی ۔یوروپی مصنفین کا یہ شک بے بنیاد بھی نہیں تھا۔صدام حسین کی شہادت کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد عراق جس طرح جنگ کے میدان میں تبدیل ہوا اس آگ نے پورے عرب کو اپنی لپیٹ میں گھسیٹ لیا ۔صدام حسین نے یہ بات کہی بھی تھی کہ عراق کی یہ جنگ عربوں کیلئے ام الحرب ثابت ہوگی ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں جب صدام حسین کو یقین ہو گیا کہ اب وہ اپنی حکومت اور فوج سے اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو انہوں نے اپنے سارے ہتھیار القاعدہ جیسی تنظیموں کے حوالے کر دیا ۔کہا جاتا ہے کہ 2010 میں تیونس سے شروع ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد مشرقی وسطیٰ میں جو آگ لگی اور ایک وقت کیلئے عراق اور شام کے جو حریت پسند اسلامک اسٹیٹ کے نام سے منظر عام پر آئے تو اس میں صدام حسین کے سابق فوجی بھی شامل ہو گئے تھے ۔عرب کے اس نئے بحران کے بعد ایک بار پھر تقریباً پانچ سالوں تک عالمی طاقتوں کی دنیا ٹھہر سی گئی۔داعش کے خلاف روس امریکہ ایران سعودی عربیہ مصر شام  اور اسرائیل سب نے متحد ہو کر جنگ کی اور ان کا خاتمہ بھی ہوا لیکن کیا الملحمت العظمی۔آرماگیڈون ۔۔تیسری عالمی جنگ ۔۔مقدس جنگ یا ام الحرب کا نظریہ بھی سرد پڑ گیا ؟کیا امن عالم اور نظام عالم کی پرامن منصوبہ بندی کیلئے کوئی عالمی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ۔امریکہ اور طالبان کے درمیان بظاہر امن معاہدہ ضرور ہوا ہے لیکن یہ معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان صرف اس لئے ہوا ہے کہ طالبان افغانستان سے امریکہ کو خیر و عافیت سے نکلنے کا موقع فراہم کردیں ۔میں نے 2014 میں مشرق وسطیٰ کی شورش کے تعلق سے کئی مضامین لکھے تھے جس کا عنوان تھا ۔"سرد جنگ کا دوسرا چہرا "جو اسی فیس بک پر مل جائے گا ۔ایک اور مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا کہ کیا "شام مشرق وسطیٰ کا افغانستان بنے گا ؟ 

آپ آج کی صورتحال دیکھ سکتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا رخ کیا ہے 

یقیناً عراق اور شام سے عرب اسرائیل اور ایران کی مشترکہ کوششوں سے داعش کا خاتمہ ہو چکا لیکن کیا اس خطے میں امن اور انصاف بھی قائم ہوسکا ۔آخر کیوں لاکھوں شامیوں کے قاتل بشارالاسد کو کوئی سزا نہیں دی گئی ۔آخر کیوں اخوان اور حماس عرب حکمرانوں اور اسرائیلی جارحیت کے  شکار ہیں مگر حزب اللہ عراق شام اور یمن میں خونریزی جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس کی وجہ ایران کی عسکری طاقت ہے جو اپنے شیعی عقیدے کی بالادستی کیلئے نہ صرف حزب اللہ کی پشت پناہی کر رہا ہے یمن میں حوثی ملیشیا کے ذریعے  یمن کے دارالحکومت اور ایک بہت بڑے حصے پر قابض ہے۔بات صرف یمن میں حوثیوی کے قبضے کی نہیں ہے تشویش کی بات یہ ہے کہ ایران عراق اور یمن کے راستے سے سعودی سرحد کےقریب آ چکا ہے اور  اس بار سعودی عرابیہ کو ایران سے بچانے کیلئے کوئی صدام حسین نہیں ہے اور سعودی حکمرانوں کو یہ جنگ خود لڑنی پڑ رہی ہے ۔وہ امریکہ جو عراق سے صدام حسین کو بے دخل کرکے نوری المالکی کو حاکم بنا سکتا تھا یمن میں بھی حوثیوں کی بغاوت کو کچل کر سعودی حکمرانوں کی مرضی کی حکومت بنوا سکتا ہے مگر یہاں پر اس نے اسرائیل کی شہ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاکہ سعودی مملکت پر ایران کا خوف سوار رہے اور اس طرح  یہ لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں ۔عرب کی تمام حکومتیں جو اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور کمزور دور سے گزر رہی ہیں انہوں نے متحدہ عرب امارات سے اس کی پہل بھی کر دی ہے ۔یوں تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے اسرائیل کے تعلقات کی سرگوشیاں اسی وقت سے ہو رہی ہیں جب اسرائیل اور سعودی عرب کی مدد سے مصر میں ڈاکٹر مرسی کے خلاف بغاوت کرائی گئی اور تقریباً دو سال پہلے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عمان کا دورہ کیا تھا تو کھلے عام یہ بیان بھی دیا کہ ایران اور داعش کے خلاف عرب ممالک اسرائیل کے اتحادی ہیں۔ اس وقت کسی عرب حکمراں نے نیتن یاہو کے اس بیان کی کوئی تردید نہیں کی تو اس کا مطلب صاف تھا کہ اسرائیل کے ساتھ عرب حکمرانوں کا خفیہ رومانس بہت پہلے سے جاری ہے اور صرف منڈپ سجائے جانے اور شادی کے اعلان کی رسم ہونا باقی تھی جس کی شروعات اب متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہو بھی چکی ہے ۔

دراصل جدید عالم اسلام کا سیاسی منظر نامہ جو افغانستان میں روسی جارحیت کی وجہ سے بگڑنا شروع ہوا اور دنیا امریکی چودھراہٹ کے زیر اثر آئی اب چین کے طاقتور ہونے کے بعد یہ کشمکشِ تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ایک زمانہ تھا جب مملکت سعودی کے ترکی اور پاکستان سے اچھے تعلقات تھے لیکن 2010 کی عرب شورش کے بعد سعودی بادشاہوں کے ترکی سے بھی تعلقات کشیدہ ہیں ۔خاص طور سے ترکی کا اخوانوں کی حمایت میں آنا خادم الحرمین شریفین کو اچھا نہیں لگا ۔اب مملکت سعود کے حکمرانوں کو پاکستان کا ایران اور ترکی کے قریب آنا بھی کھٹک رہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں کبھی اگر ایران اور ترکی نے سعودی مملکت کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان عربوں کی مدد کرنے کی بجائے تماشائی کا کردار ادا کرے گا ۔ عرب ریاستیں ایک طرف جہاں ایران اور ترکی سےخوفزدہ ہیں ان کی اپنی عوام کے اندر بھی اپنے حکمرانوں کے خلاف جو بے چینیاں پائی جاتی ہیں یہ صورتحال کبھی بھی عرب بہار کی طرح شورش میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اس خطے میں عرب حکمرانوں نے جو گناہ کئے ہیں انہیں یقین ہے کہ اللہ کی طرف سے تو کوئی مدد آنے سے رہی کیوں نہ فلسطین کا ہی سودا کر لیا جائے۔کسی نے مشرق  وسطیٰ کے موجودہ بحران پر تبصرہ  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مرحوم شاہ  فیصل کے بعد سے مجھے یاد نہیں ہے کہ عرب  سے کوئی اچھی خبر آئی ہو !بیروت میں ہونے والے دھماکے نے یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ اب عرب سے کسی اچھی خبر کی امید بہت مشکل ہے ۔یہ بات آج نہیں تو کل سامنے آنا ہی ہے کہ بیروت میں لگنے والی آگ کسی حادثاتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ موساد کی کارستانی ہے تاکہ لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کو غیر معتبر بناکر ایران کو کمزور کیا جائے۔شاہان عرب کے پاس اب اس کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں ہے کہ وہ ویلل عرب سے پہلے اپنی بادشاہت کو کچھ دن تک اور قائم رکھنے کیلئے اسرائیل کو تسلیم کر لیں ۔انتظار کیجئے بہت جلد مملکت سعود کا تقیہ بھی  ٹوٹ جائے گا ۔   
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے