تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد
یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا… زندگی، موت کی تمہید ہے، اور موت، حیاتِ مستعار کا تتمہ۔۔۔عالمِ فانی میں ایسا کوئی جاندار نہیں جسے زندگی کا روگ لگا ہو اور وہ نہ مرے؛ جسے یہ روگ لگ گیا اسے بہرحال مرنا ہے۔ہر شئے فانی ہے فنائیت اس کی اصل حقیقت ہے۔ زندگی تیز بہت تیز ہے جس کا ہر لمحہ موت سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے انجام کی طرف کشاں کشاں گامزن ہے۔کوئی جلد کوئی بدیر... لیکن ایسی موت جو عین جوانی کی دہلیز پر دستک دے، عنفوان شباب پر قدم رکھتے ہی اُچک لے، زندگی کے اس مرحلے میں جسمیں عزائم ارادے منصوبے اور خواب جو اپنی تعبیر چاہتے ہیں جو ایک بامقصد انسان کی ترجیحات کا حصہ ہوتے ہیں انہیں اپنے اختتام تک پہنچادیں۔ بڑی کربناک ہوتی ہے۔ آہ۔۔ منیب احمد ہمارا جواں سال بھتیجا، ایک ایسا لائق،ہونہار،باصلاحیت لڑکا جس نے سلیقہ سے اپنی عمرعارضی کی پندرہ بہاریں بھی نہ دیکھیں۔ انتہائی ناگہانی مرض میں مبتلاء ہوکر ہزار کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوکر لقمہ اجل بن گیا۔ منیب احمد کی وفات کا سانحہ جانکاہ، حادثہ فاجعہ اس قدر دلدوز، دلخراش اور المناک ہے ...