اشاعتیں

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

تصویر
یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا… زندگی، موت کی تمہید ہے، اور موت، حیاتِ مستعار کا تتمہ۔۔۔عالمِ فانی میں ایسا کوئی جاندار نہیں جسے زندگی کا روگ لگا ہو اور وہ نہ مرے؛ جسے یہ روگ لگ گیا  اسے بہرحال مرنا ہے۔ہر شئے فانی ہے فنائیت اس کی  اصل حقیقت ہے۔ زندگی تیز بہت تیز ہے جس کا ہر لمحہ موت سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے انجام کی طرف کشاں کشاں گامزن ہے۔کوئی جلد کوئی بدیر... لیکن ایسی موت جو عین جوانی کی دہلیز پر دستک دے، عنفوان شباب پر قدم رکھتے ہی اُچک لے، زندگی کے اس مرحلے میں جسمیں عزائم ارادے منصوبے اور خواب جو اپنی تعبیر چاہتے ہیں جو ایک بامقصد انسان کی ترجیحات کا حصہ ہوتے ہیں انہیں اپنے اختتام تک پہنچادیں۔ بڑی کربناک ہوتی ہے۔  آہ۔۔ منیب احمد ہمارا جواں سال بھتیجا، ایک ایسا لائق،ہونہار،باصلاحیت لڑکا جس نے سلیقہ سے اپنی عمرعارضی کی پندرہ بہاریں بھی نہ دیکھیں۔  انتہائی  ناگہانی  مرض میں مبتلاء ہوکر ہزار کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوکر لقمہ اجل بن گیا۔ منیب احمد کی وفات کا سانحہ جانکاہ، حادثہ فاجعہ اس قدر دلدوز، دلخراش اور المناک ہے ...

مفتی ‏سیداکبرہاشمی ‏صاحب ‏پونہ ‏سے ‏ملاقات۔۔ذاتی ‏احساسات ‏و ‏تاثرات

تصویر
ان سے ملئے۔۔ (مفتی سید اکبر ہاشمی (پونہ)سے ملاقات،ذاتی احساسات و تاثرات) ✍🏻عامرفہیم راہی، جالنہ ہر انسان خیر و شر کا مرکب ہے۔خوبیاں اور خامیاں انسانی ساخت کے عناصر ترکیبی ہیں۔سوشل میڈیا کے اس طلسماتی دور میں ہر انسان بظاہر ایک دوسرے سے مربوط ہے لیکن یہ ربط و تعلق فقط برقی و طلسماتی اور الفاظ کی بیساکھیوں کا محتاج ہے۔یہاں الفاظ منتقل ہوتے ہیں،بسااوقات یہاں جو دکھتا ہےوہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے وہ نظرنہیں آ پاتا، جذبات اور  احساسات کی حلاوت بہرحال فطری ملاقاتوں کے بغیر مشکل ہے۔بسااوقات جن لوگوں سے ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ متعارف ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے مربوط ہوتے ہیں ان کی شخصیت اور کردار کا صرف ایک ہی رخ ہمارے پیش نظر ہوتا ہے اور اسی نسبت سے ہم اس شخص سے متعلق کسی بھی حتمی رائے قائم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔بہرکیف آمدم برسرِ مطلب، انہیں لوگوں میں ایک نہایت ہی دلچسپ پرلطف مگر متنازع شخصیت جن سے متعلق ایک مخصوص رائے عام صارفین کی بن چکی ہے جناب مفتی اکبر ہاشمی پونہ کا نام نامی بھی شامل ہے۔جو اپنے منفرد انداز مخصوص و ٹھیٹ بدوی لب و لہجہ اور متنازعہ بیان بازیوں کے ذریعے سوش...

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

تصویر
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے!  (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان) ازقلم:-عامرفہیم راہی، جالنہ 8329953822              دنیا کی ہرشے فانی ہے۔فنائیت اس کا اصل الاصول ہے۔ہرانسان گزرتے لمحہ کیساتھ اپنے انجام کی طرف کشاں کشاں رواں دواں ہے۔۔اللہ رب العزت کے بعض نیک بندے ایسے ہوتے ہیں جن کی جدائی ذہن و دماغ پر غیر معمولی اثرات چھوڑ جاتی ہے،جن کے روشن کردار کی مہک زندگیوں کو معطر کردیتی ہے، جن کی شخصیت کے رخشندہ و تاباں سنہرے انمٹ نقوش لوگوں کے ذہنوں پر تاحیات مرتب ہوجاتے ہیں۔ان    ہی خوش قسمت لوگوں میں     ہم تمام کے عزیز جناب شیخ سہیل احمد (بھائی جان) بھی تھے۔جن کی مفارقت کا داغ شاید ہی زندگی بھر ہمارے ذہنوں سے مٹ سکیں۔۔بقول مولانا راہی شریفی- کام وہ کر جا جہاں میں، کام کرجانے کے بعد!  ایک مدت تک رہے تو، یاد مرجانے کے بعد!  ہائے میں کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کیوں کر لکھوں .. اس احساس کو جس کا درد ایک نحیف بوڑھا باپ جانتا ہو جسکی لاٹھی ٹوٹ جائے، وہ بوڑھی ماں جسکی آنکھوں...

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!(کیا دینی و ملی تنظمیوں میں ذمہ داریوں کی تفویض پر مبارکبادیاں مناسب ہے؟)

تصویر
      آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے! (کیا دینی و ملی تنظمیوں میں ذمہ داریوں کی تفویض پر مبارکبادیاں مناسب ہے؟) ✍🏻:عامرفہیم راہی، جالنہ 8329953822 حضرت خباب بن ارت کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔دین اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں جب مصائب و مشکلات کے گھٹا توپ اندھیرے تھے۔اسلام قبول کرنے والوں پر سخت اذیت کے پہاڑ توڑے جاتے تھے ایسے وقت میں  حضرت خباب نے کلمہ حق کا اقرار کیا اور دین کی خاطر بےپناہ مصیبتیں برداشت کیں۔یہاں تک کہ آپ کے جسم کو عرب کی آگ اگلتی ریت پر لٹاکر بھٹیوں میں تپتی سلاخوں سے داغا جاتا۔ظلِ کعبہ والی مشہور حدیث کے راوی آپ ہی ہیں۔حضرت خباب کو خلافتِ راشدہ کے  دورِ فاروقی میں جب کسی علاقے کا امیر بنایا گیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے گئے، ایک صاحب جو ان سے قریب تھے انہوں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ہم (سابقون الاولون)نے اسلام کے لئے بےپناہ مصیبتیں برداشت کیں کچھ لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے اور ان کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ ہوگیا۔اب جبکہ مجھ پر اس ذمہ داری کا بوجھ ڈالا گیا ہے مجھے خوف ہے کہ کہیں مجھے اپنی قربانیوں کا بدلہ صرف دنیا ہ...

تعارف ‏کتاب ‏"خطباتِ ‏مکی" ‏

تصویر
                اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے                               (تعارف کتاب) نام کتاب:- خطباتِ مکی مرتب :- مولانا محمدبلال اشاعتی ساتونوی  ناشر:- مولوی محمد عمرمحی الدین رامپوی جالنوی صفحات:- 360 قیمت:- 200 روپئے۔             اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے آفاقی پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کیلئے کچھ مخصوص بندوں کا انتخاب کرتا ہے۔ جن کی شخصیت  ہمہ جہت گوناگوں اوصاف اور غیرمعمولی خصائل و خصائص کا مجموعہ ہوتی ہے۔جو قابلیت اور قبولیت کے اعلی درجے پر فائز ہوتے ہیں۔دین حق کی نشر و اشاعت کا جذبہ، تعلیم و تذکیر، اصلاح و تربیت اور باطنی علوم و ظاہری کمالات سے آراستہ ہوتے ہیں۔ جن کی زندگی کا نصب العین اعلائے کلمۃ اللہ ہوتا ہے اسی جذبے سے سرشار دین حق کی دعوت، اقامت،،اشاعت اور ترجمانی کا فریضہ بتمام و کمال منجانب اللہ خیروخوبی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔انہی پاکیزہ ہستیوں اور برگزیده شخصیات میں دور حاضر کے مایہ ناز خطی...

تعزیتی ‏تحریر ‏بروفات ‏سیدغیاث ‏صاحب جالنہ ‏و ‏سیدصابرالدین ‏قادری ‏صاحب ‏سلوڑ

تصویر
بچھڑے کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی۔۔   گزشتہ کل 7 مارچ 2021ء  بروز اتوار علی الصبح یہ اندوہناک خبر بجلی بن کر وارد ہوئی کہ تحریک اسلامی جالنہ کا ایک نہایت مخلص بےلوث ذہین اور قابل کارکن محترم سیدغیاث صاحب داغِ مفارقت دے کر دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔آہ۔۔کس قدر دلدوز تھا وہ لمحہ جب اس ناقابل یقین لیکن تلخ حقیقت کو سنا گیا، ذہن ا س غیرمتوقع حقیقت کو ماننے کے لئے قطعا آمادہ نہ تھا اور ہوتا بھی کیونکر۔۔ابھی چند دنوں پہلے کی تو بات ہے جماعت کی دعوتی مہم "اندھیروں سے اجالےکی طرف" کی سرگرمیوں میں موصوف کو پوری سنجیدگی اور فکرمندی کیساتھ دوڑ دھوپ کرتے دیکھا بالکل تازہ دم، ہشاش بشاش تندرست و توانا لیکن گھٹاتوپ ظلمتوں میں بھٹکتی انسانیت کو نورتوحید کے آغوش میں  لانے کے لئے اپنے آپ کو گھلانے والا شخص جو بےشمار خصائص و خصائل کا حامل تھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔۔۔ موصوف کا تعلق شہرعنبڑ کے خالص دینی علمی اور تحریکی خانوادے سے تھا۔آپ کی پیدائش 7جولائی سن 1968ء کو تعلقہ عنبڑ ضلع جالنہ میں ہوئی۔آپ کے والد مرحوم سیداحمد صاحب کا شمار جماعت اسلامی کے ...

قسط ‏21 ‏میراشہر، ‏میرےلوگ ‏کہنہ ‏مشق ‏استادشاعر ‏سیدقاسم ‏قالب ‏جالنوی

تصویر
                    ﴿جالنہ شہر خصوصی پیشکش﴾                  مستقل تعارفی سیریز٭قسط نمبر_21                                       ☆روشن چراغ☆                    ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾     محترم قارئین۔۔!  شہرجالنہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے  کہ یہاں ہمیشہ ہی سے گلستانِ ادب کی آبیاری ہوتی رہی ہے۔قریبی ادوار سے متعلق موجودہ بزرگوں کے مطابق یہاں سینکڑوں کی تعداد میں  سخنوروں اور شعراء کا قافلہ موجود رہا ہے۔رائے ہریش چندر دکھی جالنوی نے اپنے دور میں  اس قافلہ کی قافلہ سالاری بہت خوبصورت انداز میں کی،اس قافلے کے شریک سفر  کہنہ مشق استاد شاعر عالیجناب سید قاسم قالب جالنوی  بھی رہے ہیں آج ہم موصوف کا تعارفی خاکہ  قارئین کی نظر کررہے ہیں۔ مکمل نام سیدقاسم ابن سید حسین صاحب مرحوم ،تخلص قالب۔موصوف کی پیدائش 5آ...