تعزیتی ‏تحریر ‏بروفات ‏سیدغیاث ‏صاحب جالنہ ‏و ‏سیدصابرالدین ‏قادری ‏صاحب ‏سلوڑ


بچھڑے کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی۔۔
 

گزشتہ کل 7 مارچ 2021ء  بروز اتوار علی الصبح یہ اندوہناک خبر بجلی بن کر وارد ہوئی کہ تحریک اسلامی جالنہ کا ایک نہایت مخلص بےلوث ذہین اور قابل کارکن محترم سیدغیاث صاحب داغِ مفارقت دے کر دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔آہ۔۔کس قدر دلدوز تھا وہ لمحہ جب اس ناقابل یقین لیکن تلخ حقیقت کو سنا گیا، ذہن ا س غیرمتوقع حقیقت کو ماننے کے لئے قطعا آمادہ نہ تھا اور ہوتا بھی کیونکر۔۔ابھی چند دنوں پہلے کی تو بات ہے جماعت کی دعوتی مہم "اندھیروں سے اجالےکی طرف" کی سرگرمیوں میں موصوف کو پوری سنجیدگی اور فکرمندی کیساتھ دوڑ دھوپ کرتے دیکھا بالکل تازہ دم، ہشاش بشاش تندرست و توانا لیکن گھٹاتوپ ظلمتوں میں بھٹکتی انسانیت کو نورتوحید کے آغوش میں  لانے کے لئے اپنے آپ کو گھلانے والا شخص جو بےشمار خصائص و خصائل کا حامل تھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔۔۔
موصوف کا تعلق شہرعنبڑ کے خالص دینی علمی اور تحریکی خانوادے سے تھا۔آپ کی پیدائش 7جولائی سن 1968ء کو تعلقہ عنبڑ ضلع جالنہ میں ہوئی۔آپ کے والد مرحوم سیداحمد صاحب کا شمار جماعت اسلامی کے اولین بزرگ ارکان میں ہوتا ہے۔موصوف کی تعلیم و تربیت دینی و تحریکی ماحول میں  ہوئی، زمانہ طالب علمی میں طلبہ تنظیم ایس آئی او کے فعال رکن رہے،موصوف نے وکالت کی تعلیم LLB مکمل کی لیکن وکالت کو بطور پیشہ اختیار نہیں کیا قومی و ملی مسائل پر قانونی چارہ جوئی کے لئے قانون کی تعلیم کو قوم و ملت کے لئے وقف کیا بیشتر مقدمات میں لوگوں کی قانونی امداد و رہنمائی کا فریضہ خدمت خلق کے جذبہ سے ادا کیا جو موصوف کی قوم وملت کے تئیں تڑپ و ہمدردی کی دلیل ہے۔سِوِل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا شاید بیشتر قارئین اس بات سے ناواقف ہونگے کہ موصوف ایک قابل انجینئر بھی تھے۔مدینۃ العلوم اردو پرائمری اسکول میں بطور کلرک ملازمت کی۔سرکاری دفتری امور میں موصوف کو بےمثال مہارت حاصل تھی۔بےشمار لوگوں کے سرکاری کام جو دفاتر میں حل طلب ہوتے موصوف برضا و رغبت پیش قدمی کرتے ہوئے مخلصانہ معاونت کیساتھ اسے حل کرانے میں سعی پیہم کرتے۔موصوف کی تعلیم خالص مراٹھی میڈیم سے ہوئی تھی لہذا مرہٹی زبان پر بہترین دسترس حاصل تھی۔موصوف مرہٹی زبان کے بہترین مقرر تھے۔آپ کے حلقہ احباب میں کثیرتعداد غیرمسلم برادرانِ وطن کی تھی۔جن سے موصوف کے غیرمعمولی دعوتی روابط تھے۔اس کے علاوہ موصوف دعوتی و تحریکی سرگرمیوں میں شعورو سنجیدگی کے ساتھ پیش پیش رہتے۔آپ مختلف تحریکی و تنظیمی ذمہ داریوں پر فائز رہے حال ہی میں موصوف کو جماعت کے ذیلی قانونی شعبہ موؤمنٹ فور پیس اینڈ جسٹس(MPJ) کا ضلع صدر منتخب کیاگیا جس پر آپ تادم آخر فائز رہے۔
نہایت خلیق ملنسار مخلص متواضع اور منکسرالمزاج طبیعت کے حامل سید صاحب ایثار و قربانی اور پیمان و وفا کے پابند انسان جو خوبصورت کردار اور کثیرالجہت اوصاف کے حامل تھے اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔بقول سکندرعلی وجد
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی  یاد  آتی  ہے! 

مرحوم سیدصاحب کی پرکشش شخصیت سے گہری انسیت اور واقفیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موصوف کے مخدوم و مربی والدمحترم سےمخلصانہ دیرینہ روابط اور غیرمعمولی والہانہ تعلقات تھے۔جس کا مشاہدہ ہم عہدطفلی سے کرتے آئے ہیں۔
(گزشتہ کل ہی بوقت مغرب ایک اور روح فرساں اطلاع موصول ہوئی کہ جماعت اسلامی سلوڑ کے قدیم رکن  اور والدمحترم کے دیرینہ رفیق محترم سیدصابرالدین قادری صاحب جن سے رفاقت کا دورانیہ کم و بیش پچاس برس پر مشتمل رہا، انتقال کرگئے۔بقول شاعر
اٹھ گئی  ہیں سامنے   سے کیسی کیسی   صورتیں! 
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے! 

مرحوم صابرقادری صاحب بےانتہا خلیق شفیق ذہین اور مخلص انسان تھے،بیک وقت تین زبانوں عربی انگریزی اور اردو کے ماہر مرحوم جماعت اسلامی سلوڑ کا قیمتی سرمایہ تھے۔بزلہ سنجی اور برجستگی موصوف کی پہچان تھی وسیع و عمیق مطالعہ برمحل فی البدیہہ اشعار و لٹریچر کے اقتباسات کے حوالے پیش کرنا اور جابجا قرآن و حدیث کو عربی متن کے ساتھ نقل کرنا موصوف کی شخصیت کا امتیازی پہلوں تھا۔آپ نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ بیرون ملک میں گزارا تاہم اولاد کی اعلی تعلیم اور بہترین دینی اخلاقی اور تحریکی تربیت سے غافل نہ ہوئے اس کی بہترین مثال موصوف کے لائق فرزند و جانشین ڈاکٹرسعیدالدین قادری جو جماعت اسلامی سلوڑ کے فعال رکن اور تحریکی سوچ و فکر کے امین ہیں۔) 
ایک ہی دن میں دو انتہائی ہمدرد بےضرر اور مخلص رفقاء کی جدائی کا صدمہ حساس ذہن و دماغ کے لئے  کسی شدید حادثہ جانکاں سے کم نہیں۔۔۔
کام وہ کیجے جہاں میں، کام کرجانے ک بعد! 
ایک مدت تک رہو تم یاد مرجانے کے بعد! 

بلاشبہ تحریک اسلامی ایک ہی دن میں اپنے دو نہایت قابل،مخلص اور بےلوث کارکنان سے محروم ہوگئی۔اس موقع پر ہم مرحومین کے اہل خانہ سمیت تمام متعلقین کی خدمت میں تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں  دست بستہ دعا کرتے ہیں کہ خالق کون و مکاں مرحومین کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے لواحقین کو صبرجمیل اور تحریکِ اسلامی کو بہترمتبادل عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین۔

✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                          📲8329953822

تبصرے

  1. اللہ ان حضرات کی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب