ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! 

(تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

ازقلم:-عامرفہیم راہی، جالنہ
8329953822

             دنیا کی ہرشے فانی ہے۔فنائیت اس کا اصل الاصول ہے۔ہرانسان گزرتے لمحہ کیساتھ اپنے انجام کی طرف کشاں کشاں رواں دواں ہے۔۔اللہ رب العزت کے بعض نیک بندے ایسے ہوتے ہیں جن کی جدائی ذہن و دماغ پر غیر معمولی اثرات چھوڑ جاتی ہے،جن کے روشن کردار کی مہک زندگیوں کو معطر کردیتی ہے، جن کی شخصیت کے رخشندہ و تاباں سنہرے انمٹ نقوش لوگوں کے ذہنوں پر تاحیات مرتب ہوجاتے ہیں۔ان    ہی خوش قسمت لوگوں میں     ہم تمام کے عزیز جناب شیخ سہیل احمد (بھائی جان) بھی تھے۔جن کی مفارقت کا داغ شاید ہی زندگی بھر ہمارے ذہنوں سے مٹ سکیں۔۔بقول مولانا راہی شریفی-
کام وہ کر جا جہاں میں، کام کرجانے کے بعد! 
ایک مدت تک رہے تو، یاد مرجانے کے بعد! 

ہائے میں کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کیوں کر لکھوں ..
اس احساس کو جس کا درد ایک نحیف بوڑھا باپ جانتا ہو جسکی لاٹھی ٹوٹ جائے، وہ بوڑھی ماں جسکی آنکھوں کا نور سلب ہوجائے، وہ جوان بیوی جس کا سہاگ اجڑ جائے، وہ معصوم بچیں جن کے سروں سے لق ودق صحرا میں آگ اگلتی ریت پر شعلہ برساتی گرمی میں  گہرے   سایہ دار ثمربار درخت کا سایہ چھن جائے، اس مشفق مربی و مزکی کی مخلصانہ کوششوں کو جس کی صحبت میں پدرانہ شفقتوں کے ساتھ برسوں تربیت پاکر اس کی جانشینی کے معیار تک پہنچ جائے جیسے ایک کسان بنجر زمین پر برس ہا برس مشقت کے بعد فصل تیار کرے اور وہ یکلخت جھلس جائے،  ایک ایسا رفیق جس کی رفاقت کا ہر لمحہ حصول خیر کا باعث ہو، جس کی صحبت قوتِ ایمانی،حمیت اسلامی میں اضافہ کا باعث ہو۔۔۔ایسے عزیز کی جدائی کے ہولناک تصور سے کلیجہ منہ کو آتا ہو۔

آج اس درد کو بیان کرنے سے میری زبان عاجز، قلم قاصر، ذہن بوجھل اور الفاظ معذر ہیں،جس درد کی شدت کو آج ہمارا پورا خاندان برداشت کررہا ہے۔جس غم و اندوہ کی کربناک کیفیات سے ہم دوچار ہیں اسے الفاظ کی بیساکھیوں کے ذریعہ بیاں کرپانا  ناممکن ہے۔آج ہم سے وہ شخص رخصت ہوا جو ہمارے درمیان  دلیل و حجت کی حیثیت رکھتا تھا۔وہ صالح نوجوان جس نے اپنی عمرعارضی کی فقط چوتیس بہاریں دیکھیں لیکن ذہنوں پر نسلوں تک باقی رہنے والے انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ دینی حمیت، اسلامی غیرت، ایمانی قوت اور جذبہ شہادت سے سرشار وہ متقی و پرہیزگار شخص جس کو میں نے احساسِ جوابدہی اور فکرِآخرت کے تصور سے تنہائیوں میں بےچین و بے قرار دیکھا۔
اصول پسندی، خودداری، دیانت داری، جفاکشی و جانفشانی مرحوم کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔میں نے موصوف کی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے، سفر ہو یا حضر، مجلس ہو یا برخاست، نہایت شفاف باطن اور پاکیزہ طبیعت کا حامل شخص پایا۔جس کی تگ و دو کا محور رضائے الٰہی کی چاہت، جس کی امید دنیا کی بنسبت آخرت کی سرخروئی۔
بقول علامہ اقبالؒ 
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نگہ دلنواز 
نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو کہ بزم ہو، پاک دل و پاکباز

اتنی یادیں اور باتیں ان سے وابستہ ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کن کن باتوں کو ذہن و دماغ کا ترجمان بناؤں۔

سہیل بھائی انتہائی کریم النفس،خلیق،خوش مزاج،بذلہ سنج اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔تصنع،تکلف،ریاکارانہ زہد اور دکھاوے کی پارسائی سے مرحوم کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔انتہائی سادہ مزاجی اصول پسندی اور بے نیازی موصوف کی شخصیت کے اوصاف حمیدہ تھے۔تحریکِ اسلامی کا انتہائی مخلص و بےضرر سپاہی، تعلیم و تربیت کا جویائی، کتابوں کا شیدائی۔۔۔کتابوں سے محبت کا جنونی تعلق کم از کم میں نے ان سے زیادہ کسی میں نہیں دیکھا۔آپ کسی بھی نئے مقام پر چلے جائیں اور وہاں سے ان کے لئے کسی چیز کے لانے کا ارادہ ظاہر کریں دینی ادبی تاریخی و تحریکی کتابوں کہ فہرست آپ کے واٹسپ پر وارد ہوجائے گی اور بصدخلوص اپیل ساتھ ہوگی کہ بھائی ان میں سے جو جو کتابیں وہاں مل جائے بلاتکلف لےلیجئے۔پیسے بھیج رہا ہوں۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنا کفایت شعار بندہ کتابوں کے لئے کس حد تک بلاتردد "فضول خرچ" بن جاتا تھا۔بالعموم ہمارے پاس پیسے آجائیں تو ہم اپنی ضروری و غیرضروری خواہشوں میں خرچ کرتے ہیں، لیکن یہ بندہ فقط کتابیں حاصل کرنے کے لئے پیسے جمع کرتا اور اسے منگواتا رہتا۔اتفاق کا حسن کے دونوں میاں بیوی ہر معاملہ میں ہم خیال و ہم ذہن رہیں، زوجین میں ذہنی و فکری ہم آہنگی خداتعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔لہذا مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں گھریلوں لائبریری کی خصوصی الماری میں سجی ہوئی ہیں۔

مرحوم کی دینی حمیت اور شعائراسلام سے والہانہ وابستگی کی دسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ ہو۔بھائی جان ایک پرائیویٹ دوائیوں کی کمپنی میں برسرِ روزگار(ایم آر) تھے۔کمپنی کی ایک متعصب نئی مینیجر نے کافی دنوں کی ذہنی اذیت کے بعد یہ فرمان جاری کیا کہ آپ کو داڑھی نکال کر کمپنی میں کام کرنا ہوگا، اگر داڑھی رکھنا ہو تو ملازمت سے دست بردار ہوجائیں۔اس مردِ درویش نے پورے سسٹم سے جنگ لڑلی سارا ریکارڈ صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے کمپنی نوکری سے نکالنے سے قاصر رہی تاہم جالنہ سے نکال کر اورنگ آباد ڈیپو میں شفٹ کردیا گیا جہاں پر دور دراز تعلقوں میں کام کرنے کے لئے دوڑا یا گیا۔ہم نے خود سخت گرمی کے موسم میں روزے کی حالت میں جالنہ سے والوج ، کنڑ اور دیگر دوردراز علاقوں تک روزانہ جاکر  کام کرتے دیکھا۔
ملک کے بدلتے حالات پر تشویش، نوجوانوں کی بےراہ روی پر اضطراب، مسلمانوں کے تابناک روشن تاریخی کارناموں کو نوجوانوں کے روبروں لانے کی لگن، اقامت دین اور خلافتِ اسلامیہ کا جنون، سہیل بھائی کی گفتگو کے موضوعاتی پہلو تھے۔معروف ترکی ڈراما سیریز ارطغرل غازی، کرولش عثمان، سلطان عبدالحمید وغیرہ کو ہمارے حلقے میں متعارف کروانے والا شخص بھی یہی ہے۔ان کے علاوہ نہ معلوم کتنی اسلامی سیریز  ان کے کمپیوٹر میں محفوظ ہے جن کو انہوں نے بارہا دیکھ رکھا تھا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ موصوف بڑی حد تک جذباتی حساسیت کے حامل فرد تھے۔بیشتر ماب لنچگ کے واقعات  پر موصوف کو ہم نے قاتل سے زیادہ مقتول پر برہم ہوتے دیکھا کہ بھئی جب آپ پر ظلم ہورہا ہو تو آپ مضبوط و توانا جسم کے ساتھ مظلوم مت بنئے بلکہ  اپنے اندر خوداعتمادی کیساتھ ظلم کا مقابلہ کیجئے، یہ بڑی بزدلی کی بات ہے کہ بہت آسانی کے ساتھ آپ ظلم کے سامنے سرنگوں ہوکر لقمہ تر بنتے جارہے ہیں ۔بظاہر جسمانی کمزوری لذیذ کھانوں سے بےرغبتی اور محدود غذا کے سبب تھی، لیکن موصوف ایک بہترین کراٹے چیمپئن بلاک بیلٹ بھی تھے جن کی نگرانی میں درجنوں نوجوانوں نے تربیت پائی اور فن میں مہارت پیدا کیں۔

موصوف ادب کا نہایت پاکیزہ ذوق رکھتے تھے،آپ سخن طراز نہ تھے لیکن کمال درجہ کے سخن شناس تھے ۔بارہا مشاعروں میں ہم ساتھ رہے برجستگی،بذلہ سنجی برمحل و موقع شعروں پر نقد ان کا خصوصی وصف تھا، درجنوں شعرا کے سینکڑوں اشعار ان کے حافظہ کے قوی ہونے کی دلیل ہے۔وہ اقبال کے شیدائی اور میرو غالب کے فدائی تھے۔حسن انتظام کی مہارت اور فکرمندی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینا وہ خوب جانتے تھے۔
شعر و ادب اور تحریکِ اسلامی سے وابستگی والدمحترم کی مرہونِ منت ہے میں نے گھنٹوں تک موصوف کو ابوجان کی صحبت میں مختلف موضوعات پر رہنمائی حاصل کرتے دیکھا ۔وہ ہر لحظہ ابوجان کے ساتھ ہوتے سفر و حضر مجلس وبرخاست میں ابو کی صحبت اور ذاتی تربیت انکے پیش نظر ہوتی۔وہ ابوجان کے دستِ راست تھے۔انکے درمیان خسروداماد سے زیادہ استاد و شاگرد اور اس سے آگے باپ اور بیٹے کا رشتہ تھا۔ ان کے اس طرح بچھڑ جانے سے والد صاحب کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔
مریم باجی اور ان کا تعلق شوہر و بیوی کے علاوہ ایک بہت ہی مخلصانہ و محسنانہ رفاقت ذہنی فلری اخلاقی و روحانی  ہم آہنگی اور دوستانہ تعلق کا تھا۔شاید ہی ہم نے گزشتہ آٹھ برسوں میں ان کے درمیان کوئی معمولی چپقلش ہی دیکھی ہو۔مرحوم سہیل بھائی کے پیچھے بیوی مریم جمیلہ تین معصوم شہزادے ایک بھائی بہن اور والدین ہیں۔۔
بھائی جان کی زندگی بہت مشقتوں جانفشانی اور تگ و دو میں گزری، وہ انتہائی خوددار غیرت مند اور اصولوں کے پابند شخص تھے۔کفایت شعاری اور سادہ طور طریق زندگی ان کا مزاج تھا۔دوریش خدا مست آدمی تھے۔اکثر وہ لوگوں سے ملنے میں بہت محتاط رہتے اور بعض اوقات کتراتے تھے جس کی واحد وجہ لوگوں کی خود پسندی، عجب بینی اور اپنے اسباب و وسائل کی فراوانی کی نمائش ہوتی۔
مسجدعمرفاروق کی تعمیروتوسیع میں موصوف نے بنیادی رول ادا کیا، مسجد کا کلیکشن اور حساب و کتاب تادم آخر موصوف کے پاس رہا۔وہ اصول کے بہت پابند اور حساب و کتاب کے سلسلے میں نہایت دیانتدار تھے۔

نیکی انکی طبیعت کا حصہ تھی بس اسی لئے وہ ہر جگہ نیکی کے کاموں میں پیش پیش نظر آتے۔جالنہ میں تحریک شاہین باغ کے روح رواں برادر جاوید احمد و دیگر کے دست و بازوں بن کر عوامی تحریک کو مستحکم بنانے میں صف اول میں  شامل تھے۔موصوف جدید ٹیکنالوجی اور ٹیکنکل ایشوز پر مہارت تامہ رکھتے تھے ویڈیو ایڈیٹنگ وغیرہ ان کا خارجی ذوق تھا۔والد محترم کے درجنوں دروسِ قرآن کی ویڈیو گرافی اور نشرواشاعت انہیں کے ذمہ تھیں۔اس رمضان میں وہ آن لائن دروس قرآن و تربیتی خطبات نیز نوجوانوں سے متعلق تربیتی سرگرمیوں کے لئے بہت تندہی اور تازہ دم ہوکر نئے پروگرامز کی تیاری کررہے تھے۔اپنی ذات میں انجمن ملت کا ایک مخلص بےضرر خادم ہم سے رخصت ہوگیا۔ایس آئی او، یوتھ ونگ پھر جماعت اسلامی کی رکنیت تک ہر میدان میں موصوف نمایاں کام کرتے نظر آئے، لومۃ لائم کی پرواہ کیئے بغیر جو بات حق کے خلاف نظر آگئی اس پر برس پڑتے اکثر جہاں ہم حکمت و مصلحت کے تحت لب کشائی سے گریز کرتے وہاں وہ بلاتکلف اپنا موقف بیان کردیتے اور اس پر ڈٹے رہتے۔
گزشتہ 15 شعبان کو شب برات کے موقع پر مسجد عمرفاروق دکھی نگر میں منعقدہ مکتب کے جلسہ میں پیش پیش تھے، اسی رات بخار چڑھ گیا کئی دواخانوں میں علاج چلا، موسمی بیماری کے وہمی انکشاف نے دوائیوں کو کارگر نہیں ہونے دیا۔ گویا 
مرض بڑھتا گیا جوْجوْ دوا کی
بالآخر 27 مارچ بروز اتوار رات دس بجے شدید بخار کی حالت میں ایک چیخ کیساتھ بیہوش ہورہے، شریک اسپتال کیا گیا، نسخے وضع ہوئے، خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا تاہم معالج کا زور منشائے خداوندی کے آگے بےبس ثابت ہوا۔اورنگ آباد روانہ کیا گیا جہاں اعلی سطحی علاج کا امکان تھا لیکن بات بڑھ جانے سے مختلف بیماریوں کا انکشاف ہوتا گیا ۔دماغ کی نس پھٹ جانے اور بیہوشی کے عالم میں ممکنہ علاج کی سبیل بند ہوگئی،خون کافی حد تک بہ چکا تھا۔بالآخر 26شعبان المعظم مطابق 30 مارچ 2022 بروز بدھ رات 12:20 کو    ہم تمام کو روتا بلگتا چھوڑ کر یہ صالح نوجوان نفسِ مطمئنہ لئے حضورِ حق میں حاضر ہوگیا۔اب جبکہ ہمارے گناہگار ہاتھ انہیں سپردِ خاک کرچکیں ہم بارگاہِ خداوندی میں متوجہ ہیں اور دست بدعا ہیں کہ اے پاک پروردگار تجھے تیری عزت و جلال کا واسطہ تیری شان کریمی و رحیمی کا واسطہ تو اپنے اس کمزور بندے کو معاف فرما، گناہوں خطاؤں سے درگزر فرما، سیئات و حسنات سے مبدل فرما، اعلی علیین میں جگہ نصیب فرما، جنت الفردوس میں مقام عطا فرما ہم سمیت جملہ متعلقین کو صبرجمیل قوت برداشت وصف تحمل اور تیری رضا پر استقامت عطا فرما، اپنے خزانہ غیب سے بیوہ اور یتیم بچوں کی دستگیری فرما، آمین یارب العالمین۔
کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا  ہے ایسا کہ سو گیا ہے
خود اپنی آنکھیں تو بند کر لیں، ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ ۔۔۔سہیل بھا ئی کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یقینا سہیل بھا ئی ان تمام اوصاف حمیدہ سے متصف تھے
    اللہ انہیں غریق رحمت کرے متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے امین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. ان للہ وانا الیہ راجعون

    اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے . ان کے درجات بلند فرمائیں. جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے. اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.

    جواب دیںحذف کریں
  4. آمین ثم آمین

    سہیل میرے چھوٹے بھائی جیسا تھا میرے چھوٹے بھائی محسن انصاری کے خاص دوستوں میں سے تھا مجھے کل پتہ چلا کہ یہ آپکے بہنوئی تھے سہیل کے بڑے بھائی سمیر میرے کلاس میٹ تھے اور سہیل محسن کے ہم لوگوں کی خواتین کا بھی ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا اس ملن ساری کی وجہ آپکے بھائی جان سہیل تھے وہ بچہ اس کی کم عمر سے ہی خاندانوں میں رشتےداروں میں قوم میں اتحاد کا کام کیا کرتا تھا

    مجھے یاد ہے اچھے سے سہیل صاحب نے ایک لائبریری قائم کی تھی جہاں آج نواب ہسپتال ہے مجاہد چوک باغبان مسجد قدیم جا لنہ
    سہیل صاحب کی اس کارکردگی کو ہم اُن کے نام سے آگے بڑھائیں تو اُن کی لیے ثواب جاریہ کا کام ہوگا


    آپ مجھے آواز دے میں ہمیشہ اس نیک کام میں تیار ہو


    جزا کللہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. انشاءاللہ معزبھائی ضرور، میرے ذہن میں بھی یہ خیال آیا تھا آپ نے مزید اس خیال کو عزم میں تبدیل کردیا۔الفرقان ایجوکیشنل اینڈ ویلفئیر سوسائٹی کے سیکرٹری سہیل بھائی تھے۔اسی سوسائٹی کے تحت یہ عوامی دارالمطالعہ شروع کیا گیا تھا۔انشاءاللہ جلد ہی دیگر ذمہ داران سے بات کرکے اسی سوسائٹی کے تحت سہیل بھائی کے نام سے پبلک لائبریری شروع کی جائے گی ۔اور دیگر فلاحی و رفاہی کام بھی شروع کیئے جائیں گے۔انشاءاللہ
      جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      حذف کریں
  5. اللھم اغفره وارحمه واعف عنه ووسع مدخله واكرم نزله يا أرحم الراحمين.

    جواب دیںحذف کریں
  6. چوکھٹیں قبر کی خالی ہیں انہیں مت بھولے
    جانے کب کونسی سی تصویر سجادی جائے
    پرسوز اظہار تعزیت ہر لفظ درد کا میں ڈوبا ہوا ہے ۔۔۔۔زندگی مثل ِ تحریک فرد اپنے آپ میں ایک تحریک ہے ۔
    داستان یوں رقم کی کہ مصرع صاد ہے
    کہ خونِ دل میں ڈوبوئی ہے انگلیاں میں نے
    اللہ کریم قبر کو پرنور کرے, اور آپ سے کے دلوں کو قرار عطا فرمائے سکینت نازم فرمائے ۔
    کس جی سے کوئی اظہارِ تعزیت کرے

    جواب دیںحذف کریں
  7. اللہ عزوجل مرحوم کی مغفرت فرمائے عفو و در گزر کا معاملہ فرمائے متعلقین کو صبر وہمت نصیب فرمائے

    جواب دیںحذف کریں
  8. Allah Azwajal Sohel Bhaijaan ko jannatul firdous me Aala Maqam ata farmaye .

    جواب دیںحذف کریں
  9. Ameen, Allah bhai ki magfirat farmae
    Sohel Sahab ko ilm hasil karne ka bahot shaoq tha mashallah Bhai hamesha kisi na kisi chiz ki study
    .me lage rahte the

    جواب دیںحذف کریں
  10. اللھم اغفره وارحمه واعف عنه ووسع مدخله واكرم نزله يا أرحم الراحمين.
    اللہ عزوجل مرحوم کی مغفرت فرمائے عفو و در گزر کا معاملہ فرمائے متعلقین کو صبر وہمت نصیب فرمائے...

    جواب دیںحذف کریں
  11. اللہ تبارک وتعالیٰ سہل صاحب کی مغفرت فرمائے آمین جملعہ متعلقین کوصبرجمیل عطا فرمائے

    جواب دیںحذف کریں
  12. اللہ تبارک وتعالیٰ سہل احمد صاحب کی مغفرت فرمائے جملعہ متعلقین کوصبرجمیل عطا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  13. انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ سہیل بھائی کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  14. برادر سہیل احقر کے اسکول کے ساتھیوں میں سے تھے، حافظ عامر کی تحریر سے ان کے متعلق بہت سی معلومات ہوئی، مرحوم سنجیدہ طبعیت کے حامل تھے، واٹس ایپ پر بارہوں جماعت کے طلبہ کے متعلق معلومات احقر سے جمع کرتے، ایک متحرک شخص کو ہم نےکھویا ہے ، الله ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔
    موت تو اسکی ہے جسکو کرے زمانہ یاد
    یوں تو دنیا میں آئے ہیں سب مرنے کے لیے

    جواب دیںحذف کریں
  15. تجارتی سلسلے میں مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا بلا مبالغہ سہیل بھائی مذکورہ تمام صفات سے متصف تھے حد درجہ اصول پسند آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

    وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں
    انہیں کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

    جواب دیںحذف کریں
  16. تجارتی سلسلے میں مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا بلا مبالغہ سہیل بھائی مذکورہ تمام صفات سے متصف تھے حد درجہ اصول پسند آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

    وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں
    انہیں کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب