قسط 21 میراشہر، میرےلوگ کہنہ مشق استادشاعر سیدقاسم قالب جالنوی
﴿جالنہ شہر خصوصی پیشکش﴾
مستقل تعارفی سیریز٭قسط نمبر_21
☆روشن چراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
محترم قارئین۔۔!
شہرجالنہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ یہاں ہمیشہ ہی سے گلستانِ ادب کی آبیاری ہوتی رہی ہے۔قریبی ادوار سے متعلق موجودہ بزرگوں کے مطابق یہاں سینکڑوں کی تعداد میں سخنوروں اور شعراء کا قافلہ موجود رہا ہے۔رائے ہریش چندر دکھی جالنوی نے اپنے دور میں
اس قافلہ کی قافلہ سالاری بہت خوبصورت انداز میں کی،اس قافلے کے شریک سفر کہنہ مشق استاد شاعر عالیجناب سید قاسم قالب جالنوی بھی رہے ہیں آج ہم موصوف کا تعارفی خاکہ قارئین کی نظر کررہے ہیں۔
مکمل نام سیدقاسم ابن سید حسین صاحب مرحوم ،تخلص قالب۔موصوف کی پیدائش 5آذر 42فصلی مطابق دسمبر سن1932ء کو رحمن گنج جالنہ کے متوسط تعلیمی ادبی و تجارتی خاندان میں ہوئی۔والدگرامی پیشہ تجارت سے وابستہ تھے۔کرانہ دکان کا بہترین کاروبارتھا جس سے خوشحالی اور آسودگی میسر تھی۔ابتدائی تعلیم مدرسہ تحتانیہ و فوقانیہ جالنہ ہی میں مولوی عبدالرحیم مولوی عثمان اور مولوی ابوالقاسم خلدآبادی مرحوم سے حاصل کی۔زمانہ طالب علمی ہی سے شاعری سے گہرا تعلق استاد مرحوم ابوالقاسم خلدآبادی کی نسبت سے قائم ہوگیا تھا ۔جو بذات خود شاعر نہ تھے لیکن شاعری کا اعلی ذوق رکھتے تھے۔شعری و ادبی نشستوں کا اہتمام فرماتے اور ماتحت طلبہ کو اس میں بتاکید شریک کرواتے تھے۔اس وقت موصوف اقبال ،میر،حالی،غالب اور استاد ذوق کےکلام سناتے اور خوب دادوتحسین سے نوازے جاتے۔وہ دور اردوادب کا خوبصورت دور کہلاتاہے۔ بلالحاظ مذہب وملت اردو سبھی کی پسندیدہ زبان تھی، لوگ سخن شناس بھی تھے اور سخن فہم بھی۔
دورِ جوانی میں تقسیم ہند اور سقوط حیدرآباد کے دلخراش واقعات نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کردیا۔ملک بھر میں تعلیمی سماجی معاشی اور سیاسی بحران رونماء ہوا۔ملت اسلامیہ ہند کا شیرازہ بکھر گیا جس کے بدترین اثرات شہرجالنہ پر بھی ظاہر ہوئے۔گھریلوں ذمہ داری اور معاشی الجھنوں نے ناگفتہ بہ حالات پیدا کردیئے۔ایسے میں کپڑوں کی مناسب تجارت شروع کردی جس کے لئے مختلف علاقوں میں کپڑے کے تھان بازاروں اور سڑکوں پر آوازیں لگاکر بیچاکرتے۔بہرحال سن1955ء میں باقاعدہ قلب شہر میں واقع کپڑا بازار میں ذاتی دکان شروع کر دی آج 65 سال گزرجانے کے بعد بھی موصوف اسی دکان کو بڑے سلیقہ مندی اور کامیابی کے ساتھ چلارہے ہیں۔پولس ایکشن میں سب کچھ لٹ گیا تاہم کاروبار میں محنت اور استقامت کی برکت سے معاشی حالات بہت بہتر ہیں،کافی زمین و جائیداد وارثین کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔موصوف کثیرالعیال ہیں۔
*°شعری و ادبی احوال۔۔°*
اپنے خود نوشت تعارفی خاکہ (جو گزشتہ چند برس پہلے کسی اخبار میں شائع ہوا تھا)میں درج اقتباس کا حصہ ملاحظہ فرمائیں ۔
"میری شاعری کی ابتداء سن1952ء سے ہوئی۔اس سے پہلے میں بحیثیت سامع مشاعروں اور ادبی نشستوں میں شرکت کرتا رہا۔بچپن ہی سے شاعری کی طرف رجحان تھا۔یہی میری شاعری کی وجہ رہی۔یہ اس دور کی بات ہے جب اپنی شناخت مشکل تھی۔بہرحال اس مخدوش دور میں آنجہانی دکھی جالنوی کی بدولت جالنہ میں اردو شاعری متحرک رہی۔دکھی صاحب کی ادبی کمان پوری کی پوری حضرت بشیرالدین شاکر جالنوی کے دست توانا میں تھی جو بزم ادب کے نام سے موسوم تھی۔ایسے حالات میں دکھی صاحب نے وہ مشاعرے کروائے جس کی نظیر کم از کم مہاراشٹرا میں نہیں ملتی۔ایسے دبے کچلے ماحول میں طرحی مشاعرے ہوتے تھے اور انہی طرحی مشاعروں کی نسبت سے میرے اندر کا شاعر بیدار ہوا اور میں نے طرحی غزلیں لکھنا شروع کی۔اس وقت جالنہ میں 65 شاعر تھے۔جن میں حضرت مظہرعرفانی،اطہر و ہنر جالنوی داؤد استاد،فطرت،شریف،نظر،مہرا، کاوش،میکش،عروج،آصف طوفان جالنوی صاحبان۔۔وغیرہ حضرات کے نام نامی قابل ذکر ہے۔مشاعروں میں ہزاروں لوگ آیا کرتے تھے کئی مشاعرے دکھی جالنوی نے اپنے ذاتی خرچ پر کروائیں۔ریاست و بیرون ریاست سے نامور شعراء مدعو کئے جاتے۔سال میں دو تین مشاعرے بڑے پیمانے پر منعقد ہوتے۔۔" بہرحال ایک بہت ہی مہذب و معیاری ماحول اور ادب نوازی کا دور جالنہ شہر میں گزشتہ چند دہائیوں قبل گزرچکاہے۔
موصوف کی شاعری میں جوش و جذبہ، متانت و سنجیدگی،فراست و آگہی کے جوہر نمایاں ہے۔تحت اور ترنم ہردوانداز میں بڑی خوبی کے ساتھ کلام پیش کرنا موصوف کا نمایاں وصف ہے۔قابل ذکر بات ہیکہ موصوف نے اپنی شعری کاوشوں میں باقاعدہ کسی ماہرفن کے روبرو ذانوے تلمذ تہ نہیں کیا اور نا ہی کسی استاد شاعر سے اصلاح لی جس کی وجوہات میں بچپن ہی سے شہرہ آفاق شعراء کے معتبر کلام سے براہ راست استفادہ اور مقامی مشاق شعراء کی صحبت اور خالص معیاری ادبی ماحول نے موصوف کو عمدہ شعر کہنے کا سلیقہ و ہنرسکھادیا۔۔موصوف کی شاعری میں قدیم روایت کی پاسداری ترقی پسند نظریات کا جنون اور جدیدیت کا حسین امتزاج و اشتراک نظر آتا ہے۔جس کی بنیادی وجہ ابتداء سے اب تک موصوف نے ادبی میدان میں روایتی، ترقی پسند اور جدید تینوں ادوار کے شعراء سے تعلق خاطر روا رکھا اسی وجہ سے ان کے اشعار میں مختلف فکروخیال کی حلاوت جزبات و احساسات کی حرارت اور نظریات کی جدت و ندرت پائی جاتی ہے۔زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا رنگ بڑے سلیقہ مندی کے ساتھ مثبت انداز میں پیش کیا ہے۔موصوف کی متعدد نگارشات ملک بھر کے مختلف رسائل جرائد اور اخبارات کی زینت بنتی رہی ہے۔سینکڑوں نظمیں غزلیں نعتیں حمد قطعات اور نثری کاوشیں مختلف جگہوں پر منتشر پڑے ہوئے ہیں جن کو یکجا کرکے مجموعہ کلام کی شکل میں شائع کرنا اردو ادب کے شعری سرمایہ میں شاندار اضافہ کا مترادف ہوگا۔ہم ادب نواز حلقہ اور بالخصوص موصوف کے لواحقین سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اس توجہ پر بہت جلد کام شروع کیا جائیگا۔
عمر کے اس دور میں بھی جبکہ نقاہت و پیرانہ سالی لاحق ہے موصوف ادبی حلقوں میں سرگرم عمل اور مشاعروں کی سپہ سالاری کا فریضہ پورے جوش و جنون اور قوت و توانائی کے ساتھ انجام دیتے آرہے ہیں۔مثبت سوچ اور جواں عزائم کے ساتھ موصوف اردو ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف و سرگرم عمل ہیں۔ سادہ لوح اور خوش مزاج طبیعت کےمالک استاد سیدقاسم قالب جالنوی فی الوقت جالنہ شہر کے قدیم شاعر اور بزرگوں کی پاکیزہ روایات کے علمبردار اور آخری نشانی ہے۔اللہ تعالی موصوف کا سایہ دراز فرمائے صحت وعافیت نصیب فرمائے دنیوی سکون اور اخروی نجات عطا فرمائے۔آمین
موصوف کے مرصع کلام سے منتخب اشعار ملاحظہ ہو۔
سلوکِ ناروا مجبور کرتا ہے ہمیں ورنہ
چمن والوں خوشی سے اپنی ہجرت کون کرتا ہے!
جہاں پر بولتا ہے ظلم سرچڑھ کر وہاں قالب
کسی مظلوم کے حق کی حمایت کون کرتا ہے!
وہ ستاروں پر قدم رکھ کر گئے مہتاب پر
ہم پرانی آرزوؤں پر گزر کرتے رہے!
متحد ہوتی رہی دنیا ہمارے نام پر
اور ہم شیرازہ اپنا منتشر کرتے رہے!
ایک دن قالب انہیں بھی اس کا دینا ہے حساب
جو ہمیشہ امن کو زیرو زبر کرتے رہے!
سچائی کا تو علم خدا ہی کو تھا مگر
اخبار کی وہ پہلی خبرمیں تو آگئے!
دل بھولتا نہیں ہے اندھیروں کے وہ ستم
قسمت سے ہم پناہِ سحر میں تو آگئے!
پتے ہیں اس کی شان تو پہچان ہے ثمر
یہ وسوسے دماغِ شجر میں تو آگئے!
یہ تنگئ لباس یہ فیشن یہ نازحسن
ٹی وی کے اہتمام سے گھر میں تو آگئے!
لوگ آئے ہیں مری فکر کا سودا کرنے
اور اپنے مجھے کہتے ہیں کھلونے والا
کسی کے واسطے ہوں اک فرشتہ رحمت
کسی کے واسطے اک مستقل عذاب ہوں میں
فسانہ رنگ حیثیت سے آشنا ہے میرا
سحر سے پہلے کا پراعتماد خواب ہوں میں!
عروج ہی کی بدولت زوال آتا ہے
کبھی کسی سے نا کہنا کہ لاجواب ہوں میں!
مرے قدم سے ہے تہذیب گلستاں میں بہار
کہ اس چمن کا مہکتا ہوا گلاب ہوں میں
خلوص پیار متاعِ حیات ہے میری
جو پڑھ سکو تو اے قالب کھلی کتاب ہوں میں!
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•
8329953822📱
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں