مفتی ‏سیداکبرہاشمی ‏صاحب ‏پونہ ‏سے ‏ملاقات۔۔ذاتی ‏احساسات ‏و ‏تاثرات


ان سے ملئے۔۔
(مفتی سید اکبر ہاشمی (پونہ)سے ملاقات،ذاتی احساسات و تاثرات)

✍🏻عامرفہیم راہی، جالنہ

ہر انسان خیر و شر کا مرکب ہے۔خوبیاں اور خامیاں انسانی ساخت کے عناصر ترکیبی ہیں۔سوشل میڈیا کے اس طلسماتی دور میں ہر انسان بظاہر ایک دوسرے سے مربوط ہے لیکن یہ ربط و تعلق فقط برقی و طلسماتی اور الفاظ کی بیساکھیوں کا محتاج ہے۔یہاں الفاظ منتقل ہوتے ہیں،بسااوقات یہاں جو دکھتا ہےوہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے وہ نظرنہیں آ پاتا، جذبات اور  احساسات کی حلاوت بہرحال فطری ملاقاتوں کے بغیر مشکل ہے۔بسااوقات جن لوگوں سے ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ متعارف ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے مربوط ہوتے ہیں ان کی شخصیت اور کردار کا صرف ایک ہی رخ ہمارے پیش نظر ہوتا ہے اور اسی نسبت سے ہم اس شخص سے متعلق کسی بھی حتمی رائے قائم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔بہرکیف آمدم برسرِ مطلب،
انہیں لوگوں میں ایک نہایت ہی دلچسپ پرلطف مگر متنازع شخصیت جن سے متعلق ایک مخصوص رائے عام صارفین کی بن چکی ہے جناب مفتی اکبر ہاشمی پونہ کا نام نامی بھی شامل ہے۔جو اپنے منفرد انداز مخصوص و ٹھیٹ بدوی لب و لہجہ اور متنازعہ بیان بازیوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر پہچانے جاتے ہیں۔موصوف کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں ہے۔گزشتہ روز علی میاں فاؤنڈیشن جالنہ کی جانب سے منعقدہ سیرت کوئز پروگرام کی جائزہ نشست کے موقع پر احباب کی جانب سے پرتکلف عشائیہ کا نظم کیا گیا جس میں بطور اعزازی مہمان موصوف کو مدعو کیا گیا۔(مفتی اکبر ہاشمی  مولانا کوثر قادری مرحوم  کے داماد ہیں اس وقت دراصل موصوف جالنہ اپنے سسرال تعزیت کی غرض سے تشریف لائے تھے۔) خصوصی تقریب میں احباب کے ساتھ موصوف سے بڑی خوشگوار اور پرلطف ملاقات ہوئی دیر تک گفتگوں کا سلسلہ چلتا رہا۔مختلف موضوعات پر بےتکلف گفت و شنید ہوئی،موصوف کے بعض تفردات پر احباب نے بےلاگ تبصرے اور اعتراض و  اشکالات کئے جن پر موصوف نے کھلے دل سے گفتگوں کیں۔پورے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ تمام باتوں کے جوابات دیئے۔اپنی دینی ملی اصلاحی اور رفاہی کوششوں کو پیش کیا ،جن کو جاننے کے بعد ہم لوگوں کی طرف سے پوری شدومد کے ساتھ اس بات پر زور دیا گیا کہ موصوف سوشل میڈیا پر غیر ضروری بیان بازیوں اور تک بندیوں سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی مذکورہ کوششوں میں جو دراصل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اپنی ساری قوت اور صلاحیت وقف کردیں انشاءللہ بہت کم وقت میں بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔خوشی اس بات پر ہیکہ موصوف نے ازخود اپنی گزشتہ تمام متنازعہ باتوں سے پرہیز کرنے کا خیال ظاہر کیا اور مستقبل میں چند بڑے پروجیکٹ پر کام کرنے کا اشارہ دیا۔مفتی سید اکبر ہاشمی اک باحوصلہ ذہین اور صلاحیت مند انسان ہیں خوداعتمادی (self-confidence) ان میں  کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ان کے مثبت کاموں کی ایک طویل فہرست ہے،ایسے لوگوں کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو صحیح رخ مل جائے تو اجتماعی مفاد میں بہت کچھ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔  اس موقع پر مناسب معلوم  ہوا کہ موصوف سے متعلق جہاں بےشمار منفی اور تخریبی باتیں سوشل میڈیا پر عام کی گئیں وہیں پر کچھ اچھے کام اور بعض خوبیوں کا اعتراف بھی ہونا چاہئے اور شخصی فروگزاشت بزبان حال  تحریری شکل میں منظرِ عام پر آنی چاہیے تاکہ کچھ توازن اس متنازع فیہ شخصیت کے حوالے سے قائم ہوسکے۔۔۔جاری


نوٹ:-اس تحریر کے منظر عام پر آنے کے بعد ممکن ہے بعض حضرات کو ذاتی طور پر تکلیف ہو۔لیکن وضاحت یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے۔اگر آپ کسی کی اصلاح چاہتے ہیں تو نرمی محبت اور حکمت کے ذریعہ اسے قائل کیجئے۔اور اس سے ذاتی طور پر مل کر بات کریں عارضی ذرائع روابط اکثر بدگمانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب