آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!(کیا دینی و ملی تنظمیوں میں ذمہ داریوں کی تفویض پر مبارکبادیاں مناسب ہے؟)


      آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!

(کیا دینی و ملی تنظمیوں میں ذمہ داریوں کی تفویض پر مبارکبادیاں مناسب ہے؟)

✍🏻:عامرفہیم راہی، جالنہ
8329953822

حضرت خباب بن ارت کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔دین اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں جب مصائب و مشکلات کے گھٹا توپ اندھیرے تھے۔اسلام قبول کرنے والوں پر سخت اذیت کے پہاڑ توڑے جاتے تھے ایسے وقت میں  حضرت خباب نے کلمہ حق کا اقرار کیا اور دین کی خاطر بےپناہ مصیبتیں برداشت کیں۔یہاں تک کہ آپ کے جسم کو عرب کی آگ اگلتی ریت پر لٹاکر بھٹیوں میں تپتی سلاخوں سے داغا جاتا۔ظلِ کعبہ والی مشہور حدیث کے راوی آپ ہی ہیں۔حضرت خباب کو خلافتِ راشدہ کے  دورِ فاروقی میں جب کسی علاقے کا امیر بنایا گیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے گئے، ایک صاحب جو ان سے قریب تھے انہوں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ہم (سابقون الاولون)نے اسلام کے لئے بےپناہ مصیبتیں برداشت کیں کچھ لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے اور ان کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ ہوگیا۔اب جبکہ مجھ پر اس ذمہ داری کا بوجھ ڈالا گیا ہے مجھے خوف ہے کہ کہیں مجھے اپنی قربانیوں کا بدلہ صرف دنیا ہی میں تو نہیں مل رہا۔اور اس ذمہ داری (آزمائش)کے نتیجہ میںنگہبان
پکڑ نہ ہوجائے اس خوف سے رو رہا ہوں۔
معززقارئین! 
ہمارے یہاں دینی و ملی تنظیموں میں ایک عجیب سا نیا ہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کب اور کیسے شروع ہوا البتہ اس میں روزافزوں اضافہ باعثِ حیرت ہے وہ اس لئے کہ دینی شناخت  رکھنے والے اربابِ اختیار  اس میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔کئی دنوں سے یہ احساس اندر ہی اندر پریشان کئے جارہا تھا کہ اس پر کچھ سطور بطورِ تذکیر لکھوں لیکن کچھ اپنوں کے روٹھ جانے کا اندیشہ دامن گیر رہا۔خیر،  دین کی خدمت کے حوالے سے ملنے والی ذمّہ داری صاحب مذکور کے لئے بہت بڑی آزمائش اور فکرمندی کی چیز ہوتی ہے۔ذمہ داری کا بوجھ دراصل اس کی اہلیت و قابلیت کے پیش نظر بطورِ امانت اس کے سپرد کیا جاتا ہے۔ٹھیک اسی طرح ذمہ داری جتنی بڑی ہوگی بوجھ بھی اتنا ہی بڑا اور محاسبہ کے تئیں پکڑ کا باعث بنے گا۔یہ احساس ہمارےان معصوم ذمہ داروں کو آخر کیوں کر نہیں ستاتا جو خود فریبی کا شکار ہوکر اپنی ذاتی تشہیر(self marketing) میں دن رات سرگرداں رہتے ہیں۔کوئی موقع  ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا کہ اپنے نام کے آگے پیچھے  اپنے عہدوں کو صاف لفظوں میں واضح نہ کیا جائے۔یاد رہے دینی  کاموں میں ذمہ داریاں ہوتی ہیں عہدے نہیں ہوتے اگر یہ ذمہ داریاں عہدوں رتبوں اور پروٹوکول کا رنگ اختیار کرلیں تو وہ کام اپنی دینی روح سے خالی ہوجاتا ہے، دنیاداری مادہ پرستی اور بدترین سیاست کا خول چڑھنے لگتا ہے ۔اس پر نمودونمائش کا رنگ چڑھنے لگتا عزت شہرت اور ریاکاری کے مہلک جراثیم بالاخر اخلاص کا گلا گھونٹتے ہوئے اعمال کو بردباد کردیتے ہیں۔ممکن ہے یہ باتیں کسی کو بری لگے، خیر سے لگتی رہے لیکن تھوڑی دیر کے لئے تنہائی میں ہم اپنی ذات کا محاسبہ کریں۔کہیں یہ زہریلے جراثیم ہماری ذات کو متاثر تو نہیں کررہے۔ذمہ داریوں (عہدوں)کے لئے بھاگ دوڑ، سعی پیہم، ترکیبیں تدبیریں گروپ بازیاں سازشیں اور مقابلے۔کیا یہ سب وہ باتیں نہیں ہے جن کا ہم اپنی سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کررہے ہیں۔میرا اشارہ کسی خاص تنظیم یا فرد کی طرف نہیں ہے لیکن یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن کا گھونٹ بہرحال ہم کو پینا پڑیگا۔اس پر ستم بالائے ستم یہ مبارکبادیاں یہ تام جھام الامان والحفیظ۔اس سلسلہ میں صاحب ذمہ داری پر زیادہ سے زیادہ یہ احسان کیا جاسکتا ہے کہ اس کی استقامت کے لئے دعائیں کی جائے اس ذمہ داری کے لئے مطلوبہ معیار اور ممکنہ قربانیوں کی آسانی کے لئے کلمات خیر کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں مناجات کی جائے ۔لیکن نہیں، یہ دھوم وہ تماشے اللہ اکبر۔اس کے برخلاف اسلامی تعلیمات اور اسلاف کا معاملہ ہی کچھ اور تھا۔گفتگو کے شروعات میں صحابئ رسولؐ حضرت خباب بن ارت کا تذکرہ بطورِ تذکیر ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ اسلامی تعلیمات اور اسلاف کی تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ہمارے ایک دوست کو جب یہ قصہ سنایا پورا سنے بغیر موصوف حضرت خباب کے رونے کی وجہ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ روئے اس لئے کہ ہوسکتا ہے ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو کہ وہ اتنے بڑے درجہ کے صحابی اور انہیں بطورِ عہدہ ایک چھوٹے سے علاقے کا امیر بنادیا گیا۔جب پورا واقعہ سن لیا تو اپنے خیال سے تائب ہوکر دوبارہ رجوع کرلیا۔بہرکیف ایک عام آدمی جس کے ذہن میں برگزیدگی کا معیار یہیں سفید پوش طبقہ ہے جن کی حرکتیں دیکھ کر اس طرح  کے مکروہ خیالات کا آنا فطری بات ہے۔ذمہ داری کو ٹھیکیداری نہ سمجھیں اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری کو کماحقہ پورا نہ کیا تو خدا نہ کرے یہی شان و شوکت اور زندگی بھر کی قومی و ملی خدمات عنداللہ مواخذہ کا مؤجب ہوگی۔اللہ پاک ہمارے ذمہ داروں کو صحیح معنوں میں ذمہ داری کا اہل بنادے، اخلاص للہیت اور احساس جوابدہی کے تصور کے ساتھ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 
اجی رکئے۔۔نوٹ تو پڑھتے ہوئے جائیے۔
نوٹ:-مذکورہ بالا سطور دل کا درد ہے جو الفاظ کی شکل اختیار کرگیا۔لہذا دل پہ نہ لیں۔اس میں کسی بھی تنظیم تحریک  جماعت یا اس کے فردکو خاص طور پر ہدف نہیں بنایا گیا بس عمومی اور عامیانہ باتیں ہیں جو ہلکی پھلکی تذکیر کی غرض سے لکھی گئی ہے۔پھر بھی کسی کو برا لگ ہی رہا ہے تو ممکن ہے دوا کام کررہی ہو اور مختصر وقت نکال کر احتساب کریں کہیں یہ جراثیم آپ کا  پیچھا تو نہیں کررہے۔
آئیے ۔۔۔اللہ حافظ
اللہ نگہبان
*رکھیوں غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف!*
*آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!*

تبصرے

  1. ماشاءاللہ
    بہت عمدہ تحریر اور مناسب تذکیر

    جواب دیںحذف کریں
  2. جی ماشاءاللہ مبارکبادیوں کے ڈھیر میں ایک گمشیدہ تلخ حقیقت کا اظہار کیا ہے آپ نے

    جواب دیںحذف کریں
  3. فروخت کرتے ہیں سب اپنی اپنی تصویریں۔
    ہر ایک شخص ہے مصروف خود نمائی میں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. ماشاءاللہ بھت ہی عمدہ باتیں تحریر کی اللہ آپکو دونوں جہاں میں کامیابی عطا فرمائے ۔ آپ نے اس تحریر کے ذریعے ہمارے دل کو اجاگر کردیا اللہ ہمارے اندر خوف خدا پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ذمےداری کا احساس پیدا فرمائے آمین
    👍

    جواب دیںحذف کریں
  5. الحمدللہ!
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا
    جہاں جوابدہی کااحساس ہے وہاں یہ تحریر مشعل راہ ہے.
    مگر ملت کی سیاسی جماعتوں کی تویہ اہم سرگرمی ہے.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں