قسط ‏نمبر ‏14 ‏مولانا ‏حسن ‏صاحب ‏ملی ‏ندویؔ


         ﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
             مستقل تعارفی سیریز٭قسط14
                        
                   ☆روشــــن چــــــراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

معزز قارئین۔۔!
آج ہم  آپ کو اک ایسی شخصیت سے متعارف کروانا چاہتے ہیں جنہوں نے ایسے جہالت زدہ ناخواندہ سماج میں آنکھیں کھولی جہاں فضول رسوم و رواج، بے دینی،معاشرتی مسائل و تنازعات کی بھرمار اور شرک و بدعت نیز ہندؤانہ تہذیب کے اثرات مجموعی معمولات پر بری طرح اثرانداز ہوچکیں تھے۔۔سماجی معاشی سیاسی اور تعلیمی پسماندگی نے اس برادری کو کبھی آگے بڑھ کر اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا۔۔۔تاہم مذکورہ شخصیت نے اپنی جانفشانی خلوص و للہیت صبرِ پیہم اور مستقل مزاجی کے ساتھ برادری پر محنت کرنے کے نتیجہ میں بنجر زمین کو گل گلزار بنادیا۔۔۔آج اس برادری کے ہر دوسرے گھر میں عالم دین حافظ قرآن  اور داعی الی اللہ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔۔میری مراد گولی برادری کے پہلے عالم دین مصلح و مربی محترم مولانا محمد حسن صاحب ملی ندویؔ ہے۔
        آپ کا مکمل نام محمد حسن ابن محمد بدر الدین صاحب ہے۔پیدائش ۱ جنوری سن ۱۹۷۱ء کو جالنہ شہر سے قریب دیہات موضع مجرے باڑی کے ایک مزدور پیشہ نا خواندہ غریب گھرانے(دودھ فروش گولی برادری) میں ہوئی۔موصوف عہد طفلی میں ہی پدرانہ شفقتوں سے محروم ہوگئے تھے۔غربت و افلاس تنگدستی و فاقہ مستی کے عالم میں والدہ مرحومہ نے مشقتوں سے پرورش کیں۔آپ کی بنیادی تعلیم گاؤں میں چل رہے غیرمنظم مکتب میں مولوی احمد صاحب مرحوم کے پاس ہوئی۔
(نظام دور حکومت میں گولی برادری کی بڑھتی ہوئی بےدینی فتنۂ ارتداد اور بے راہ روی کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے تین قصبوں مجرےباڑی،رام مورتی اور گولی پوکھری میں معلم و مربی مولوی حبیب اللہ صاحبؒ جو نظام آباد سے تشریف لائے تھے منتخب کئے گئے۔جنہوں نے پوری زندگی دعوتی و اصلاحی کوششوں میں صرف کردی۔جن کا وصال بہت پہلے ہوچکا تھا۔موصوف کی قبر مجرے باڑی کی مسجد میں موجود)۔
     بچپن ہی سے دینی مزاج اور علم دین کے حصول کی چاہت طبیعت میں راسخ ہونے کے نتیجہ میں اعلی تعلیم کے لئے سن ۱۹۸۴ء میں آپ کو ریاست مہاراشٹر کی عظیم و قدیم دینی درسگاہ مدرسہ معہدِ ملت مالیگاؤں میں داخل کیا گیا۔معہدملت مالیگاؤں میں وقت کے جید اساتذہ خصوصا حضرت مولانا قاضی عبدالاحد ازہری صاحب حضرت مولانا ادریس عقیل قاسمی صاحب سے کسب فیض کیا۔خصوصا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حنیف صاحب ملی قاسمیؒ کی خصوصی توجہ نگرانی شفقت اور عنایات حاصل رہیں۔مولانا حنیف ملی قاسمی صاحبؒ سے آپ کا خصوصی علمی فکری اور روحانی والہانہ تعلق رہا۔سن ۱۹۹۲ء میں سندِ عالمیت حاصل کیں۔(دوران طالب علمی والدہ محترمہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔)استاد محترم کی ایماء پر مزید اعلی تعلیم اور وقت کے اساطین علم و معرفت سے خوب علمی فکری و روحانی فیض حاصل کرنے کی غرض سے عالم اسلام کی معروف دانشگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤں تشریف لے گئے۔ندوہ میں مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ،مرشدالامت مولانا رابع حسنی ندوی وغیرہ اکابرین کی خصوصی مجلسوں اور صحبتوں سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔وہاں سے آپ نے سن ۹۴ء میں سند فراغت حاصل کیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد موصوف درس و تدریس سے منسلک ہوگئے۔ایک سال مدرسہ احیاء العلوم عثمان آباد میں تدریسی خدمات انجام دی۔اپنی برادری میں پھیلتی ہوئی بے دینی و بے راہ روی کو دیکھتے ہوئے ذاتی تڑپ کے نتیجہ میں موصوف نے دعوتی و اصلاحی کاوشوں کے ذریعہ گولی برادری کو اپنا میدان عمل بنایا۔برادری میں پھیلی بداعتقادی اور بے دینی کو دور کرنے لئے ۲۵ فروری سن ۱۹۹۶ء کو اپنے مشفق و مربی استاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا حنیف صاحب ملی قاسمیؒ کے دست مبارک سے مدرسہ عربیہ ارشادالعلوم مجرے باڑی کی بنیاد رکھی۔سن ۲۰۰۲ء میں خواتین میں دینی و عصری تعلیم سے دوری کے سدباب نیز دینی تعلیم و اخلاقی تربیت کے پیش نظر مدرسہ جامعۃالصادقات(غیراقامتی) کی بنیاد رکھی۔سن ۱۷ء میں جامعہ عائشہ للبنات(گارمال ضلع ہنگولی) کی بنیاد رکھی۔ان تینوں اداروں سے فارغ التحصیل سینکڑوں طلبہ و طالبات اپنی علمی تشنگی کو بجھا کر مختلف علاقوں اور اپنی برادری میں علم دین کا فیض پہچانے میں مصروف ہیں۔موصوف کی سرپرستی میں اطراف و اکناف کے علاقوں میں تقریبا ۲۶ مکاتب مبتدی طلبہ کو بنیادی دینی تعلیم سے بہرہ مند کرانے میں مصروف ہیں۔ زمانۂ طالب علمی سے موصوف کا جماعت تبلیغ سے تعلق رہا۔اسی کے پیش نظر آپ نے خوب دعوتی و اصلاحی دورے کئے۔افراد سازی میں آپ کا زبردست کردار رہا علاقہ کے بیشتر طلبہ کو مدارس کے نظام سے جوڑتے اور تعلیمی رہنمائی کرتے رہیں اسی کے نتیجہ میں متعدد علماء حفاظ و مفتیانِ کرام کا مضبوط و منظم گروہ آپ کی نگرانی میں تیار ہوکر اپنی برادری اور دیگر علاقوں میں دینی علمی و اصلاحی کوششوں میں مصروف ہیں۔جہالت زدہ معاشرہ میں علم و عمل کی شمع روشن کرنا اور اس کی حفاظت کرتے ہوئے فکر و نظر کے میدان میں اس شمع کو مشعلہِ راہ بنانا یقینا بڑا کام ہوتا ہے۔موصوف کی دینی اصلاحی اور سماجی فکریں صرف اپنی برادری ہی کے لئے وقف ہوکر نہیں رہ گئی۔قومی و ملی دینی و اصلاحی سرگرمیوں کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے موصوف سن ۱۹۹۶ء ہی میں جمیعۃ العلماء ہند سے وابستہ ہوگئے تھے۔جمیعۃ علماء کے پلیٹ فارم سے پورے ضلع میں دینی ملی اور سماجی خدمات کو انجام دیا۔سن ۲۰۰۰ء سے تاحال موصوف جمیعۃ العلماء(م) کے ضلع صدر ہیں۔معروف عالم دین پیر طریقت مولانا ولی رحمانی صاحب سے موصوف کا بیعت و ارشاد کا تعلق رہا۔ موصوف کا شمار ضلع جالنہ کی علمی فکری دینی و ملی شخصیات میں ہوتا ہیں۔آپ سادہ طبیعت،کریم النفس،بااخلاق اور منکسرالمزاج شخصیت کے مالک ہے۔اصاغر نوازی اور وسیع الفکری موصوف کے اوصاف کریمہ ہیں۔
                      ☆پیغام عمل☆
موجودہ حالات میں امت کو مخلص اور بےغرض ہوکر کام کرنے والوں کی اشد ضرورت ہے۔اپنے ہر عمل کو شہرت و ریاکاری سے پاک رکھیں جہاں کہیں جو کوئی کام کررہا ہو کھل کر اس کی حوصلہ افزائی اور کام کرنے والوں کی خدمات کو سراہیں۔تعلیمی میدان میں خصوصی توجہ دیں۔رب سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔حالات اور دشمنوں کی منصوبہ بندیوں سے شکایتوں کے بجائے عملی میدان میں اپنی استطاعت کے مطابق دینی سیاسی سماجی و اصلاحی کاموں میں مصروف عمل رہیں۔تاکہ زندگی کے تمام شعبوں میں مخلصین اعلائے کلمۃ اللہ کے صدائے بلند کرتے نظر آئیں۔؂
       زباں کی بزم میں گلباریوں سے کیا حاصل!
       عمل  کی  راہ  میں  گرد و غبار  پیدا  کر!
اللہ رب العزت محترم مولانا محمد حسن صاحب ملی ندوی کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین یا رب العالمین۔

✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                     8329953822📱

تبصرے

  1. ماشاء اللہ تعالی مولانا محترم کی کاوشوں قربانیوں کو قبول فرماکر اپنے شایان شان بدلہ عنایت فرمائے اور اپ کا سایہ تادیرقائم ودائم رکھیے
    اور قلمکار کے قلم اور عمر علم وعمل وتقوی میں اضافہ فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص وللہیت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے

    جواب دیںحذف کریں
  2. یقینا ایسے کتنے ہی چراغ اس ویرانے کو روشن کئے ہوئے ہیں.اللہ سب کو جزائے خیر دے کہ ان کے دم سے ہی ہنگامہ عالم گرم نظر آتا ہے.
    آپ بہت تحسین کے مستحق ہے کہ یہ بڑا کام انجام دے رہے ہیں.

    جواب دیںحذف کریں
  3. مولانا درس و تدریس سے وابستہ ہو کر کسی بھی مدرسے میں آرام دہ زندگی بسر کر سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا وہ اس مدرسے کو چھوڑ کر اپنے علاقے میں اصلاحی کام کو ترجیح دی ۔ یقینا بہت بڑے مجاہدے کا کام تھا۔ اللہ تعالی مولانا کی قربانیوں کو قبول فرمائے ۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب