قسط4؀ ‏اقبال ‏پاشاہ ‏صاحب

جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش
مستقل تعارفی سیریز قسط4
            
                     ☆روشــــن چــــــراغ☆
                    ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

    آج کے خصوصی مہمان 
        محترم
             اقبال احمد خان پاشاہ صاحب

آپ کا مکمل نام اقبال احمد خان ابن تاج الدین خان ابن حاجی بختیار خان ہے۔آپ کی پیدائش ۱۲/نومبر سن ۱۹۵۰ء کو ایک زراعت پیشہ،دینی و تحریکی خانوادے میں شہرجالنہ میں ہوئی۔آپ کا تعلق نسلا" افغانی پٹھان قبیلہ جلال زئی سے ہے۔آپ کے دادا مرحوم حاجی بختیاراحمد خان سن ۱۹۱۲ سے ۱۹۱۶ کے درمیان افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے۔فکرِ معاش کی جستجو انہیں ریاستِ دکن کھینچ لائی۔
(دادامرحوم کی بہادری،شجاعت اور قائدانہ صلاحیتوں کے پیشِ نظر آپ کے نام کیساتھ پاشاہ لقب کا اضافہ کیاگیا جو نسل در نسل منتقل ہوکر جناب اقبال پاشاہ کے نام اور شخصیت کی پہچان بن گیا۔)
آپ کی بنیادی تعلیم جنتا پرائمری اسکول قدیم جالنہ اور چیلی پورہ ہائی اسکول اورنگ آباد میں ہوئی۔ ۱۹۷۱ میں ضلع پریشد ملٹی پرپزہائی اسکول قدیم جالنہ سے بارہویں جماعت سے فراغت حاصل کی۔ گریجویشن کے دوران دوسرے ہی سال آپ کی تعلیم موقوف ہوگئی۔
                     *قابلِ ذکر روداد*
✍🏻آپ کے والد مرحوم جماعت اسلامی جالنہ کی صفِ اول کے ارکان میں سے تھے۔اس لحاظ سے آپ کی فکری و تحریکی تربیت بچپن ہی سے والد صاحب کی نگرانی میں ہوئی اورکم عمری میں ہی آپ کا تعلق تحریکِ اسلامی سے قائم ہوگیا۔
✍🏻 مزاج میں تحریکیت اور طبیعت میں جولانی کی وجہ سے آپ شروع ہی سے ملی و سماجی ہر چھوٹے بڑے کام میں پیش پیش رہے۔لحاظہ ملک کی معروف طلبہ تنظیم کے آپ دورِ طالبِ علمی ہی میں ضلع صدر منتخب کئے گئے۔
✍🏻 موصوف کی سماجی،تعلیمی اور تنظیمی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ۱۹۷۵ میں ایمرجنسی کے دوران آپ کو پابند سلاسل کردیا گیا۔پورا ایک سال آپ نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا۔یہ سال بہت سختی،آزمائش اور بےشمارمسائل کیساتھ گزرا۔اسی سال آپ کے والد محترم انتقال کرگئے گھریلوں معاشی حالات بہت خراب ہوگئےاور یہی وہ ایک سال ہے جو آپ کی زندگی میں غیرمعمولی تبدیلی کا باعث بنا۔آپ کے والد محترم ۱۹۵۳ سے جماعت اسلامی کے رکن تھے سن ۶۵ء میں آپ کو رکنِ جماعت ہونے کی پاداش میں نظربند کیا گیا۔
✍🏻جیل سے رہائی کے بعد آپ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ گھر کےذمہ دار ہونے کی حیثیت سے معاشی مسائل کے حل کا تھا۔لہذا آپ پیشہ زراعت سے بھی وابستہ رہے۔
✍🏻 نظربندی کے زمانے میں ملت کے حالتِ زار پر بے انتہا غوروتدبر کے نتیجہ میں آپ نے یہ محسوس کیا کہ موجودہ دور میں سیاست سے علیحدہ ہوکر اپنے حقوق کو تسلیم کروانا اور اقلیتی طبقات خصوصا مسلم سماج کیساتھ ہورہی ناانصافیوں  کو روکنا ناممکن ہے۔لہذا ۱۹۷۶ء میں آپ باضابطہ سیاست میں سرگرم ہوگئے۔مختلف سیاسی ذمہ داریوں پر فائز ہوتے ہوئے آپ نے سب سےپہلے ۱۹۷۸ میں  بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔جس میں آپ کو غیرمعمولی عوامی مقبولیت کے پیش نظر زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔جلدہی سن ۷۹ء میں آپ کارگذارصدرِبلدیہ کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔یہ سلسلہ دراز ہوا اور آپ جالنہ بلدیہ میں بہت ساری اہم اور غیر معمولی عہدوں اور ذمہ داریوں پر عرصۂ دراز تک فائز رہیں۔
✍🏻 آپ کا سیاسی دور بے پناہ مقبولیت اور عوامی حمایت پر مشتمل رہا۔سیاسی حکمتِ عملی اور دور اندیشی کے نتیجہ میں آپ نے جتنے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔غیر معمولی فتح حاصل کی۔
✍🏻 سن ۸۱ء میں آپ نے ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا (صدر انجمن اشاعتِ اسلام بمبئی)کی ایماء پر ایس کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔پارٹی میں اپنی حق گوئی،بیباکی،راست بازی اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے مختلف بڑی اور اہم ترین ذمہ داریوں پر فائز رہیں۔جن میں قابلِ ذکر NCP کے شعبۂ اقلیت کے آل انڈیا سیکریٹری،مہاراشٹرا نائب صدر اور مہاراشٹر جنرل سیکریٹری سمیت اہم عہدہ جات شامل ہیں۔
✍🏻 موصوف کی سیاسی خدمات کے علاوہ دینی،ملی اور سماجی خدمات بھی قابلِ قدر و لائقِ تحسین ہیں۔سن ۸۳ء میں شعبۂ تعلیم کی جانب سے توہینِ رسالت کے ارتکاب کے سدِباب کے لئے اور آئندہ کسی بھی حکومتی ادارے کا اس مذموم حرکت کے مرتکب نا ہونے کے سلسلہ میں ایک نمائندہ مذمتی ایکشن کمیٹی بنائی گئی جس میں آپ نے علاقۂ مراہٹواڑہ کے نائب صدر کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کی۔
✍🏻 سقوطِ حیدرآباد کے بعد متاثرہ علاقوں میں سرِفہرست جالنہ بھی اہم مقام رہا جس کے بہت خطرناک اور منفی اثرات مسلم معاشرے پر اثرانداز ہوئے۔سب سے بڑی کمزوری مسلمانوں میں تیزی سے پھیلی نفسیاتی ڈر،خوف اور مایوسی کی کیفیات کو دور کرنے کے لئے عملا" جدوجہد کی۔مسلم نوجوانوں کی صلاحیتوں کو صحیح رخ دینے اور تعمیری و مثبت کاموں میں نوجوانوں کی رہنمائی میں آپ کا  اہم کردار رہا۔
✍🏻 سن ۹۱ء میں آپ مراہٹواڑہ وقف بورڈ کے ممبر منتخب ہوئے۔سن ۹۸ء تا ۲۰۰۰ء تک کارگذار صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔
✍🏻 سن ۱۹۷۸ء میں عیدگاہ قدیم جالنہ کی توسیع کا کام کیا اور اسی سال (تقریبا 42سال)سے موصوف عیدین کے موقع پر شہریانِ جالنہ سے خطاب کرتےآرہے ہیں۔
✍🏻 شہر کی اہم ترین جامع مسجدِ حضرت بلالؓ سمیت کئی مساجد کی تعمیر و توسیع اور بازآبدکاری میں آپ نے غیرمعمولی کلیدی کردار ادا کیا۔
✍🏻 ضلع بھر میں ہمہ وقت ملی و سماجی مسائل و تنازعات میں آپ نے مصالحانہ و قائدانہ کردار ادا کیا۔
✍🏻 موصوف عرصۂ دراز سے جمیعۃ العلماء ہند سے وابستہ رہے۔۱۹۸۴ سے آپ جمیعۃ العلماء ہند ضلع جالنہ کے عہدۂ صدارت پر فائز رہے تاہم گذشتہ تیرہ سالوں سے آپ جمیعۃ کے کارگذار صدر ہے۔
✍🏻 موصوف کی ملی،قومی،مذہبی،اصلاحی،تعلیمی اور سماجی و سیاسی خدمات طویل عرصہ پر مشتمل ہے۔ساتھ ہی دعوتی و تحریکی کاموں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ملک کی مشہور سیاسی و سماجی شخصیات سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں اس موقع پر بھی آپ نے دعوتی ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کی۔
✍🏻 پولس انتظامیہ سے ہر دور میں آپ کے گہرے اور مضبوط تعلقات رہے۔جس کے نتیجے میں کئی بےقصور،فرضی الزامات میں پھنسے لوگوں کی رہائی کے لئے موصوف نے غیرمعمولی توجہ دی اور انہیں کافی حد تک راحت پہنچانے کا کام کیا۔
✍🏻 بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں پھیلے نفرت اور فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر سن ۹۲ء اور سن ۹۳ء میں آپ نے شہر جالنہ کے مسلم قدآور لیڈر کی حیثیت سے ماحول کو پرامن بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے میں انتہائی غیرمعمولی کلیدی کردار ادا کیا۔
✍🏻 شہرجالنہ کے مشہور و معروف تعلیمی ادارے مدینۃ العلوم اردو پرائمری اسکول و علامہ اقبال اردو ہائی اسکول کے آپ تاسیسی رکن رہے۔نوجوانوں میں صحت و تندرستی کو عام کرکے مختلف اخلاقی و جسمانی رذائل سے دور کرنے کے لئے عملی کوششیں کی۔کھیل اور ثقافت کے ذریعہ نوجوان نسل کی فکری و جسمانی تربیت کے لئے افغان اسپورٹس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے آپ صدر مؤسس ہیں۔ہندو مسلم ایکتا،اور قومی یکجہتی کیلئے کئی ثقافتی پروگرام منعقد کئے۔
✍ حالیہ سیاسی پس منظر میں موصوف نے راشٹروادی کانگریس سے علیحدگی اختیار کر مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت اختیار کیں۔گزشتہ سال مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں مجلس کے امیدوار کی حیثیت سے ایم ایل اے کے لئے الیکشن میں حصہ لیا جس میں آپ کو تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
آپ کا مطالعہ وقیع اور فکر وسیع ہیں۔قائدانہ کردار اور احساسِ برتری موصوف کی شخصیت کا جزوِلاینفک ہے۔موصوف کی زندگی جہدِمسلسل کی آئینہ دار ہے۔آپ کی گفتگوں میں برجستہ تاریخی حوالاجات سے مطالعہ کی وسعت اور قرآن و حدیث سے والہانہ تعلق کی زندہ مثالیں نظر آتیں ہیں۔عوامی تاثر کے حوالے سے موصوف انتہائی بااخلاق،ملنسار اور سلام کو رائج کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔اسیری کے زمانے میں آپ کا تعلق معروف عالم دین ادارۂ دعوۃ القرآن کے بانی اور تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا شمس پیر زادہؒ سے قائم ہوگیا جو خود بھی آپ کیساتھ اس وقت پابندِسلاسل تھے۔آپ نے مولانا محترمؒ سے خوب علمی،روحانی و اصلاحی استفادہ کیا۔آپ کی فکری تربیت اور دینی نشوونما میں مرحوم مولانا عبدالقیوم قادری کا غیر معمولی کردار رہا۔آپ نےاپنی زندگی میں بے شمار مشاہرین و اکابرین  سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور خوب فیض حاصل کیا۔آپ عملی سرگرمیوں میں مولانامرحوم عبدالقیوم قادری  ایڈوکیٹ عبدالمجید،ڈاکٹر بدر الدین، بشیرالدین شاکؔر بنے خانصاحب اور دیگر اہم شخصیات سے کافی مرعوب و متاثر رہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل و نمونہ بنایا۔آپ کی مختلف شعبۂ جات میں انجام دی گئی نمایاں سرگرمیوں میں موصوف کے قابلِ ذکر رفقاء کار امان اللہ خان عرف پاپا خان ،شاہ عالم خان،،عباس خان،نظام الدین نازؔوغیرہ اہم شخصیات شامل ہیں۔ 
                        ☆پیغامِ عمل☆
اللہ تبارک و تعالی کسی متنفس پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ہم اپنے تمام معاملاتِ زندگی میں اللہ و رسول ﷺ کی کامل پیروی کو اختیار کریں۔نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہے وہ اپنی حیثیت،حقیقت اور مقام و عظمت کو پہچانتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں۔برادران وطن میں دینِ اسلام سے متعلق پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی عملا دعوتی و اصلاحی کوششیں کریں۔مسلمان بطورخاص نوجوان اپنے اندر سیاسی بصیرت پیدا کریں۔جذباتی نعروں اور بھڑکیلے بیان بازی سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ملک و ملت کی سالمیت امن و ترقی کیلئے آمادگی پیدا کریں۔
اس شعر کی مصداق اپنی شخصیت کو نکھاریں۔؂
یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتحِ عالم!
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں!

اللہ رب العزت محترم اقبال پاشاہ صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین

(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)

✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
               عامـــرفہـــیم راہـــیؔ
                 📱8329953822

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب