قسط6 گمنام قلمکار شاعر ادیب مترجم م۔ع باسط
﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
مستقل تعارفی سیریز٭قسط6
☆روشــــن چــــــراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
آج کے خصوصی مہمان
عالیجناب م۔ع باسط صاحب
تاریخ گواہ ہے ہر دور میں انسانی سماج کا یہ خاصہ رہا ہیکہ نادر و نایاب شخصیات اپنی طبیعت میں سادگی،بےاعتنائی اور بے نیازی و تنہائی پسندی کی وجہ سے فراموش کردی گئی ہیں۔سماجی بے توجہی کی اور بھی بہت ساری وجوہات گنوائی جاسکتی ہیں تاہم فنکار کی زندگی چاہے کتنی ہی ہنگامہ آرائیوں سے متاثر ہو اور اسے فراموش کردیا گیا ہو۔لیکن اس کا فن لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہتا ہیں۔لوگ اسے شخصی طر پر بھول جانے کے بعد بھی اس کی خدمات سے اسے یاد رکھتے ہیں۔
معززقارئین۔۔! آج ہم آپ کو ایک ایسے فنکار سے ملانے جارہے ہیں جس نے شہرِجالنہ کا نام پورے ملک میں روشن کیا اور اپنی قلمی کاوشوں کے ذریعہ ملک بھر میں شہرجالنہ کو متعارف کرواتے اور قلمی نمائندگی کا حق ادا کرتے رہیں۔لیکن آج بدقسمتی ہیکہ حالات کی ستم ظریفی اور سماج کی بے توجہی کے نتیجہ میں بدترین اذیت ناک زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔جو سب کے درمیان ہوکر بھی گوشۂ تنہائی میں مقید ہے۔جو بولناجانتا ہے لیکن لوگ اسے سننا نہیں چاہتے۔جو جشنِ غمِ حیات میں مگن ہے۔جس کی زندگی میں جوانی کے ایام تابانی و جانفشانی سے گذرے۔ سکون،اطمینان،عزت،شہرت اور ناموری نے بڑھ کر قدم بوسی کی لیکن طبیعت کے لاابالی پن اور شانِ بے نیازی نے سب کچھ گویا ٹھوکر سے اڑا دیا۔مزاج کی سادگی نے اپنوں سے زخم لگوائیں۔اور آج وہ شخص جو ملک کے نامور معتبر اور موثر رسائل،جرائد اور اخبارات کی زینت بنتا رہا۔تنہائی بے بسی اور زمانے کی عطا کردہ بے توجہی اور خود فراموشی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔نسلِ نو جس کی خدمات تو کیا نام سے بھی متعارف نہیں ہیں۔
قارئینِ محترم۔۔!
م۔ع باسط کا مکمل نام محمد عبدالباسط خان ابنِ محمد عبدالمجید خان ہے۔آپ کی پیدائش ریاستِ دکن کی راجدھانی شہرِحیدرآباد (آندھراپردیش)کے محلہ اعظم پورہ میں ۱۷ مارچ سن ۱۹۳۷ء کو ایک علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی۔آپ کے والد محکمۂ تعلیمات میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔بنیادی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی۔سٹی کالج آف حیدرآباد سے میٹرک میں نمایا کامیابی حاصل کرنے بعد خراب معاشی حالات کی وجہ سے باقاعدہ طور پر تعلیم جاری نہ رہ سکی۔اس دوران معاشی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مختلف تجارتی و ملازمتی تجربات حاصل کئے۔دس سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ تعلیم سے منسلک ہوگئے اور ۱۹۶۳ میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔سن ۱۹۶۲ء میں ملازمت کے سلسلہ میں شہر جالنہ پہنچے اور جالنہ کو اپنے وطنِ ثانی کے طور پر منتخب کرلیا۔ملازمت کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔۱۹۶۷ء میں مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیا۔بتدریج ۱۹۷۹ء میں کالج آف ایجوکیشن سے اردو لٹریچر میں ایم۔اے اور بی۔ایڈ کیا۔ یوں تو زمانۂ طالب علمی ہی سے ادبی ذوق کے تحت کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔ لیکن ان کی اشاعت کا سلسلہ سن 1955ء سے باقاعدہ شروع ہوا۔ چونکہ ابتدا ہی سے ان کا یہ ماننا تھا کہ اردو زبان محض شاعری و ادب کی زبان نہیں ہے۔اس زبان میں حالات حاضرہ کے جدید تقاضوں کے پورا کرنے کی ناصرف صلاحیت ہے بلکہ غیرمعمولی طاقت اور تاثیر بھی ہیں۔ لہذا موصوف نے شعر و ادب کے علاوہ اردو کی صحیح خدمت کے جذبہ سے ایک خاص مقصد کے تحت کام شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ اردو زبان میں ان موضوعات پر مضامین کا اضافہ کریں جن کی اردو میں کمی ہے اس لیے انہوں نے مختلف سائنسی اور دیگر علمی موضوعات پر لکھے ہوئے انگریزی مضامین کا ترجمہ شروع کیا انھوں نے سائنس اور دیگر مرقع علمی مضامین پر سینکڑوں ترجمے کیے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ ترجموں کے ذریعے اردو زبان میں خیالات کے اظہار کے لیے نئے اسالیب اور نئے موضوعات کا اضافہ کیا جاسکتا ہے اور زبان کو صحیح معنوں میں وسعت دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہماری زبان میں سائنسی موضوعات پر عام فہم مضامین کی بے حد کمی ہے موجودہ دور چونکہ سائنٹیفک دور ہیں سائنس سے عوام کی دلچسپی روزافزوں بڑھتی جارہی ہیں اور ہمارا معاشرہ سائنٹیفیک ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اگر ہماری زبان میں سائنسی اور ٹیکنیکل خیالات کو ادا کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو سکے تو ہماری زبان معاشرے کی ترجمانی اور ضروریات پوری کرنے کے ناقابل ہونے کی وجہ سے ایک دن ازکارِرفتہ ہو جائیں گی۔م۔ع باسط قنوطیت کے حامل اس خیال کی سختی کے ساتھ تردید کرتے ہیں کہ اردو زبان میں سائنسی اور علمی زبان بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ان کا یہ احساس ہے کہ اردو زبان میں سائنسی اور ٹیکنیکل اور علمی زبان بننے کی صلاحیت ہندوستان کی دوسری تمام زبانوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے انہی احساسات اور ایقان کے تحت مختلف مرصع سائنسی مضامین کے انگریزی سے اردو میں ترجمے کئے۔تاکہ سائنٹیفیک مضامین کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ موصوف کے سائنسی موضوعات پرکئےگئےوقیع تراجم میں قابل ذکر یہ ہیں۔۔
سائنٹیفک نقطۂ نظر۔ سائنس بیمار آرٹ کی معالج، سائنس ماضی کی کھوج میں، سائنس آب حیات کی تلاش میں، پربت پربت اڑنے والے پرندے،مصنوعی سیارے،راکٹ،پانی کو محفوظ کرنے کا مسئلہ،لاشوں کے بیوپاری،دنیا تباہی کے دہانے پر، مشتری پر کمند،زمین کا قیدی، ستاروں کی کہانیاں، ستاروں کا جنم،ستاروں کا جنم اور موت، چاند کی مٹی اور چٹانیں، انسان کے قدم مریخ پر،زہرہ انسان کی اگلی منزل وغیرہ وغیرہ ان کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی انہوں نے کچھ ترجمے کیے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں شمالی ریہوڈیشیاء،جانوروں پر موسیقی کا اثر، دنیا کی عظیم ترین دیوار،طلاق دنیا کی نظر میں،دسترخوان پر گفتگو، جمہوریت کے لئے سازگار حالات، صدر جمہوریہ کے ہنگامی اختیارات، ہندوستانی پارلیمنٹ کے اختیارات، جمہوریت اور قدیم مشرقی ممالک،قدیم وحشی قبائل،ہم کیا اور کیوں ہیں، شمالی نائجیریا،جنتری کی کہانی،حیرت انگیز کلب، موسیقار اعظم،فن لینڈ میں تھیٹر کا ارتقاء، بنگالی لوک کہانی،تامل ادب میں نئے رجحانات بقول پریم چند، شکسپیر اور اس کے ہم عصر وغیرہ شامل ہیں مندرجہ بالا تراجم اور مضامین حسب ذیل رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔۔
ماہنامہ بانو دہلی، شبستان ڈائجسٹ، ہما ڈائجسٹ، محراب ڈائجسٹ،شفا ڈائجسٹ، ماہنامہ تخلیق دہلی، ماہنامہ علم و دانش کشمیر، ماہنامہ معمار پٹنہ، ماہنامہ عزم بھوپال، آذر بھوپال، ماہنامہ پیکر حیدرآباد، ماہنامہ پونم حیدرآباد،صبح امید بمبئی، ماہنامہ ارشاد حیدرآباد، واقعات دہلی،حالات ناندیڑ، ہفتہ وار پیام مشرق رامپور،ایشیا دہلی، ہفتہ وار دور حیات بمبئی، ہفتہ وار شعور حیدرآباد،روزنامہ انقلاب، اردو ٹائمز، خلافت بمبئی، روزنامہ ملاپ، رہنمائے دکن، قیام، انگارے، صداقت،ہمارا اقدام حیدرآباد، روزنامہ ملک وملت، سہ روزہ دعوت دہلی، ماہنامہ تجلی دیوبند، اردو رپورٹر دہلی، آج اورنگ آباد،الحسنات رامپور وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔آپ کے مضامین،تراجم اور کتابوں پر ملک کے نامور اور معتبر رسائل جرائد اور اخبارات میں کئی زبردست مبصرین کے شاہکار تبصرے شائع ہوچکیں ہیں۔موصوف بہترین مترجم کے علاوہ با کمال شاعر خوش فکر افسانہ نگار زبردست نثرنگار اور بیشتر کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔آپ کی مخلتف مرصع موضوعات پر ۴ وقیع کتابیں شائع ہوکر مقبولِ عام و خاص ہوچکی ہیں۔جن کا تعارف درج ذیل ہیں۔
۱)اردو کی ترقی میں ہمارا حصہ
۲) کلنکنی پراسرار ناول
۳) ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کا حصہ۔
۴) سائنس اور نئی راہیں۔
برِصغیر میں اردو ادب کی سب سے معروف و معتبر انٹرنیٹ ویب سائٹ ریختہ پر آپ کی کتابوں کو محفوظ کیا جاچکا ہیں۔ مذکورہ بالا *سائنس اور نئی راہیں* کتاب پر موصوف کو ِبہاراردو اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہیں۔
آپ کے دسیوں دلچسپ افسانے اور سائنسی مضامین آکاشوانی اورنگ آباد اور ریڈیو اسٹیشن حیدرآباد سے نشر ہوچکے ہیں۔عموما" ایک اچھا ادیب و نثرنگار بہترین شاعر نہیں سمجھاجاتا ہے لیکن موصوف نے شاعری کے فن میں غیرمعمولی پختگی پیدا کی ہے۔ آپ کی دسیوں غزلیں،نظمیں اور افسانچے و ادبی شہ پارے اخبارات و ادبی جرائد کی زینت بن چکے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے ان شعری نگارشات کو محفوظ کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔
موصوف جہاں نسلِ نو کو اردو زبان سے جوڑنے کے لئے جدید سائنسی اور تحقیقی بیساکھیوں کا سہارا لیکر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں وہی پر اپنی شاعری میں تہذیبِ جدید سے سخت نالاں وخائف مشرقی تہذیب کے محافظ و علمبردار محسوس ہوتے ہیں۔آپ کے یہ اشعار اس بات کی بھرپور تائید و نمائندگی کرتے ہیں۔
*تہذیب و تمدن کے مناظر کا ہے حصہ۔!
*چوراہے پہ ایک شخص کی جو لاش پڑی ہے!
*عریانی کو دیتی ہے وہ فیشن کا نیا نام۔!
*بے شرم ہے بے شرمی پہ دنیا یہ اڑی ہے۔!
گویا آپ کا پیغام نسل نو کےلئے یہ ہے کہ ہم تہذیبِ جدید سے مرعوب ہو کر اپنی حقیقت کو ماؤف نہ ہونے دیں اپنے اندر احساسِ کمتری اورمرعوبیت پیدا نہ ہونے دیں بلکہ حالات کے جدید تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے لئے مسائل کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کریں اور اپنی تہذیب اور زبان کو جدید تقاضوں کے حل کی نمائندگی کے لئے آمادہ و تیار کریں۔
آپ ۱۹۶۳ء میں درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوئے۔ملٹی پرپز ہائی اسکول قدیم جالنہ میں ۱۸ سال بھوکردن ضلع پریشد ہائی اسکول میں ۶ سال اور جعفرآباد میں ۸ سال ایک بہترین اور مثالی معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔آپ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔آپ کے شاگردوں کی فہرست میں مشاہرین جالنہ میں قابلِ ذکر محترم اقبال پاشاہ صاحب، شفیع موسی سر ریٹائرڈ ایجوکیشن آفیسر،پروفیسر عبدالرحیم ارمان سمیت دیگر علمی و سیاسی شخصیات قابلِ ذکر ہی۔تاحال آپ کا قیام پینشن پورہ نیا جالنہ میں ہیں۔
اللہ رب العزت محترم م ع باسط صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔دنیوی سکون و اخروی راحت و مغفرت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
عامـــرفہـــیم راہـــیؔ
📱8329953822
بہترین کوشش
جواب دیںحذف کریںاگر صاحب صاحب خاکہ کی نثری یا شعری کاوشوں کو بھی بطور نمونہ پیش کیا جاتا تو اور بہتر تھا