جو ‏بادہ ‏کش ‏تھے ‏پرانے،وہ ‏اٹھتے ‏جاتے ‏ہیں!شہرجالنہ ‏کی ‏ہردلعزیزشخصیت محترم عبدالغفار مجاہد ‏صاحب ‏کے ‏سانحۂ ‏ارتحال ‏پر ‏لکھی ‏گئی ‏تعزیتی ‏و ‏تعارفی ‏سطور۔۔۔

جو بادہ کش تھے پُرانے، وہ اُٹھتے جاتے ہیں..!
_____________________________________
✍🏻عامرفہیم راہی

آہ محترم عبدالغفار مجاہد صاحب عرف "چچا" داغِ مفارقت دے گئے۔۔۔دراز قد،بلند قامت، چوڑی پیشانی،گرجدار آواز،رعب دار شخصیت،تصنع و تکلف سے بے نیاز،چالاکی و چالبازی سے مستثنی،پاک دل،صاف زبان لاگ و لپیٹ سے عاری،ٹھیٹ و کرخت لہجہ،حق گو بیباک،مزاج اور طبیعت کے نہایت سادہ عبدالغفار چچا دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ویسے تو دنیا میں ہر کوئی جانے کے لئے ہی آیا ہے لیکن بعض لوگ جانے کے بعد بھی اپنی شخصیت و کردار کے انمٹ تابندہ نقوش لوگوں کے ذہنوں پر چھوڑ جاتے ہیں جن کے غیرمعمولی اثرات دیر تک محسوس کئے جاتے ہیں۔انہیں میں سے ایک غفارچچا بھی تھے۔بقول مولانا راہی شریفیؔ؂
کام وہ کر جا جہاں میں،کام کر جانے کے بعد!
ایک مدت تک رہے تؤ یاد مرجانے کے بعد!

آپ کی شخصیت میں بلا کی جاذبیت کشش اور اثر انگیزی تھی جو ہر ملنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔مرحوم سے شناسائی والدِمحترم کے توسط سے بچپن ہی سے تھی(ابو سے غفارچچا کے بے تکلف یارانہ تعلقات تھے) تاہم نورشاہ مسجد بس اسٹینڈ میں جہاں کے آپ روحِ رواں تھے۔چند مہینے امامت کے دوران آپ کو قریب سے دیکھنے پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا،مرحوم کی دینی ملی اور تحریکی خدمات کو دیکھتے ہوئے تعارفی سیریز میں آپ کا نام شامل کیاگیا اس سلسلہ میں باضابطہ ملاقات ہوئی پوری سیریز کا تعارف کرایا گیا۔آپ نے نہایت خوشی اور پسندیدگی کا اظہار کیا دعاؤں سے نوازا،لیکن خود اپنی بےمائیگی کا اظہار کرتے ہوئے تعارف دینے سے انکار کرتے رہے میرے بہت زیادہ اصرار پر بادل ناخواستہ ذہن پر زور دیتے ہوئے جہاں جہاں سے جو یاد آرہا تھا بتاتے گئے۔موصوف کا مختصر تعارف پیش خدمت ہیں۔
آپ کی پیدائش سن ۱۹۳۶ء کو سندکھیڑراجہ کے ایک غریب مزدور زراعت پیشہ خاندان میں ہوئی۔ناخواندہ سماج میں تعلیم کوئی اہمیت نہیں رکھتی چنانچہ خواہش کے باوجود معاشی حالات کی وجہ سے بنیادی تعلیم چہارم جماعت تک ہی حاصل کرسکیں۔معاشی مسائل کی یکسوئی کے لئے والد صاحب نے پورے خاندان سمیت جالنہ میں نقل مکانی کر مستقل سکونت اختیار کرلی۔آپ نے زندگی میں مختلف تلخ و ترش حالات کا سامنا بہادری و جوانمردی سے کیا۔ موصوف کو جسمانی صحت و تندرستی کی وجہ سے سن ۱۹۶۰ء میں فوج میں بھرتی کیاگیا جہاں تقریبا ۲ سال آپ نے ملک کی خدمت پوری ایمانداری دیانتداری اور بہادری سے انجام دی تاہم طبیعت میں راسخ دینی حمیت اور ایمانی غیرت نے دینی معمولات میں یکسوئی نا ملنے اور شعائر سے روکے جانے سے برداشتہ خاطر ہوکر نوکری سے دستبرداری اختیار کرلی۔وہاں سے لوٹ کر آپ نے شہر میں دینی ملی تحریکی سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔موصوف ضلع جالنہ میں جماعت اسلامی کے صف اول کے رہنما تھے۔جماعت کی توسیع و استحکام اور علمی فکری دعوتی و تحریکی سرگرمیوں نیز خدمت خلق کے کاموں کو پورے ضلع میں متعارف کروانے میں مولانا عبدالقیوم قادری صاحب تاج محمد خان صاحب سمیت آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔شہر جالنہ کی مختلف مساجد پر غیر قانونی طریقے سے غیروں نے قبضے جمارکھے تھے مساجد کی بازآبادکاری میں موصوف کا اہم کردار رہا خصوصا شہر کے قلب میں واقع نورشاہ مسجد بس اسٹینڈ کی بازآبادکاری میں موصوف نے اپنے جانثار رفقاء جناب مرحوم محمد صاحب میکانک الحاج سید کوثر صاحب سمیت دیگر نے اہم رول ادا کیا اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں صعوبتوں دشواریوں کا بےجگری سے مقابلہ کرتے ہوئے دھمکیوں جھوٹے الزامات یہاں تک کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا تک قبول کیا لیکن کسی قسم کی مفاہمت گوارہ نہیں کیں،عزم و استقامت کیساتھ مضبوطی سے ڈٹے رہیں بالآخر طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد مسجد کو دوبارہ آباد کیا نورشاہ مسجد میں آپ کا وجود صدا بہار تھا آپ حکمت کے گُر سے خوب واقف تھے لحاظہ وہیں پر لوگ جوق در جوق آپ کے پاس اپنی بیماریوں کا علاج کروانے آتے موصوف نایاب نسخے دوائیاں وضع کرتے یا بہترین متبادل رائے مشورے دے کر رخصت کردیتے۔رمضان کے مہینے میں نورشاہ مسجد کی افطاری اور طاق راتوں کا اہتمام پورے شہر میں گفتگوں کا موضوع بنا رہتا ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ پورے مہینے میں ایک افطار یا سحری نورشاہ مسجد میں ہوجائے جس کی صرف ایک ہی وجہ تھی اور وہ تھے غفار چچا۔۔۔آپ کا حسن انتظام،مہمانوں کی خاطر تواضع،دل کھول کر کھانے کھلانے کا مزاج،گرجدار آواز میں چیخ و پکار ڈانٹ ڈپٹ جس میں شفقت محبت اور اپنائیت کا بے پناہ احساس غیر معروف شخص کو بھی مانوس کرنے اور گرویدہ بنالینے کے لئے کافی تھا۔۔۔جالنہ میں پولس ایکشن کے بعد طویل عرصہ تک چھوٹے موٹے فساد رونما ہوتے رہتے جن میں مسلمانوں کو تختۂ مشق بنایا جاتا مجموعی طور پر ڈر خوف احساس کمتری نفسیاتی کیفیات عوام الناس میں درآئیں تھی آپ نے نوجوانوں کو جوڑ کر میدانی اور قانونی مزاحمت کا حوصلہ دیا جس کے نتیجہ میں طویل عرصہ سے جاری جارحیت کا سدِباب ممکن ہوسکا۔
آپ طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے طبیعت میں بگاڑ سدھار چلتا رہتا لیکن جب بھی ملتے تپاک سے ملتے آپ حقیقت میں اقامت دین کے بے لوث سپاہی،دینی ملی دعوتی سرگرمیوں کے بے ضرر خادم،اور دین محمدی کے وفادار سپاہی اور مردِ مجاہد تھے۔آپ کو دیکھ کر اک نیا عزم حوصلہ امنگ اور ولولہ پیدا ہوتا۔مایوسی اور احساس کمتری کی باتوں سے موصوف کو سخت نفرت اور شدیدکوفت تھی جس کا مجھے بخوبی تجربہ اور مشاہدہ ہے۔بہرحال من جملہ بہت سی خوبیاں تھی مرنے والے میں،بقول سکندرعلی وجدؔ؂
جانے والے کبھی نہیں آتے!
جانے والوں کی یاد آتی ہے!

اللہ مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے مرحوم کی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اخروی نجات کا ذریعہ بنائے۔لواحقین کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔
نوٹ:چند سطور میں تمام ہی کارہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتا طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیا گیا ہے۔

تبصرے

  1. ماشاءاللہ
    تحریر بھی خوب اور جس کا تعارف کرا رہے ہو وہ آدمی بھی خوب.
    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

    جواب دیںحذف کریں
  2. الله لواحقین کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی
    کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. माशाअल्लाह, बहुत ही उमदा हैं आपकी ताज़ीअति तहरीर , आपने बहुत ही अच्छे अंदाज मैं दाई हक़ मरहूम अब्दुल गफ्फार साहब चाचा k बारे मैं, जीन बातों से तारूफ कराये, यक़ीनन मरहूम एक गैर मामूली सख्शियत के अलम बरदार रहें, तहरीक़ इस्लामी के इब्तेदाई दौर मैं दाईयाना किरदार निभाना, नूर शाह मस्जिद, फ़सादाद, नौजवानों को तैयार करना ओर दिगर उमूर पर खास काम करना, आज हम नौजवानों, s i o, के लिए माशअले राह हैं,
    अल्लाह रब उल आलमीन से दुआ हैं मरहूम अब्दुल गफ्फार साहब चाचा की **मगफिरत फरमाए उनकी क़ब्र को जन्नत की खुशबु से मुन्न्वर, रोशन फ़रमाए, खानदान के सभी अफ़राद को सब्र जमील अता करें आमीन**.

    **अल्लाह से दुआ हैं आपकी तहरीर मै, अल्फाज़ के समंदर मैं ओर गहराई अता करें, तहरीक़ इस्लामी के लिए मज़ीद
    कारगर हों**

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آمین یا رب العالمین جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء کل یوم القیامۃ محترم!بہتر ہوگا کمینٹ کیساتھ اپنا نام بھی درج کردیں۔

      حذف کریں
  4. اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے آمین 🤲 اس تعزیت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اجر عظیم عطا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  5. ماشااللہ محترم
    اللہ تعالی آپ کی صلاحیتوں میں اضافہ عطا فرمائے اور آپ کو نذر بد سے بچائے ۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء کل یوم القیامۃ محترم آمین یا رب العالمین

      حذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب