سازش اور سازشی نظریات کی حقیقت۔۔✍محترم عمر فراہی کی قلم سے
سازش اور سازشی نظریات کی حقیقت
✍عمر فراھی
وہ کہہ رہا تھا کہ مسلمان جاہل ہے نااہل ہے اور شکست خوردہ ذہنیت کا مالک ہے۔ایک سے زائد شادیوں کی بات کرتا ہے ۔کثرت سے بچے پیدا کرتا ہے پان کھاتا ہے اور گندگی کرتا ہے ۔ ہر معاملے میں اسے اپنے خلاف اہل مغرب , یہود و نصارٰی اور آرایس ایس کی سازش نظر آتی ہے جبکہ دنیا میں سب کچھ قدرت کےطئے شدہ منصوبے کے تحت ہو رہا ہے ۔جو بھی علم و ہنر میں مہارت حاصل کرکے جدوجہد کرے گا وہ آگے بڑھے گا ۔پھر اس نے علامہ کا شعر پڑھا کہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اتفاق سے میں اس عقلیت پسند اور مغرب نواز مسلمان کی محفل میں اچانک پہنچ گیا ۔میں نے کہا بھائی ماشاءاللہ سر سید اور ان کے ساتھی بہت پہلے ہی قوم کے پنچانوے فیصد لوگوں کو مدرسوں سےجدید مکتب کی طرف منتقل کر چکے ہیں۔ لیکن سو سالہ اس تحریک سے مسلمانوں میں جو تبدیلی کا بہت بڑا فرق دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ پہلے انپڑھ کو جاہل سمجھا جاتا تھا اب کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے جاہلوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔پہلے جو بھی علم تھاوہ انسانوں میں تہذیب و تمدن اخلاصِ اور اخلاق کے معیار کو بلند کرتا تھا اب مغربی نصاب نے انسانوں میں ریاکاری تکبر اور مسابقت کا زہر بھر دیا ہے ۔سرسید اور ابوالکلام آزاد کو اگر پتہ ہوتا کہ جس سیکولر نصاب کی انہوں نے وکالت کی ہے اس تعلیم سے نئی نسل میں سرسید اور ابوالکلام کبھی نہیں پیدا ہوں گے تو یقیناً وہ اسی وقت توبہ کرلیتے مگر ہر کوئی اقبال کی طرح پروفیسر نہیں ہوسکتا جنھوں نے ایک بار کہا تھا کہ اقبال ہمیشہ دیر سے ہی آتا ہے !
یہ حقیقت ہے کہ جن ماؤں نے سرسید ابوالکلام اور اقبال کو پیدا کیا تھا اور بغیر کسی یونیورسٹی اور کالج کی تعلیم سے ان شخصیات کے اندر ترقی کی یہ سوچ پیدا ہوئی تھی ان ماؤں نے کبھی کسی کالج اور یونیورسٹی کا منھ تک نہیں دیکھا تھا ۔جس مولوی سے سر سید نے استفادہ حاصل کیا تھا اور جو مولوی شبلی اور حمیدالدین فراھی کا بھی استاد تھااس کا نام مولوی فاروق چریاکوٹی ہے۔اس مولوی کی تعلیم بھی کسی کالج اور یونیورسٹی سے نہیں ہوئی تھی ۔خود سر سید کی جدوجہد سے جو ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی کا وجود عمل میں آیا یا شبلی فراہی اور ابوالکلام نے دینی اور سیاسی ادارے قائم کئے بعد میں ان اداروں سے ایک بھی سرسید شبلی آزاد حالی اور فراہی کے قد کی شخصیتیں نہیں پیدا ہوئیں ۔ آپ پوچھیں گے کہ وجہ !
وجہ یہ ہے کہ تہذیب و تمدن اور اقدار کی نشوونما اور شخصیتوں کی شناخت اخلاق سے ہوتی ہے ڈگری سے نہیں ۔بدقسمتی سے جدید لادینی سیاسی اور تعلیمی نظام میں شخصیتوں کو ڈگری سے پہچانا جاتا ہے اخلاق سے نہیں ۔نتیجتا اس جدید تعلیم اور سند یافتہ طبقے نے پورے کرہ ارض کو بارود کے ڈھیر پر لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔
میں نے کہا لیکن آپ کس بات پر مسلمانوں کو جاہل کہہ رہے ہیں اور مسلمان کیسی سازش کی بات کر رہا ہے ؟
اس نے کہا اب یہی دیکھو نا ہر جگہ کرونا سے لوگ مر رہے ہیں اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈ کھالی نہیں ہیں اور شمسان گھاٹ میں جلانے کیلئے لاشیں قطار میں رکھی ہوئی ہیں اور مسلمان کہتا ہے کہ کرونا ورونا کچھ نہیں ہے یہ سب میڈیا اور سیاستدانوں کا پروپگنڈہ ہے اور یہ لوگ بلگٹس اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔بھلا بتائیں سرکار دیس کا اتنا بڑا نقصان کرکے عوام کے ساتھ کھیلواڑ کیوں کرےگی؟
میں نے کہا ہاں بھائی تمہاری بات سو فیصد درست ہے اب یہی دیکھو نہ لداخ میں بھارت چین کی سرحد پر صرف ایک جھڑپ ہوئی جس میں بیس بھارتی فوجی مرے تو چالیس چین کے فوجی بھی تو مرے اور اس جھڑپ سے چین کو بھارت کی طاقت کا بھی اندازہ ہو گیا ہے۔چینی فوجی جس طرح ڈر کر واپس چلے گئے ہیں وہ دوبارہ کبھی گھسپیٹ کی سوچیں گے بھی نہیں۔ پھر بھی سرکار مخالف میڈیا نے زبردست طریقے سے پر پگنڈہ کیا کہ چین کی فوجوں نے کئی کلو میٹر اندر آکر گلوان گھاٹی پر قبضہ کر لیاہے ۔
وہ ترقی پسند مسلمان میری بات سن کر حیرت سے دیکھنے لگا اور کہتا ہے کہ بھائی کیسی بات کر رہے ہیں آپ ۔چین نے حقیقت میں گلوان گھائی پر قبضہ کر لیا ہے ۔میں نے کہا بھائی آپ کو کون یہ جھوٹی خبر دے رہا ہے ۔کیا آپ کو وزیراعظم کی باتوں کا یقین نہیں ہے ۔آخر آپ سرکار اور سرکاری میڈیا کی بات کیوں نہیں مانتے ۔کہنے لگا بھائی یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔میں نے کہا پھر یہ لوگ کرونا کے بارے میں سچ کیسے بول سکتے ہیں ؟
میں نے کہا چلو چھوڑو یہ بتاؤ2001 میں امریکہ میی 9/11 کے حادثے کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟کیسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تین عمارتیں زمین بوس ہو گئیں ؟اس نے جھٹ سے کہا یہ یہودیوں کی سازش تھی ۔میں نے کہا زبردستی بے چارے یہودیوں کو کیوں بدنام کررہے ہو ۔کیا یہودی کن فیکون کی طاقت رکھتا ہے ۔کبھی غور سے سوچیں کہ ایک سو دس منزلہ وہ عمارت جو دس لاکھ ملین مربع فٹ زمین پر پھیلی ہوئی تھی صرف چالیس منٹ میں ایک ساتھ زمین بوس کیسے ہو سکتی ہے !!!۔۔۔یعنی عمارت کے ہر منزلے کو پگھلنے میں صرف چالیس سیکنڈ لگے ۔کیا دنیا میں ابھی تک کوئی ایسا کیمیکل ایجاد ہوا ہے جو چالیس سیکنڈ میں لوہے اور کنکریٹ کی عمارت کو راکھ میں تبدیل کردے !!؟
میں نے کہا سارا مغربی میڈیا اور امریکی سرکاری ادارے تو بن لادن کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہہ رہے ہیں جو کبھی اقبال نے کہا تھا کہ
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری ,نفس مرا شعلہ بار ہوگا
پھر وہ بول پڑا بھائی آپ تو عجیب مخلوق لگ رہے ہیں ۔سب الٹی بات کر رہے ہیں ۔میں نے کہا بھائی میں سب وہی بات کر رہا ہوں جو آپ جیسے لبرل عقلیت پسندوں کی سوچ ہے یا چند صہیونی مخالف قلمکاروں کو چھوڑ کر یوروپ کے تمام سرکاری ادارے جس میں اقوام متحدہ بھی شامل ہےاعتراف کر چکے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی لادن اور ان کے ساتھیوں کے خود کش حملے کی وجہ سے ہی ہوئی ہے ۔یہ بات میں بھی مانتا ہوں کہ اس عمارت کی تباہی صرف طیاروں کے ٹکرانے سے ناممکن ہے لیکن آپ جس صہیونی سازش کی بات کر رہے ہیں آخر انہوں نے 67 ایکڑ مربع فٹ کے ہر منزلے پر کتنے ہزار ٹن بارود رکھے ہوں گے کہ ہر منزلے کو پگھلنے میں صرف تیس یا چالیس سیکنڈ لگے !! آخر سی سی ٹی وی کیمرے کیا کرہے تھے اور ایک سو دس منزلہ عمارت میں بارود رکھنے میں بھی کتنے دن لگے ہوں گے ۔کیا امریکی انٹلیجنس سو رہی تھی ۔یہ کام دو ہی صورت میں ممکن ہے ۔یا تو دجال کے چھوڑے ہوئے قبیلے نے اپنی غیبی طاقت کا مظاہرہ کیا جیسا کہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے بے موسم کی بارش کروانے کا اختیار ہو گا یا پھر اس حادثے میں لادن اور ان کے ساتھیوں کی مدد اس غیبی طاقت نے کی جسے لادن اور ان کے ساتھی پوجتے ہیں ۔
لیکن لادن تو دہشت گرد تھا خدا اس کی مدد کیسے کرسکتا ہے ۔ہے نا !
بے چارہ ترقی پسند مسلمان تلملاکر کہنے لگا کہ میں تو اس میں امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہی مانتا ہوں ۔میں نے کہا میں بھی آپ سے یہی کہلوانا چاہتا تھا کہ آپ سازشی نظریے کا اعتراف کر لیں اور آپ نے اعتراف کر لیا کہ مغرب اور یہود و نصارٰی سازشیں کرتے ہیں ۔۔اب یہ بھی مان لیں کہ جو لوگ 67 ایکز مربع زمین پر پھیلی ایک سو دس منزلہ عمارت کو کیمیکل حملے کے ذریعے پینتیس منٹ میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتے ہیں ان کیلئے میڈیائی پروپگنڈہ ,میڈیا وار اور دنیا کے انسانوں پر بایو لوجیکل حملہ کرنا اور وائیرس چھوڑنا تو نہایت ہی آسان ہے ۔
ماشاء اللہ۔۔۔
جواب دیںحذف کریںبہت شاندار جاندار تحریر
جواب دیںحذف کریں