بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔۔
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔۔!
ہمارے دل گردے کے قریبی عزیزم معصوم علی شرارتی ثم بغاوتی کا تعارف آپکو کرادینا مناسب سمجھتا ہوں۔معصوم علی شرارتی پست قد،گارولی آنکھیں،چھوٹی سی توند آگے کو نکلی ہوئی،چہرے پر معصومیت لیکن اندرون سو فیصد شریر،دعوتِ طعام کے بے پناہ شوقین،دعوت کے تعلق سے موصوف کا اپنا ایک موقف ہے کہ دعوت چاہے کسی کی ہو اسکا پورا حق ادا کرنا چاہئے۔۔چاہےدشمن کے یہاں کیوں نا جانا پڑجائے۔جان جوکھم میں ڈالنا گوارا لیکن دعوت کا فوت کرنامحال۔۔اسی طرح موصوف کا ایک نمایا وصف یہ بھی ہیکہ موصوف بندۂ ناچیز کے حلقۂ بیعت و ارادت میں شامل ہے سخت مجاہدہ و ریاضت، تصوف و سلوک کے مرحلوں سے گذار کر ناچیز نے معصوم کو خلافت سونپی ہے۔۔لیکن مزاج میں کسی قدر ٹیڑھ پن کی وجہ سے لگام ہروقت اپنے ہی ہاتھ میں رکھنی پڑھتی ہے۔کیاپتہ کب ناک میں ہوا گھسےاور اپنے ہی پیرومرشد سے بغاوت کر بیٹھے۔۔۔بہرکیف ہم تصوف کی منزلوں میں کھوئے مراقبہ کی حالت میں مقام عبوثاقمطریرا کے حصول کے لئے روحانی ریاضت میں مصروف تھے کی معصوم علی شراتی وارد ہوئے۔۔اور پہلوں میں بڑے ہی ادب و احترام کیساتھ بیٹھ گئے۔۔تمباکو تھوکنے کی غرض سے جو آنکھیں کھولی تو معصوم کو پہلوں میں بیٹھا پایا۔۔۔ہم نے قدرے شفقت سے معصوم کی طرف نظر عنایت فرمائی اور خیریت دریافت کی۔۔معصوم گویاہوا۔۔۔کیا خاک خیریت علامہ۔معصوم کے لہجہ میں سختی اور آنکھوں میں غصہ دیکھ کر عاجز نے مراقبہ کو pending میں ڈالدیا۔اور پوری طرح متوجہ ہوکر گرجدار آواز میں معصوم سے خشک مزاجی کی وجہ معلوم کی۔۔معصوم نے ہمارے مرشدانہ جلال کو بھانپ لیا اور دبی سہمی حالت میں کپکپاتی آواز سے عرض کی حضور کیا کچھ ہورہا ہے آپ کے جیتے جی۔۔۔
میں سمجھا نہیں معصوم اطمینان کی سانس لو اور تفصیل بتاو کیا ہوا۔۔۔ہم نے قدرے غصہ کا اظہار کیا۔۔
حضور آپ دن رات موبائیل میں مصروف رہتے ہیں۔۔فیسبک اور واٹساپ سے آپکو خدا واسطہ کاتعلق ہے یہ تو ممکن نہیں کہ جو کچھ آج کل واٹساپ پر ہورہا ہے آپ اس سے ناواقف ہو۔۔۔میں نے بات کاٹی اور معصوم کو پیرانہ جلالی نگاہوں سے گھورا۔۔کیوں منطق ماررہے ہو کیابات ہوئی کھل کر کیوں نہیں بتاتے۔۔۔معصوم اپنے اندر دردوغم کی جو چنگاریا چھپاکر لایا تھا وہ شعلۂ جوالا بنکر پھٹ پڑی۔۔۔کیا آپ واقعی ناواقف ہے۔۔۔؟تو سنئے علامہ گذشتہ دنوں ہمارے علاقہ میں جو اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے خواتین کا پرامن احتجاجی جلوس اور تحفظ شریعت کانفرنس منعقد کی گئی تھی نا ۔۔میں نے اثبات میں اپنے سرمبارک کو جنبش دی۔۔۔اس کے بعد معصوم کے اندر کا مقرر جاگ اٹھا۔۔چہرے پرسرخ شوخی،خطیبانہ جلال،واعظانہ کمال۔۔معصوم نے تمباکو گھستے ہوئے اپنی بات شروع کی۔۔۔۔۔
۔الحمدللہ بہت خوشی کی بات ہیکہ اللہ کے فضل و کرم سے یہ عظیم الشان پروگرام بے پناہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوا۔ اس پروگرام کو کامیاب کرانے کے لئے جہاں انتھک محنت،لگن اور مخلصانہ جدوجہد کی گئی وہی پر دعائے نیم شب اور راتوں کی آہ وزاری بھی شامل رہی۔۔ایک طرح کا حسین و دلکش منظر نظروں کے سامنے دیکھنے کو ملا ہر مکتب فکر کا بندہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے فکرمند نظر آرہاتھا۔کم از کم ہم نے تو اس طرح کا ماحول اپنے شہر میں اس سے پہلے نہیں دیکھا۔کہ ملت کے ایک حساس مسئلہ کو حل کرانے اور تحفظ شریعت کے حوالے سے یہ فکرمندی ایمان کو جلاء بخشنے کا کام دے رہی تھی اور ایک خوش آئند مستقبل کی ضمانت بھی۔۔۔کہ اب ملت مجموعی طور پر بیدار ہوچکی ہیں۔ اتحادواتفاق،خلوص ومحبت کی فضا چارسو نظر آرہی تھی۔گویا جو بندہ جس شعبہ سے تعلق رکھتا ہو وہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی بساط بھر کوششوں میں مصروف نظر آیا۔۔۔گذشتہ دس پندرہ دنوں میں پورے شہر کا ماحول بدل گیا۔بات آئ گئ ہوگئ۔۔پروگرام کامیاب ہوا سبھی کو اس بات کی خوشی اورمسرت بھی ہوئی مبارکبادیاں دی جانے لگی۔۔۔میں جھنجلایا۔۔۔ارے خطیب کی اولاد کہنا کیا چاہتے ہو۔۔۔قطع کلامی سے معصوم بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑے۔۔،میاںوں میاںوں میاںوں شاید اپنے پیرومرشد کے سامنے شیر کی دہاڑ بلی کی میاںوں میں تبدیل ہوگئی۔۔لیکن پھر ایک بار معصوم اپنی والی پہ آگئے۔۔اس وقت چہرے پر جاہ و جلال کیساتھ حزن و ملال صاف نظر آرہا تھا۔۔اور تیور بھی اپنا رنگ دکھا رہے تھے۔۔۔گویا ہوئے۔۔۔
لیکن اسکے باوجود ملت کے ایک طبقہ کے چند اشرار جن کے دماغوں میں بڑائی کا گھمنڈ،مذہبی ٹھیکہ داری کا زعم باطل اور خود ساختہ چودھراہٹ کا بخار چڑھا ہوا ہے۔جو اللہ کے دین کو اپنے باپ کی جاگیر،اوراس سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں کو اپنے نام سے منسوب کروانے کے عادی ہوچکے ہیں۔۔۔جنہیں خود پسندی،خودنمائی،لیڈر شپ، اور مذہبی اجارہ داری کا بھرم ہیں۔۔ اور جو اپنے آپ کو عین حق کے علمبردار سمجھتے ہیں۔اور اپنے سے علاوہ کو باطل نظریات و عقائد رکھنے والے کافر زندیق گردانتے ہیں۔۔گذشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ان کے گروپ میں کی جانے والی زہرافشانی،مغلظات،اور انتہائی بدبودار تبصروں پر مبنی فوٹوں شاٹ نظروں کے سامنے سے گذری جس نے سارے ماحول کو متعفن کرکے رکھدیا۔۔۔ان ناخلف چغدوں کی ہرزہ سرائی اور دریدہ دہنی کی اصل تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس میں ان کا مفاد بری طرح سے مار کھا گیا تھا۔جونمایا ہونے کی چاہت اور قیادت کا کیڑا انکی *** میں متحرک رہتا ہے۔ وہ ساکت اور جامد ہوکر رہ گیا۔۔ میں نے زوردار ٹھپڑ رسید کیااور زور سے گرجا۔۔۔معصوم!!! تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔ کیا کیا بکے جارہے اور کس کے تعلق سے اتنی بیہودہ باتیں اپنی زبان سے نکال رہے ہو۔۔۔اب میرا پارہ سو ڈگری سے متجاوز ہورہا تھا معصوم کی باتوں نے مجھے پاگل کردیا۔۔۔وہ رسیدشدہ ٹھپڑ کی تاب نا لاکر دور جاگرا۔معصوم حسن ظن بھی کوئی چیز ہوتی ہے تم تو سارے حدود کو پھلانگ کر اپنی اوقات سے زیادہ باتیں کررہے ہو۔۔۔کہیں تمہارا اشارہ 'علماء حق اہل سنت والجماعت' کی طرف تو نہیں۔۔۔خداکا خوف پیدا کر ائے ناعاقبت اندیش انسان علماء کی توہین کا انجام جانتے ہو کیا ہوگا ہمارے دادے پیر فرماتے تھے کہ جو علمائے حق کی توہین کرتاہے اس کا منہ سیاہ ہوکررہ جاتا ہےاور قبر میں اسکا منہ قبلہ سے ہٹ جاتا ہے۔گرچہ کہ وہ کسی موقف میں غلط ہی کیو نا ہو تمہیں کوئی حق نہیں کہ اپنی کالی زبان سے ان کے بارے میں ایک لفظ گستاخی کا نکالے۔اگر اس قسم کی باتیں آئندہ تمہاری زبان سے نکلی تو ہم تمہیں اپنے حلقۂ ارادت سے موقوف کردینگے۔۔۔ہماری یہ دھمکی بری طرح فلاپ ہوگئی۔۔۔معصوم کی باتوں سے بغاوت کی مہک آرہی تھی ہماری دھمکی کی ذرہ برابر پرواہ کئے بغیر گال پر ہاتھ ملتے ہوئےمعصوم گویا ہوا۔۔۔
علامہ مجھے آج کہنے دیجئے ۔۔
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا رہتا!
کم از کم ہم نے تو ان کے تعلق سے اپنے آپ کو بدگمان نہیں ہونے دیا تھا لیکن ناس ہو سوشل میڈیا کا کہ سارے کھلے چٹھے عیاں ہوگئے۔۔متعصبانہ اور معاندانہ ذہنیت نے انکو حسد،بغض اور عناد کی آگ میں جھونک دیا۔۔ ہمیں تو انہیں کے خیمہ سے اطلاع ملی تھی کہ پہلے دن سے وہ اس عظیم کام کو اپنے مفاد کے حصول کا ذریعہ بنانے اور اپنی شہرت میں چار چاند لگانے کی فکر میں ہیں اگر یہ ممکن نا ہوا اور متحدہ پلیٹ فارم سے کام لیا گیا تو نام ہمارا اور کا آپکا والی پالیسی اختیار کرنے کا منصوبہ۔۔اگر یہ بھی ممکن نا ہوا تو پوری قوت کیساتھ اس پروگرام کو ناکام بنانے کی پالیسی طئے تھی۔۔لیکن اللہ بھلا کریں مخبروں اور چغلخوروں کا کہ انہوں اس منصوبے کو بری طرح ناکام کردیا۔۔۔اب اسکے نتیجہ میں جو باتیں ان کے دہن مقدس سے انکی بیمار ذہنیت کی غمازی اور غلیظ سوچ کی عکاسی کررہی ہیں وہ آپکے سامنے ہے۔یہ کہتے ہوئے معصوم نے سارے فوٹوں شوٹ ہمیں دکھادیئے۔۔لیکن کیا مجال کہ میری اکابر پرستی میں ذرہ برابر فرق واقع ہوجائے۔۔میں نے جم کر اکابرین کا دفاع کیا اور اس ناخلف معصوم علی شرارتی کو اپنے حلقئہ بیعت و ارادت سے معزول کردیا اور نوچندی جمعرات کو خلافت واپس لوٹانے کا حکم دے دیا۔ لیکن وہ بھی اپنا ہی خلیفہ تھا کب مانتا کہنے لگا حضرت آپ چاہے تو خلافت چھین لے۔لیکن غلط فہمی میں ہرگز مت رہئے عوام بھول بھالی ضرور ہیں لیکن آپ جیسی چغت اور بے وقوف نہیں۔۔عوام سب کچھ سمجھتی اور جانتی ہیں۔۔میں ابھی تک ان حضرات کو بہت معتبر اور مقدس سمجھتا تھا جو اپنے اسٹیجوں سے اتحادواتفاق کی گہار لگاتے نہیں تھکتے۔شعبدہ بازی اور کلاکاری سے عوام کو لبھاتے ہیں۔۔۔میں نے معصوم کی بات کاٹی اور اسے راندئہ درگاہ کردیا۔۔
اکلوتے خلیفہ کو دھتکارکر میں نے اپنی اکابر پرستی کا ثبوت تو دے دیا لیکن افسوس اسکو اپنی فکر کا قائل نہ کرسکا۔۔۔اور سوچنے لگا کیا واقعی عوام سمجھدار ہورہی ہیں۔۔معصوم جاتے ہوئے کچھ گنگنارہا تھا ۔۔۔
شاید فراز کا یہ شعر۔۔
ہم تو سچ مچ کے ہی کردار سمجھ بیٹھے تھے
لوگ آخر کو کہیں صورت افسانہ کھلے !
یا پھر علامہ اقبال کایہ شعر۔۔
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر !
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی
ازافادات۔۔
حقیر سراپا تقصیر،
پیرِ مغاں حضرت اقدس
علامہ واٹسپی والفیسبکی پیری،مریدی،مجددی،چستی،
پھرتی،بے تکی، ہٹ دھرمی بغاوتی
دامت برکاتہم العالیہ والکمالیہ والکھالیہ
نوٹ: اس کہانی کے سبھی پاتر کالپنک ہیں کسی بھی ستیہ گھٹنا یا واستوک جیون سے اس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا مودی جی کا سچ بولنے سے۔۔

Wah vahut khoob
جواب دیںحذف کریںBahut khoob...
جواب دیںحذف کریںAllah apki salahiyato ko mazeed nikhare...