میرا شہر،میرے لوگ۔روشن چراغ قسط ۱ ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب
قسط۱
☆روشــــن چــــــراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
آج کے خصوصی مہمان
طبیبِ حاذق محترم الحاج
ڈاکٹر محمد بـــدر الدیــــن صاحب
آپ کا مکمل نام محمد بدر الدین ابن مولوی محمد تمیزالدین ہے۔آپ کی پیدائش10 ستمبر 1936 کو علم و ادب کے گہوارہ شہر پٹن ضلع اورنگ آباد میں علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔آپ کی بنیادی تعلیم پربھنی میں ہوئی۔مدرسہ فوقانیہ جالنہ سے 1952میں میٹرک میں اعلی نمبرات سے نمایا کامیابی حاصل کرنے بعد اورنگ آباد سے انٹرمیڈیٹ کی فراغت کے بعد میڈیکل ایجوکیشن عثمانیہ میڈیکل کالج حیدرآباد یونیورسٹی سے 1960ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔۔ایم بی بی ایس میں کامیابی کے بعدچرچ آف اسکاٹ لینڈ کے مشن ہاسپٹل جالنہ میں بحیثیت میڈیکل آفیسر 1960تا1964 خدمات بحسن و خوبی انجام دی۔
☆نمایاں کارکردگی☆
(ڈاکٹر صاحب کی زندگی جن عظیم الشان کارناموں کا مرقع ہے اس کا مختصر تذکرہ بھی ایک وقیع مضمون کی شکل میں ممکن نہیں۔گذشتہ پچاس ساٹھ برس میں جو حیرت انگیز تغیرات ہمارے ملک میں رونما ہوئے ہیں ان کا اچھا خاصہ اثر موصوف کی زندگی کے ہر مرحلہ میں نظر آتا ہے اور حقیقت یہ ہیکہ جب تک ان واقعات کا تفصیلی ذکر نہ کیا جائے جو انکی قومی،ملی،سیاسی،مذہبی اور تعلیمی خدمات کا محرک ہوئے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ موصوف کی حقیقی عظمت اور ان کے کارناموں کی واقعی اہمیت واضح ہوسکی گی۔)
✍🏻شہرجالنہ ایک قدیم شہر ہے طویل عرصہ تک یہ اورنگ آباد کا تعلقہ رہا۔اسکو ضلع بنانے میں انتہائی اہم کردارجن شخصیات نے ادا کیا ان میں ایک نام ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب کا بھی نمایاں ہے۔
✍🏻 پولس ایکشن کے بعد 1952 سے1957اور1962سے1966تک جالنہ فسادات کی آماجگاہ بنارہا ان فسادات نے مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔موصوف نے ان کی مدد کے لئے اس وقت کے وزیراعلی وسنت راؤ نائک سے ۳۵ ہزار روپئے ڈونیشن حاصل کیا اور شہر اورنگ آباد کے مخیر حضرات سے مالی اعانت حاصل کرکے مسلمانوں کی بازآباد کاری کا اہم کام انجام دیا۔
✍🏻ہندومسلم برادران کے درمیان اتحادواتفاق،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر موصوف نے غیرمعمولی توجہ دی اور جالنہ شہر میں دیوالی ملن اور عید ملن کے پروگراموں کا رواج شروع ہوا جو ہنوز برقرار ہے۔
✍🏻شہر کے لب پر خوبصورت تالاب کے کنارے ساکنان کےلئے تفریح گاہ کے طور پر ایک فرحت بخش مقام موتی باغ کی تعمیر و ترقی میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان بھی موصوف کا نام سب سے آگے ہے۔
✍🏻ملی مسائل کی یکسوئی اور حل کے لئے 1967 میں جالنہ میں مجلس مشاورت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی صدارت کے عہدہ پر بالاتفاق آپ کاانتخاب عمل میں آیا۔
✍🏻شہرجالنہ میں مسلم معاشرہ کی تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے موصوف نے 31مئی سن1967کو انجمن اشاعتِ تعلیم جالنہ کی بنیاد رکھی جس کے تحت اردو پرائمری و ہائی اسکول اسی طرح اردو جونیئر کالج جو شہر جالنہ کے انتہائی ممتازومعتبر ادارۂ جات ہیں اسی طرح اردومڈل اسکول قادرآباد،انگریزی میڈیم کے لئے ویسڈم پری پرائمری اسکول اور حال ہی میں منظورشدہ ڈاکٹر محمد بدر الدین اردو سینئر کالج کا قیام جیسے نمایاکام اسی انجمن کے تحت انجام پائے۔یہ ایک ممتاز کام تھا اور جالنہ شہر کے لئے یہ کام قابلِ قدر و لائق ستائش ہے۔
✍🏻موصوف کی نیک نامی اور عوامی مقبولیت کے پیش نظر حکومت مہاراشٹر نے سن 1972ء میں مراہٹواڑہ وقف بورڈ پر ممبر کی حیثیت سے آپکونامزدکیا۔موصوف نے انتہائی دیانتداری اور فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے وقف کی جائیدادوں کےتحفظ کا کام کیا۔
✍🏻موصوف نے نا صرف عصری تعلیمی کتابوں کا عمیق مطالعہ کیا ہے بلکہ آپ کی جولانگاہِ شوق نے تفاسیر کی مختلف کتابوں کا بھی مطالعہ کیا ہے جس کی وجہ سے موصوف کو دینی اجتماعات میں تقریر کے لئے مدعو کیاجاتا ہے۔آپ کی تقاریر و خطبات سے فکر کی وسعت اور نگاہِ دوربیں کا اندازہ ہوتا ہے۔بیان میں سلاست،روانی فصاحت و بلاغت جیسی نعمت خداداد جھلکتی ہے۔شہر کی مشہور باغبان مسجد میں مختلف عناوین کے تحت خطبات جمعہ کی مستقل سیریز چلائی جس میں قابلِ ذکر عناوین "امراضِ قلب اسباب اور وجوہات،قرآن اور سائنس کی روشنی میں" "ملت کے آپسی اختلافات اور اس کا کامیاب حل" وغیرہ اہم موضوعات شامل ہیں۔اس عنوان پر عربی اور اردو میں ایک کتابچہ بھی شائع ہوا جسے قبولیت عام و خاص کا شرف بھی حاصل ہوا۔نیز "سائنس اور اسلام" کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ پر سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے اس تحریر کو خوب سراہتے ہوئے ایک ستائشی و تہنیتی خط بھی موصوف کو روانہ کیا تھا۔اسی طرح موصوف نے فرماروائے مملکتِ عرب کو ملت کے حالتِ زار پر کسی حتمی نتیجہ تک پہنچ کر اتحاد بین المسلمین کی کوشش کے لئے ایک مدلل مشاورتی مکتوب ارسال کیاتھا جسمیں قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں مخلتف معتبر تفاسیر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک زبردست دعوت فکروعمل موصوف کی جانب سے پیش کیا گیاتھا۔جسکو ملک و بیرون ملک بہت پسند کیا گیا اور ایک انمول نکتہ کی دریافت پر علمی حلقہ کی جانب سے دادو تحسین پیش کی گئی تھی۔
✍🏻موصوف پوری زندگی شعبۂ طب سے وابستہ رہے آپ بحیثیت کامیاب مطب و معالج گذشتہ ساٹھ برس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں کی خدمت انجام دیتے آرہے ہے اور آج بھی اپنی ضعیف العمری اور پیرانہ سالی کے باوجود بیماروں اور دکھ کے ماروں کے اصرار پر شفاخانہ تشریف لاکر مریضوں کی تشخیص فرماتے ہے ۔بقول شخصے دور دور سے طالبِ شفا اسی مسیحا کو اپنے درد کی دوا سمجھتے ہیں اور بے شمار دکھیارے یہاں سے بفضل اللہ تعالی شفایاب ہوکر جاتے ہیں جو حقیقت میں صرف سرمائہ حیات ہی نہیں بلکہ توشئہ آخرت بھی ہے۔ میڈیکل کے مختلف مقابلوں میں ملکی سطح پر کئی توصیفی اسنادات،ایوارڈ اور انعامات حاصل کئے۔اس کے علاوہ آپ کو مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سرانجام دینے کے اعتراف میں فخر جالنہ سمیت کئی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔
✍🏻الحاج ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب نہایت کریم النفس،نیک دل،خوش مزاج،اقرباء نواز،کنبہ پرور،منکسرالمزاج اور قوم و ملت کا درد اپنے سینے میں رکھنے والی شخصیت کے مالک گویا اس شعر کی مصداق ہیں
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں۔
صراحی سرنگوں ہوکر بھرا کرتی ہیں پیمانے۔
٭پیغامِ عمل٭
ملک و ملت کے موجودہ حالات کے پس منظر میں مسلمان اپنی صفوں میں اتحادواتفاق پیدا کریں۔غیرضروری کاموں اور فضول باتوں سے خصوصا آنے والےالیکشن کے حالات میں سنجیدگی،حکمت عملی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشتعال انگیزی،فرقہ وارانہ منافرت سے بچے اور خصوصا نوجوانوں کو بچائیں اور تعلیم کی طرف پوری طاقت و قوت کیساتھ جڑجائیں۔۔۔
اللہ رب العزت محترم ڈاکٹر صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔آمین یا رب العالمین
(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
عامـــرفہـــیم راہـــیؔ,جالنہ
8329953822
ماشاء االلہ۔۔۔
جواب دیںحذف کریںmasha allah
جواب دیںحذف کریںسماجی وتعلیمی قائد و سالار اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک، شہر جالنہ کے عظیم رہنماء ڈاکٹر بدرالدین صاحب نہیں رہے *انا للہ وانا الیہ راجعون*
جواب دیںحذف کریںایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
کل بتاریِ ۵؍ مئی ۲۰۲۱ بروز بدھ دوپہر 04/بجے جالنہ ضلع کی معروف تعلیمی، طبی، سماجی، سیاسی، مذہبی وملی شخصیت ڈاکٹر محمد بدرالدین صاحب کا 85/سال کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے ان للہ و ان الیہ راجعون
ڈاکٹر بدرالدین صاحب کا شمار جالنہ شہر کے اولین ایم بی بی ایس ڈاکٹرس میں ہوتا تھا آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سے طبی تعلیم مکمل کی اور گذشتہ ساٹھ سالوں سے مسلسل جالنہ ضلعے کی ترقی کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ اللہ موصوف کو اسکا اجر کامل عطا کریں آمین
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مرحوم اس شعر کے مصداق تھے
جہاں وہ ماہر طب تھے وہاں وہ تعلیمی میدان میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔آج ملت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کا متبادل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین 🤲🏻🤲🏻
اللہ رب العزت سر کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین یا ربی
✍طالبہ اردو ہائی اسکول جالنہ