قسط۵؀ ‏مولانا ‏رئیس ‏احمد ‏صاحب ‏ملی

جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش
مستقل تعارفی سیریز٭قسط۵؀
       
                   ☆روشــــن چــــــراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

آج کے خصوصی مہمان 
 محترم مولانا
         رئیس احمد ملی صاحب

مولانا موصوف کا مکمل نام شیخ رئیس احمد ابنِ شیخ عبدالعزیز صاحب ہے۔آپ کی پیدائش سن ۱۹۶۵ء کو ضلع جالنہ کے تعلقہ گھن ساؤنگی کے ایک ملحقہ دیہات انتروالی ٹیمبھی میں ایک زمیندار زراعت پیشہ خاندان میں ہوئی۔آپ کی بنیادی تعلیم گاؤں کے مرہٹی میڈیم اسکول میں ہوئی۔اس وقت تک ہرگاؤں دیہات میں دینی تعلیم کا منظم انتظام نہیں تھا۔علم دین کے حصول کی چاہت آپ کو مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم کوپرگاؤں ضلع احمدنگر لے گئی۔وہاں پر ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد آپ اعلی تعلیم کے لئے ریاستِ مہاراشٹرا کی معروف عظیم و قدیم دینی درسگاہ مدرسہ معہدِملت مالیگاؤں تشریف لے گئے جہاں سن ۱۹۷۸ء میں آپ نے عالمیت کی سند حاصل کی۔اس طرح آپ اپنے علاقہ کے سب سے پہلے عالمِ دین قرار پائے۔تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے وطن کا رخ کیا اور وہاں لوگوں کی دین سے دوری اور دینی تعلیمات سے ناآشنائی دیکھتے ہوئے ایک مکتب کی بنیاد رکھی جس میں گاؤں کے بچے علمِ دین حاصل کرنے لگے۔اطراف و اکناف میں اس قسم کے کام کی ترتیب نہ ہونے سے موصوف کی طبیعت میں اضمحلال اور بے چینی باقی تھی۔ ابھی مقصد تمام نہیں ہوا تھا اور تشنگی ہر آنے والے دن گذرے ہوئے دن سے زیادہ محسوس ہورہی تھی۔لہذا بے سروسامانی و افرادی قوت کے فقدان اور کم مائیگی کے باوجود آپ نے ایک دینی و اقامتی ادارہ مدرسہ بحر العلوم کی بنیاد رکھدی۔جہاں دوردراز سے قابل و محنتی اساتذہ کو جمع کرکے انکی گراں قدر خدمات حاصل کی گئی۔اپنے گاؤں سمیت اطراف و اکناف کے دیہاتوں کے طلبہ کو جوڑا گیا۔مدرسہ کی توسیع و استحکام میں آپ نے غیرمعمولی دلچسپی لی۔اور مختلف مقامات کا دورہ کیا۔اس دوران آپ مسجد میں امامت و خطابت اور مدرسہ میں درس و تدریس کی ذمہ داریوں کو بھی بحسن و خوبی ادا کرتے رہیں۔حالات میں تغیر واقع ہوا اور آپ انتہائی مشکل ترین مسائل و پریشانیوں میں الجھ گئے۔فکرِغمِ روزگار دامن گیر ہوئی اور آپ مدرسہ کی ذمہ داری اپنے نائبین کے سپرد کرکے حصولِ رزقِ طیب کی چاہ اور مسائل کی یکسوئی کے لئے اپنے مقام سے خانہ بدوش ہوگئے۔سن ۹۰ء کی دہائی میں آپ عروس البلاد بمبئی پہنچ گئے جہاں دن رات کی تھکا دینے والی محنت کے نتیجہ میں آپ نے اپنا ذاتی کاروبار کھڑا کردیا۔سن ۹۹ء میں آپ جالنہ تشریف لائے اور کاروبار کے سلسلہ میں تعلقہ جات میں سرگرمِ عمل رہے۔کاروبار کو منظم کرنے کی غرض سے آپ نے ملک کی مختلف اہم ریاستوں میں تجارتی اسفار کئے۔جالنہ میں لکڑی کی صنعت کےلئے کارخانہ کی بنیاد رکھی اپنی امانت داری،پاکیزہ طنیتی،اور قولِ سدید کے نتیجہ میں اور اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے اس میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور تاحال یہ کارخانہ اپنی آب و تاب کیساتھ جاری ہے اور دسیوں ملازمین اس میں کسبِ معاش کے مسائل کو حل کررہے ہیں۔(اس میں ان تمام نوفارغین علماء حفاظ اور ائمۂ کرام کے لئے درسِ نصیحت ہیں جو اپنے مخصوص دائرے سے ہٹ کر یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں ہیکہ آپ ایک جیدعالمِ دین اور بہترین حافظِ قرآن ہونے کیساتھ زبردست تاجر بھی بن سکتے ہیں۔ ہم اپنی علمی و دینی خدمات کیساتھ عوام کا معاشی مسائل کے حل کا ذریعہ اور مستقل سہارا بھی بن سکتے ہیں۔)
زندگی کی ان تمام تر ہنگامہ آرائیوں میں آپ نے کبھی اپنے بنیادی مقصد کو مفقود نہیں ہونے دیا۔زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ دعوت و تبلیغ کے مقدس مشن سے وابستہ رہے اور پوری زندگی اس کے لئے برابر اخلاص و للہیت کیساتھ وقت فارغ کیا۔
شہرجالنہ میں عصری تعلیم سے وابستہ طلبہ و طالبات کی مکمل و منظم دینی تعلیم و اخلاقی تربیت کی غرض سے ہر مسجد و محلہ میں منظم مکاتبِ قرآنیہ کا جال بچھایا گیا جس میں آپ نے غیرمعمولی کلیدی کردار ادا کیا اور ہر مرحلہ میں دامے،درمے،قدمے،سخنے تعاون کیا۔آپ جالنہ شہر کے منظم مکاتبِ قرآنیہ کے روحِ رواں اور ذمہ دار ہیں۔موصوف شہرِجالنہ میں طبقۂ علماء کے سرخیل اور یکساں مقبول ہے۔
ملک بھر میں امن و آشٹی،قومی یکجہتی اور جمہوریت و دستور کے تحفظ کی علمبردار دینی و ملی عظیم و قدیم ملت اسلامیہ ہند کی نمائندہ تنظیم جمیعۃ العلماء ہند (محمودمدنی)ضلع جالنہ کے آپ نائب صدر اور فعال رکن ہے۔
انسانی بنیادوں پر انسانیت کی خدمت کے لئے سرگرم ملک گیر تحریک صفابیت المال انڈیا ضلع جالنہ کے آپ صدر عالی وقار ہے۔
اس کے علاوہ بیشتر دینی کاموں میں آپ کی گراں قدر خدمات اور کئی دینی و ملی سماجی شعبوں میں آپ سرپرست و نگران کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کرتے آرہےہیں۔
مولانا موصوف کا شمار اپنے علاقہ کی بارعب شخصیات میں ہوتا ہیں۔آپ کی مقبولیت و برگزیدگی ہرسماج اور طبقہ میں یکساں ہیں۔غیرمسلم سماج میں آپ کو غیرمعمولی عوامی مقبولیت حاصل ہیں۔کئی اہم معاملات و تنازعات میں آپ نے فریقِ ثالث کی حیثیت سے قرآن و حدیث کی روشنی میں مصالحانہ کردار ادا کیا۔اور ہندو مسلم اتحاد کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی۔آپ صاحبِ نسبت عالمِ دین ہے۔حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ سے آپ نے خصوصی کسبِ فیض حاصل کیا۔آپ کا اصلاحی و روحانی تعلق محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ سے ہے۔حضرت نعمانی کے حلقۂ بیعت و ارادت میں آپ شامل ہیں۔آپ کے اساتذہ کرام میں حضرت مولانا حنیف صاحب ملیؒ،حضرت مولانا عبدالاحدازہری صاحب،حضرت مولانا محمد شفیع صاحب قاسمی سمیت بیشتر  اکابرومشاہیرعلماء شامل ہیں۔اخلاص و للہیت،حق گوئی و بے باکی،امانت داری و راستبازی،اخلاق و مروت،استغناء و بےنیازی آپ کی شخصیت کے اہم اوصاف ہیں۔ہردینی و ملی کام میں آپ خوب دل کھول کر اپنے قیمتی سرمایہ کو خرچ کرتے آرہے ہیں۔
                     ٭پیغامِ عمل٭
یہ بہت بڑی غلط فہمی مسلم معاشرے میں درآئیں ہیکہ دینی تعلیم دنیاوی ترقی و خوشحالی میں مانع ہوتی ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ہم اپنی نسلِ نو کو دینی تعلیم و اخلاقی تربیت سے آراستہ کرواتے ہوئے ایک راسخ العقیدہ مسلمان کیساتھ انہیں بہترین تاجر،صنعتکار اور ملک کا وفادار شہری بناسکتے ہیں۔برادران وطن میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں وہ ہمارے اپنے معاملات میں خیانت اور کمزوری کی وجہ سے ہوئی ہیں لہذا برادران وطن کی غلط فہمیوں کے ازالہ اور دنیاوی  و اخروی کامیابی و نجات کے لئے ہم اپنے معاملات کی اصلاح کریں اور تجارت کو دعوتی و اصلاحی کاموں کا بہترین موقع سمجھتے ہوئے خدمت انجام دیں۔

اللہ رب العزت محترم مولانا رئیس احمد ملی صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین

(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)

 ✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
                عامـــرفہـــیم راہـــیؔ
                📱8329953823

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب