قسط۷؀ ‏امام ‏ ‏خطیب ‏عیدگاہ ‏قدیم ‏جالنہ ‏محترم ‏مولانا ‏غفران ‏احمد ‏صدیقیؔ

       ﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
          مستقل تعارفی سیریز٭قسط۷؀
    
               ☆روشــــن چــــــراغ☆
              ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

قارئینِ محترم۔۔۔! آج ہم آپ کے روبروٗ ایسی شخصیت کا تذکرہ کریگے جن کی پوری زندگی اپنے وطن سے دور مشکل ترین حالات میں گذری۔جنہوں نے زمینی سطح کو اپنا میدانِ عمل بنایا۔تعلیم و تدریس کیساتھ افراد کی دینی،علمی،فکری و تحریکی تربیت پر خصوصی کام کیا۔عالمِ دین ہونے کے باوجود تجارت کے میدان میں خوب محنت کیں اور بفضلِ تعالی زبردست کامیابی حاصل کی اور  اپنی محنت ہائے شاقہ،مخلصانہ جدوجہد اور عالمانہ وقار کیساتھ غیرمعمولی مقام حاصل کیا۔اور شہرجالنہ کے ہر عام و خاص میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔
     آج کے خصوصی مہمان 
           محترم مولانا 
                      غفران احمد صدیقی صاحب
مولانا موصوف کا مکمل نام غفران احمد ابنِ فتح محمد صدیقی ہے۔آپ کی پیدائش فروری سن ۱۹۴۳ء کو فرہی رامپور اعظم گڑھ موجودہ ضلع مئو کے ایک زراعت پیشہ متوسط خاندان میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی اور وہیں پر تکمیلِ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنے مربی مولاناابوبکر اصلاحی کی سرپرستی میں سن ۱۹۶۲ میں جامعہ مظہرالعلوم بنارس میں داخلہ لیا۔وہاں سے اعلی تعلیم  کی غرض سے عالم اسلام کی مایہ ناز دانش گاہ مدرسہ جامعۃ الفلاح بلریاگنج اعظم گڑھ میں شریک ہوئے۔جامعۃ الفلاح سے عالمیت کی سند حاصل کی۔وہاں پر وقت کے عظیم اساطینِ علم و معرفت سے خوب علمی فکری و روحانی فیض حاصل کیا۔مختصر وقت میں آپ جامعہ کے لائق طلبہ میں شمار ہوگئے۔آپ نے مختلف علوم میں اکابرومشاہیر اور اپنے فن میں بے پناہ دسترس رکھنے والے جید علماء سے استفادہ کیا۔آپ کے اساتذہ میں قابلِ ذکر فکرِفراہی کے امین،علمِ تفسیر کے جیدعالمِ دین مولانا جلیل احسن ندویؒ،شیخ الحدیث مولانا ضیاء الحسن ندویؒ،مفتی حیدرعلی،مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی،مولانا عبدالعلیم اصلاحی وغیرہم سمیت کئی ماہرین فن سے خصوصی کسبِ فیض حاصل کیا۔معاشی بحران سے متاثر ہوکر سن ۲۷فروری ۱۹۶۹ء کو بادلِ ناخواستہ اپنے بڑے بھائی مولانا عبدالباقی صدیقی صاحب کی ایماء پر تعلیم منقطع کرکے ان کے ساتھ معاشی مسائل کی یکسوئی کے لئے مہاراشٹرا تشریف لائے۔قاضی محلہ مسجد بھوکردن میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن میں بطورِمعلم تدریسی خدمات انجام دی۔زمانۂ طالبِ علمی ہی سے آپ کی ہمہ پہلو تربیت کے نتیجہ میں درس و تدریس کے علاوہ مختلف دعوتی،اصلاحی،تحریکی و تنظیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔وہی پر مختصر کاروبار شروع کیا اور عوام کے دینی و ذاتی مسائل وتنازعات کے حل کےلئے فریق ثالث کی حیثیت سے قرآن و حدیث کی روشنی میں مصالحانہ کردار ادا کیا۔عوام کے معیار کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام فہم انداز میں دروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع کیا۔دیہاتوں میں پہنچ کر لوگوں میں دینی بیداری کے لئے عملی کوششیں کی۔ اپنی خصوصی توجہ و تربیت کے نتیجہ میں تحریک اور سماج کو قیمتی شخصیات تیار کرکے دینے میں آپ کا اہم کردار رہا۔ویسے تو آپ کا تعلق سن ۶۹ء ہی سے ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب اور مولانا عبدالقیوم قادری صاحب کے توسط سے  شہرجالنہ سے قائم ہوا۔معروف مفسرِقران مولانا شمس پیرزادہ اور تحریک اسلامی مہاراشٹر کے قائد مولانا عبدالقیوم قادری کی ایماء پر سن ۷۳ء میں باضابطہ جماعتِ اسلامی کے رکن۔  1982میں جماعت اسلامی ہند،جالنہ کے ناظمِ ضلع منتخب ہوئے۔ناظمِ ضلع کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔اس دوران متواتر شہر و ضلع جالنہ کے مختلف علاقوں سمیت مراہٹواڑہ کے کئی مقامات پر دعوتی و تحریکی دورے کئے۔سن ۱۹۸۳ میں اپنے مخلص دوست جناب مرزا مختار بیگ مرحوم کی خواہش پر جالنہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔جالنہ میں جماعت اسلامی کی جانب سے ایک دینی و تحریکی ادارہ جامعہ مدینۃ العلوم چندن جھیرہ کی بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے ناظم منتخب ہوئے تقریبا تین سال تک جامعہ کی نظامت کے فرائض انجام دینے کیساتھ مختلف دعوتی و تحریکی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔شہرجالنہ کی معروف شخصیت میاں کاکا خان صاحب کی خواہش پر افغان مسجد قدیم جالنہ میں خطبۂ جمعہ کا آغاز کیا شہرواطراف میں عوام میں دینی فہم و شعور  کی آبیاری کے لئے درسِ قرآن و حدیث کے حلقے منظم کئے جابجا نکاح کے مواقعوں پر خطبات کا اہتمام کیا آپ کے خطبات اور دروس نہایت عام فہم سلیس اور منفرد نوعیت کے ہوتے ہیں۔تجارت کی غرض سے لطیف شاہ بازار قدیم جالنہ میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی اور غیرمعمولی توجہ،محنت اور دیانتداری کے نتیجہ میں کاروبار میں زبردست ترقی حاصل کی۔امیرِشریعت مراہٹواڑہ مولانا عبدالوحید کاکا نقشبندیؒ کی ایماء پر قدیم جالنہ عیدگاہ میں عیدین کے موقع پر امامت کی ذمہ داری سنبھالی اور تاحال طویل عرصہ سے آپ قدیم جالنہ عیدگاہ میں امام وخطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔دعوتی و تحریکی ذمہ داریوں کے ساتھ آپ نے کئی دینی اداروں کی سرپرستی و نظامت کی ذمہ داری ادا کی جس میں قابلِ ذکر مدرسہ ربانیہ،مدرسہ جامعۃ الصابرات للبنات،مدرسہ اشاعت الاسلام،اور مدرسہ مریم للبنات اورنگ آباد شامل ہیں۔اپنی ذاتی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی کثرت اورطبیعت میں انفرادیت کی وجہ سے آپ نے جماعتی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کی تاہم مزاج میں تحریکیت کے سبب آپ ہمہ وقت حرکت و عمل میں مصروف رہتے ہیں۔آپ کے تعلقات ہر دور میں عام و خاص طبقہ سے خوشگوار رہیں۔آپ کی خصوصی تربیت و صحبت میں جہاں اکابرومشاہیر علماء کا کردار رہا وہی پر مدبرِاسلام مولانا عامرعثمانیؒ،معروف عالمِ دین و سیرت نگار مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی صاحب،مولانا شمس پیرزادؒہ اور مولانا عبدالقیوم قادریؒ کا نام نامی قابل ذکر ہے۔مولانا موصوف کی زندگی جہدِمسلسل اور عملِ پیہم کی آئینۂ دار ہیں آپ نے اپنی زندگی میں بے شمار نامساعد حالات اور سخت ترین مشکلات کا سامنا عزمِ مصمم ہمت و جوانمردی سے کیا۔مولانا محترم کی طبیعت میں سادگی استغناء اور شانِ بے نیازی نمایاں نظر آتی ہیں۔
جامعۃ الفلاح سے رخصت ہوتے وقت آپ کے مخلص و مشفق استاد و روحانی سرپرست حضرت مولانا جلیل احسن ندوی اصلاحیؒ نے جو نصیحت آپ کو کی تھی اسے افادۂ عام کے لئے بطور پیغامِ عمل پیش کیا جارہاہے۔
"قرآن مجید سے اپنی وابستگی کم نا ہونے دینا۔ہر معاملہ میں قرآنی تعلیمات سے رجوع کرنا۔اس پر غور و تدبر ہر وقت کرتے رہنا۔انسان جتنا قرآن مجید میں مستغرق ہوگا اتنے ہی علوم و معارف اس پر عیاں ہوتے چلے جائیگے۔مستند و معتبر علماء کے تراجم و تفاسیر کا مطالعہ جاری رکھنا۔۔۔"

اللہ رب العزت محترم غفران احمد صدیقی صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

(مذکورہ معلومات مولانا محترم کے لائق فرزند برادر برہان احمد ندؔوی اور نواسہ برادر مرزا اسلم فلاحؔی سے حاصل کی گئی ہیں)

(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)

✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
             عامـــرفہـــیم راہـــیؔ
              📱8329953822

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب