قسط۱۱؀ ‏قاری ‏النکاح ‏مولانا ‏سید کوثر ‏قادری ‏صاحب

       ﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
           مستقل تعارفی سیریز٭قسط۱۱؀       
                   
                  ☆روشــــن چــــــراغ☆
                 ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

 خصوصی مہمان 
        قاری النکاح
             مولانا سیدکوثرقادری صاحب
       قارئین محترم۔۔!  موصوف کا مکمل نام سید کوثر ابنِ سید عبدالحمید ہے۔آپ کی پیدائش ۱۰/مئی سن 1946ء کو صدر بازار نیا جالنہ کے ایک غریب مزدور پیشہ خانوادے میں ہوئی۔
آپ نے بنیادی تعلیم اکیلی بستی میں قائم ایک غیراقامتی دینی درسگاہ میں پائی۔جہاں اُس وقت شہر جالنہ کی مشہورومعروف یگانۂ روزگار علمی و روحانی شخصیت حضرت مولوی عثمان علی خان صاحبؒ سے ناظرہ قرآن و بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ عصری تعلیم کے حصول کے لئے اسکول میں داخلہ لیا لیکن نامساعد حالات اور معاشی ناگفتہ بہ بدحالی کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔چونکہ آپ کا رجحان بچپن ہی سے دینی تعلیم کی طرف بہت زیادہ تھا اس لئے اپنے استاذ و مربی کی ایماء پر حصولِ علمِ دین کی چاہ میں حیدرآباد تشریف لےگئے جہاں جامعہ دارلعرفان لال ٹیکری سے سن ۱۹۶۲ء میں فاضل مولوی کی ڈگری حاصل کی۔مدرسہ سے فراغت کے بعد اصلاحِ باطن کی غرض سے دکن کی تصوف و سلوک میں مشہور و معروف روحانی شخصیت پیرطریقت حضرت شاہ سعداللہ خان صاحب کمالی قادریؒ(نظام آباد) سے بیعت و ارادت کا اصلاحی تعلق قائم کیا۔جالنہ واپسی کے بعد دوبارہ عصری  تعلیم سے منسلک ہوکر میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔معاشی مسائل کے حل کے لئے دس سال تک مختلف کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رہے لیکن آپ نے محسوس کیا کہ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہوئے دینی و اصلاحی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں لہذا سن ۱۹۷۴ء کو مولانا محترم نے امامت و خطابت کو اپنی اصلاحی و روحانی کاوشوں کا میدان عمل بنایا۔سن ۷۴ء تا ۲۰۱۴ء تقریبا چالیس سال تک  آپ نے شہر کی مختلف مساجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کیا۔جن میں قابلِ ذکر مساجد جامع مسجد مالی پورہ،عثمانیہ مسجد کباڑی محلہ،قادریہ مسجد (جچہ بچہ) بھوکردن ناکہ اور قلعہ کی مسجد قدیم نگر پریشد شامل ہے۔قابلِ ذکر ہیکہ جب فرقہ پرست دہشتگردوں کی جانب سے ۲۷ اگست بروز جمعہ سن ۲۰۰۴ء کو قادریہ مسجد میں بم دھماکہ کیا گیا آپ اس وقت مسجد میں بطورِامام نماز جمعہ کی امامت فرما رہے تھے۔مسلم معاشرہ کی بےدینی اور بے راہ روی بدعات خرافات فضول رسوم و رواج کی جکڑ بندیاں اور آپسی اختلافات و تنازعات کے ماحول سے بے پناہ متاثر ہوکر آپ نے جالنہ کی اہم شخصیات کو جوڑ کر اصلاح معاشرہ کمیٹی کی تشکیل دی۔جس میں مختلف مکاتب فکر کی بااثر شخصیات کو جوڑا گیا۔ ظاہر ہے کہ معاشرہ کی ہمہ پہلوں اصلاح کے لئے ایک ہی مکتب و مشرب کے افراد ناکافی ہیں آپ کی نگاہ دور رس نے اس کا ادراک کرلیا اور شہر جالنہ میں مختلف مواقع پر جہاں لہوولعب اور خرافات فضول رسوم و رواج کی دھوم ہوتی برمحل موضوعات پر اصلاح معاشرہ کے جلسے منعقد کرنا شروع کئے۔جن میں بیرون شہر کے خطباء حضرات کو مدعو کیا جاتا اس حوالہ سے جالنہ میں کئی مشہور و معروف علماء و خطباء کو اسی کمیٹی کے ضمن میں مدعو کرکے متعارف کروایا گیا۔جن میں قابلِ ذکر خطیب دکن مولانا سلیمان سکندر صاحبؒ سمیت کئی اہم نام ملتے ہیں۔آپ کی تعلیمی تدریسی و اصلاحی کوششوں میں نمایاں خدمت ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب و دیگر رفقاء کیساتھ مدرسۂ عربیہ فیض العلوم جالنہ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنا شامل ہے آپ نے مدرسہ کے قیام اور استحکام کے لئے بےشمار کوششیں کی۔مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی کے سیکریٹری اور سب سے پہلے معلم رہے۔شہر کے پسماندہ مسلم علاقے سنبھاجی نگر میں مقامی افراد کے تعاون سے ایک دینی و تعلیمی تحریک شروع کی مختلف تلخ و ترش تجربات حاصل کئے تاہم زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے سمبھاجی نگر میں زمین خرید کر مسجد امام ابوحنیفہ،مدرسہ ابوحنیفہ للبنات اور ابوحنیفہؒ اردو پرائمری اسکول کی بنیادی رکھی۔جہاں مسجد و مدرسہ کے ماحول سے بستی میں غیر معمولی دینی تبدیلی واقع ہوئی وہیں اسکول کی وجہ سے عصری تعلیم سے نابلد عوام میں تعلیمی شعور بیدار ہوا۔موصوف سن ۱۹۸۵ء سے جالنہ شہر میں مولانا عبدالوحید کاکا نقشبندی کی ایماء پر شہرقاضی و قاری النکاح کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے آرہے ہے۔شادی بیاہ کے مواقعوں پر ہونے والی فضول خرچی اور خرافات کے سدباب کے لئے خطبات نکاح کے ذریعہ لوگوں میں دینی بیداری اور اسلامی طریقۂ نکاح  کے موضوع پر سینکڑوں اصلاحی خطبات موصوف نے دیئے اور یہ سلسلہ ہنوز برقرار ہے۔امارتِ شرعیہ جالنہ کے آپ تاسیسی رکن ہے۔شعروادب سے موصوف کا گہرا تعلق ہے آپ کی ایک نمایاں شناخت سماج میں ایک معیاری شاعر کی حیثیت سے بھی معروف ہے۔سن ۱۹۸۳ء سے آپ شعروادب کی گیسؤوں کو سلجھانے میں مصروف ہے۔آپ کی شاعری میں اظہار یکجہتی،تصوف و سلوک کی رنگینی،حقیقت پسندی،سادہ لوحی،سماجی بگاڑ پر نقد اور معاشرتی اقدار کی تعمیروتشکیل کی کامیاب کوشش نمایاں نظر آتی ہیں۔تربیتی کاز کے لئے موصوف نے شاعری کا زبردست استعمال کیا ہے۔؂ 
قسمیں زباں پہ ہاتھ میں قرآں،عمل نہیں!
یہ مرثیہ ہے قوم کا کوئی غزل نہیں!
کیا اترے میری بات بھلا دل میں اور کے!
اقوال میرے جیسے ہیں ویسا عمل نہیں! 

مولانا موصوف کی حیات جہدِمسلسل کی آئینہ دار ہے آپ نے اپنی زندگی میں بے شمار نامساعد حالات اور سخت ترین مشکلات کا سامنا کیا۔معاشی تنگدستی اور مشکل ترین حالات میں کبھی اپنی غیرتِ خودی کو ٹھیس پہنچا کر مصالحت کی راہ اختیار نہیں کی۔سچائی و دیانتداری،حق گوئی و بیباکی بے انتہا عجزوانکساری سادگی اور استغناء اخلاق و ملنساری آپ کی شخصیت کے اہم اوصاف ہیں۔موصوف ایک باوقار عالمِ دین اور مصلحِ قوم ہے۔
مولانامحترم کا شمار شہر جالنہ کی قدیم ملی،مذہبی،سماجی،تعلیمی،ادبی اور اصلاحی شخصیات میں ہوتا ہیں۔موصوف قدیم روایات کے جفاکش علمبرداروں کی صفِ اول کے سپاہی ہے۔آپ کی مخلصانہ اصلاحی کاوشوں اور سماجی و تعلیمی جدوجہد کا عرصہ کم و بیش چالیس برس پر مشتمل ہے۔آپ کا تعلق ہر دینی جماعت و تحریک سے مثبت و مخلصانہ رہا۔جماعت اسلامی کے قدیم متفقین میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔آپ کے رفقاء کار میں
مولاناعبدالقیوم صاحبؒ،مولانا غفران احمد صدیقی مولانا بشیراحمدراہی ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب مولوی علی احمد صاحب مولوی عبدالسلام صاحب ڈاکٹر سرتاج صاحب سمیت دیگر کئی قیمتی شخصیات شامل ہیں۔۔

اللہ رب العزت محترم کوثر قادری صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین
 
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                      8329953822📱

تبصرے

  1. ماشاءاللہ عامر فہیم راہی صاحب شہر جالنہ کی معزز شخصیات کا تعارف و خدمات کو قلمبند و روشناس کروانے کو اللہ شرف قبولیت عطا کریں

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب