بچھڑا ‏کچھ ‏اس ‏ادا ‏سے ‏کہ ‏رُت ‏ہی ‏بدل ‏گئی! ‏تعزیتی ‏مضمون ‏بروفات ‏مولانا ‏نذیراحمدخان ‏ندویؒ ‏(سابق ‏استاذ ‏مدرسہ ‏فیض ‏العلوم ‏جالنہ)


بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی!

عامر فہیم راہیؔ(جالنہ)

۱/نومبر۲۰۱۷ کی صبح اپنے اندر کس قدر درد و کرب آہ و فغان اور تلاطم خیز خاموش طوفان  لئے نمودار ہوئی. جس میں ذہنی خشمگی ناقابلِ یقین حقیقت اور دل ودماغ کو ماؤف کردینے والی سچائی پوشیدہ تھی... صبح معمول کے مطابق میں اپنے کاموں میں مصروف تھا کہ یکایک فون کی گھنٹی نے اپنی طرف متوجہ کیا فون پر دوسرے جانب عزیزم برادر زبیرندوی نے مدرسہ فیض العلوم چلنے کے لئے کہا. میں تھوڑا سوچ میں پڑگیا کہ آج مدرسہ میں کونسا پروگرام ہے..
بیت بازی..؟ نہیں شاید وہ تو منعقد ہوچکی.
اردو تقریری مقابلہ...؟ اس کے لئے تو کوئی اطلاع نہیں...
النادئ العربی (عربی خطبات کا مسابقہ) نہیں اسکی بھی کوئی اطلاع نہیں...
.دیگر کوئی علمی وفکری،ثقافتی و تہذیبی پروگرام یا پھر کرکٹ میچ اور فٹ بال میچ کی شکل میں کوئی جسمانی مقابلہ..؟.
(گوکہ مدرسہ میں میرا تعلیمی سفر بہت کم عرصہ پر مشتمل رہا لیکن مدرسہ کے اساتذہ کی محبت اور خلوص ہی ہیکہ ہر چھوٹی بڑی تقریب میں راقم کو بہت خلوص اور محبت کیساتھ مدعوکرکے عزت افزائی فرماتے ہیں)
  دل نے خود کو مطمئن کیا ہوسکتا ہیکہ کوئی پروگرام اچانک طئے کردیا گیا ہو اور فدوی کو اسکی اطلاع نہیں مل سکی لیکن پھر ذہن میں خیال آیا نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کسی اور کو یاد ہونا ہو مولانا نذیر صاحب کا فون ضرور آتا جو اپنے مخصوص انداز اور دل کو چھؤ جانے والے لب و لہجہ میں خیریت دریافت کرتے اور والدِماجد کی طبیعت کا حال معلوم کرتے اور کوئی گھریلوں نسخہ وضع فرماتے اور بڑے مشفقانہ لہجے میں مجھ سے کہتے ..."دیکھو بھئی دراصل ہم نے اس لیئے فون لگایا تھا کہ ـــــــ ارے بھئی عامر فلاں دن فلاں وقت مدرسہ میں یہ اور یہ پروگرام رکھا گیا ہے لھٰذا تم کو ضرور پہنچنا ہے...! اور میں یونہی چھیڑنے کے لئے کوئی عذر پیش کردیتا..مولانا فرماتے "دیکھو بھئی ہمارا کام تھا اطلاع کردینا باقی جیسا تم کو مناسب لگے ویسے کرنا باقی محبت ہوگی تو تم ضرور آؤنگے "اور مولانا محترم کے پسندیدہ شعر کیساتھ فون کٹ جاتی..
حادثوں کا کیا ہیں وہ تو زندگی کیساتھ ہیں.
ایک سے بچکر چلونگے دوسرا مل جائیگا.
اور یہی میرے لیئے محبوب ادارے سے بالعموم اور مولانا محترم سے بالخصوص خلوص و محبت کے تعلق کا اصل سرمایہ ہوتا ...
بہرحال میں نے تصوراتی خلاؤں میں قلابیں لگاتیں گھوڑوں کی لگام کَسی.. اور یو اچانک بے وقت حاضر ہونے کی وجہ دریافت کی..موصوف نے لرزتے لہجے اور بے ترتیب جملوں کے ساتھ اپنی بات مکمل کی ..
مولانا نذیر صاحب کا انتقال ہوگیا ..! سڑک پر جاری گہماگہمی میں شاید میں برابر نہیں سن سکا میں نے ذہن میں آنے والے ناقابلِ بیان مکروہ خیالات کو جھٹکا اور پوری توجہ کیساتھ دوبارہ استفسار کیا ... انہوں نے پھر ایک مرتبہ پورے وثوق سے بتایا کہ مولانا نذیر صاحب ندوی استاذ مدرسہ فیض العلوم نہیں رہے ـــــــ آہ کس قدر دلدوز تھا وہ لمحہ، ذہن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھا، نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور یکلخت مولانا محترم سے متعلق سارے یادگار لمحات ذہن پر تصویر کی شکل میں نمودار ہونے لگ گئے ابھی چند مہینوں کی تو بات ہیکہ مدرسہ کی ہر دلعزیز محبوب شخصیت جواں سال جیّد عالمِ دین استاذِ محترم حضرت مولانا عبدالعلـــیم صـاحب ندوی رحمۃاللّٰــه عــلـــیه ہم سب کو داغِ مفارقت دیکر عالمِ جاودانی کو کؤچ کرگئے مولانا مرحوم کے بچھڑ جانے سے اس قدر صدمہ کی کیفیت طاری ہوئی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ابھی دلوں میں عبدالعلیم صاحب کی جدائی کا زخم پوری طرح ہرا ہی تھا  اور دل کے زخم مندمل بھی نا ہونے پائے تھے کہ مشفق و مربی اور ہم سب کے کرم فرما استاذالاساتـــذہ حضــرت مــولانــا نذیــــراحــــــمد خان صاحب ندوی نَوَّراللـــّٰهُ مَرقـــدَۂ جنہیں اب نا چاہتے ہوئے مرحوم و مغفور لکھنا پڑھ رہا ہے کا سایۂ عاطفت ہم سے اٹھ گیا اِنَّـــالِلّٰـــــهِ وَاِنّــــااِلیـَــــهِ رَاجِعـــــون.ـــکل من علیهــافــان و یبقیٰ وجه ربک ذوالجــــلال ولاکـــرام ــــ

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی!
اک  شخص  سارے  شہر  کو  ویران  کر گیا.!

 مولانا نذیراحمد خان ندوی ہمہ گیراور ہمہ جہت شخصیت کا نام تھا  آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے.صوم و صلٰوۃ کے پابند اعلیٰ اخلاق،بے داغ کردار، بہترین علمی استعداد، حیرت انگیز حسنِ انتظام، ہروقت احساسِ جوابدہی کا تصور،بے انتہا محتاط،بے پناہ سادگی و خوش مزاجی،مرنجہ مرنج طبیعت،دل میں کسی کے لئے تنگی و نفرت کے جذبات کا دور دور تک شائبہ  نہیں ہر ایک کے تعلق سے خوش گمان سب کو لیکر چلنے کا مزاج، وسعتِ نظری و فکرکی بالیدگی (جو ندوۃ العلمـــاء کا طرۂ امتیاز ہے) ، عصبیت و فرقہ واریت سے شدید کؤفت، خلوص و محبت کے عملبردار بےباک وبے لاگ شخصیت کے مالک تصنع اور تکلف سے بے نیاز...
گویا ـــــ
نرم دمِ گفتگوں،گرم دمِ جستجوں،
رزم ہوکہ بزم ہو،پاک دل و پاکباز......مصداق
 یہی وہ خصوصی امتیازات تھے جو مولانا محترم کو اوروں سے ممّیـــز رکھتے تھے ویسے یہ ساری خوبیاں ہم نے "علمائے فیض"میں بدرجہ اتم محسوس کی ہیں لیکن مولانا محترم اس کے چلتے پھرتے نمونہ کی حیثیت رکھتے تھے ..اور اسی وجہ سے آپ طلبہ و اساتذہ میں بے حد محبوب و مقبول بھی تھے اور حلقۂ عام و خاص میں احترام و تکریم کی نگاہ سے  دیکھے جاتے تھے...
آپ فیض العلوم کی تاریخ میں اک باب کی حیثیت رکھتے تھے گویا آپ کی رخصتی سے ادارے کا ایک باب ختم ہوگیا...جب بھی ادارے کی تاریخ رقم کی جائیگی مولانا محترم کے تذکرے کے بغیر ناتمام ہوگی اور مولانا کی قربانیاں سنہرے الفاظ میں لکھی جائیگی آپ نے مدرسہ کی ترقی کے لئے گویا اپنے آپکو وقف کردیا تھا زندگی کے اہم ترین کم وبیش بائیس برس کے قیمتی عرصہ کو مولانا نے مدرسہ کی ترقی کے لئے وقف کردیا اور رخصت بھی اس حال میں ہوئے کہ آپ ذمہ داری پر فائز تھے...مولانا مرحوم و مغفور میں بےپنا حسنِ انتظام کی صلاحیت تھی اور یہی وجہ تھی کہ سالہاسال سےآپ ہی کی نگرانی میں عالیہ اؤلیٰ سے فارغ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے عالمِ اسلام کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء بھیجا جاتا تھا جہاں پر مولانا کی خصوصی اعانت اور نگرانی میں طلبہ کے داخلے مکمل کارروائی انجام پاتی..اس لحاظ سے مولانا نے کیسے کیسوں کو اور اچھے اچھوں کو ٹکھانے لگادیا...
تادمِ آخر آپ کتب خانہ کے انچارج تھے اس میں صرف آپ کے حسنِ انتظام ہی کا عمل دخل نہیں تھا بلکہ لیبریری آپکی دلچسپی کا موضوع اور مطالعہ آپکا بہترین مشغلہ تھا اسی لئے ہر وقت آپکے ہاتھ میں نادرونایاب کتابیں نظرآتیں..  آپ علم دوست ادیب، خوش فکر کالم نگار،بہترین مبصّر اور معتدل تجزیہ کار بھی تھے آپکے کئی مضامین و نگارشات مستقل اخبارات و جرائد کے زینت بنتے رہے ہیں...مولانا نے ساری زندگی سادگی اور مجاہدہ میں گذاردی .. نمودو نمائش دکھاوا اور نمایا ہونے کی چاہت سے مولانا کوسؤں دور رہے..اسی لئے اکثر لوگ شخصی طور پر آپ سے ناواقف تھے....
(اوربلامبالغہ حقیقت تو یہ ہیکہ ہم نے سارے ہی "علمائے فیض" میں یہ اوصاف دیکھے ہیں..تمہارا اجروانعام تو درحقیقت اللّٰـــه ہی کے پاس ہی ہے..). حقیقت تو یہ ہیکہ مولانا مرحوم ومغفور کی سوانحِ عمری اور قربانیوں کو چند سطروں میں مقید نہیں کیا جاسکتا یہ ناانصافی ہوگی اگر ہم اس موقع پر اس تحریکِ فیض کے روح رواں و میرِکارواں  سرپرستِ اعلیٰ حضرت الحاج ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب جنہوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی اور سینکڑوں علم کے متوالوں اور شمعِ نبوت کے پروانوں کو جِلا بخشا جو علاقہ کے طول و عرض میں خدمتِ دین کا وہ عظیم کام انجام دے رہے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہیں اللّٰه نے آپ سے وہ عظیم کام لیا جس کے نتیجے میں علاقہ کو علماء فیض جیسے باکمال علماء ربانیین میسر آئے .. آپ نے مدرسہ کو اس مقام تک پہنچانے کے لئے کیسی کیسی سختیاں جھیلی ہے اور دھوپ چھاؤں کے موسم دیکھے ہیں ...اسکااجر تو اللّٰه ہی کے پاس ہے..
اسی کیساتھ ہم اللّٰــــــه رب العــــزت کی بارگاہ میں دعاگو ہیکہ اللّٰه مدرسہ کے سرپرست محترم اور اســــــاتــــذۂ عظام کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے.ادارے کو نظرِبد سے محفوظ رکھے...اور خصوصاً 
حضــــرتِ اقـــدس مــولانــا نذیــــراحـــمــدخـــان ندوی رحمۃ اللّٰـــــه علیـــه کی مغفرت فرمائے.انکے درجات کو بلند فرمائے.انکی قبر کو نور سے منور فرمائے. غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرمائے.سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے..لواحقین کو صبرِ جمیل اور مدرسہ فیض العلوم کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب