تعزیتی مضمون بروفات سید عباس علی ہنرؔسلوڑی مرحوم
مجھ کو دنیا سے ہنر کون مٹا سکتا ہے۔۔!
نتیجۂ فکر:بشیر احمد راہی،
ادارۂ ادب اسلامی جالنہ
خامہ فرسائی:عامر فہیم
سن۲۰۲۰ء کا سال اپنے آپ میں بےشمار درد ناک حقیقتوں کو لیکر نمودار ہوا۔عالمی سطح پر کورونا کی شکل میں خدائی قہر کی یلغار ہو یا مختلف خطوں سے متواتر موصول ہونے والی ظلم و جور تشدد و جارحیت کی روح فرساں وارداتوں کی خبریں۔۔بعض جدیدیت پسند مفکرین کے نزدیک یہ سال عام الحزن یعنی معنوی غم کا سال بھی مانا جارہا ہے۔قحط الرجال کے اس دورِنامساعد میں گزشتہ چند مہینوں کے اندر یکے بعد دیگرے مختلف میدانوں کی مخلص جانثار بے لوث و بے مثال اور یگانۂ روزگار شخصیات کا دارفانی سے دارِبقاء کی جانب کؤچ کر جانا یقینا تعجب خیز امر بھی ہے اور حزن و ملال غم و اندوہ کاباعث بھی۔علمی،فکری،تحریکی اور ادبی میدانوں سے وابستہ متعدد عبقری شخصیات کے انتقال کی خبروں نے پورے ماحول میں صف ماتم بچھا دیا ہیں۔ابھی دو دن قبل ہی کی تو بات ہے تحریک اسلامی اورنگ آباد کے بے لوث اور جانثار سپاہی مخلص رفیق مخدوم محی الدین صاحب مرحوم کے انتقال کی خبر نے قلب و ذہن کی ماؤف کردیا تھا (۳۵ برس کی طویل ادبی رفاقت کے بعد یکلخت شمس جالنوی صاحب کے سانحۂ ارتحال نے مزید حزن و ملال کی ذہنی کیفیات میں محصور کردیا۔۔۔شمس صاحب کے مکمل تعارف اور تعزیتی مضمون کی لنک اس تحریر کے اخیر میں درج ہے۔)
آج (20جولائی 2020 کو) ادبی دنیا کی عظیم عبقری شخصیت،استاد محترم آبرؤسخن حضرت سید عباس علی ہنرؔ سلوڑی داغ مفارقت دے گئے۔(آپ کی پیدائش ۲۱ مئی ۱۹۴۲ء کو سلوڑ ضلع اورنگ آباد میں ہوئی آپ نیشنل اردو اسکول سلوڑ سے ۲۰۰۲ء میں حسن خدمات سے سبکدوش ہوئے۔) ہنر سلوڑی صاحب سے میرا والہانہ ذہنی فکری اور قلبی تعلق رہا۔آپ سے میرے تعلق کا عرصہ کم و بیش نصف صدی پر مشتمل ہے اس عرصہ میں،میں نے موصوف سے ناصرف شعری و ادبی کاوشوں میں اصلاحی فیض حاصل کیا بلکہ بطور تلمیذ آپ کی زندگی کے ہر مرحلہ سے بہت کچھ
تجربات احساسات اور جذبات کو سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کی۔(ہنر صاحب سے ایک اخباری انٹرویوں کے دوران اپنے قابلِ فخر شاگرد اور جانشین کے سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو استاد محترم نے عاجز کا نام لیکر عزت افزائی فرمائی تھی،جو درحقیقت میرے لئے قابل فخر و اعزاز امر بھی ہے اور سرمایۂ حیات بھی۔۔۔) ہنر سلوڑی اردو ادب کے افق پر جگمگاتے ماہتاب کا نام ہے۔آپ کی صحبتوں میں بردارانہ شفقتیں،رفیقانہ خلوص، اور مصلحانہ حلاوت و حرارت کا بےضرر جمال و کمال تھا۔طبیعت میں بلا کی سادگی عجزوانکساری خلوص و مروت کی حلاوت تھی۔جو فی الواقع کسی انسان کو بڑا اور باکمال بنادینے کے لئے کافی ہیں۔
سن ۱۹۷۵ءمیں سلوڑ میں قیام کے دوران موصوف سے علمی و ادبی حوالے سے تعلق قائم ہوا۔موصوف جس ادارے میں برسرخدمات تھے راقم اسی ادارے میں دینیات کا معلم تھا۔ہنؔر صاحب نہایت ذہین دوراندیش اور باکمال شخصیت کے مالک تھے۔اردو ادب میں کم ہی ایسے شعرا نظر آتے ہیں جنہوں نے بیک وقت شاعری کے تمام اصناف میں دسترس حاصل کی ہیں۔آپ نے شعر و ادب کے تمام اصنافِ سخن میں باکمال طبع آزمائی کی اور خوب نام کمایا۔حمد،نعت،منقبت مرثیہ قصیدہ غزل ہزل نظم تظمین قطعہ رباعی اور تثلیث پر موصوف نے بتمام و کمال یکساں کام کیا۔آپ کی شاعری کا معیار و اسلوب انتہائی سلیس و شستہ عام فہم اور بامعنی ہے جس میں ابہام اور تصنع کے تکلفات کا گذر نہیں۔آپکو برجستہ فی البدیہ شعر گوئی کا خداداد ملکہ حاصل تھا۔اولا" آپ نے خوب قوالیاں لکھی جسے ملک و بیرون ملک کے نامور قوالوں نے گا کر شہرت کی بلندیوں کو چھودیا۔آپ کے حمدیہ و نعتیہ کلام کو برسوں تک میلاد کی محفلوں میں بڑی عقیدت و احترام سے پڑھا اور سنا گیا۔استاد ہنرؔ کی شاعری میں جذبوں کی صداقت،خلوص کی حلاوت،کردار کی عظمت،حق بیانی کی حرارت،علم و ہنر کی لطافت،خودی کی عزت اور شعری بلاغت کا رنگ غالب ہے جس میں زندگی کی تلخیاں، حوادث زمانہ سے مباحث روز و شب کی ہنگامہ آرائیوں سے نبرد آزامائی کا ہنر،شعور و آگہی،فہم و فراست،حب الوطنی،اخلاق و کردار کی پاسداری،گزرتے ہوئے حالات میں احساسات جذبات اور حیات جاودانی کا خوبصورت احساس ہیں۔آپ نے شاعری کو زمینی حقائق اور معاشرتی اقدار کی تعمیر و تشکیل کا انوکھا رخ عطا کیا۔موصوف نے سخنوری میں سماجی بگاڑ اور اخلاقی قدروں کی پامالی پر نقدوجرح طنزومزاح کا استعمال اک شفیق و کریم مصلح و مربی کی حیثیت سے کیا ہے۔شیروشکر لہجہ سے مہکتا دلپذیر مجموعۂ کلام "پتھروں کے شہر میں" خوبصورت گلاب کی پتیوں جیسے ملائم احساسات اور شیشوں جیسے نازک جذبات کی ترجمانی کرتا سدا بہار کلام دنیائے ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔۔مذکورہ بالا احساسات کی ترجمانی کرتے آپ کے مجموعۂ کلام کے چند منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
دن میں احساس کے شعلوں میں جلایا اس نے
رات بن کر میرا سایہ بھی چرا اس نے
زاہد کو عمر بھر جو میسر نہ آسکا
وہ لطف مجھ کو ایک ہی سجدے میں آگیا
ہر اک سانس مری کیوں نہ اب معطر ہو
جو زخم تونے دیا،وہ گلاب ہے دل کا
میں آئینہ ہوں مجھے توڑنے کی فکر نہ کر
اے دور سنگ، ادھر آ سنوار دوں تجھ کو
رہبرِ قوم نہیں، قوم کا رہزن ہے وہ
وقت کے ساتھ ارادہ جو بدل دیتا ہے
مرحبا بعد از ولیؔ بعد از سراجؔ
وجدؔ یعقوبؔ و بشرؔ روشن ہوئے
ہر صدی میں تجھ پہ اے ارض دکن
ماہرِ علم و ہنرؔ روشن ہوئے
کیا شئے ہے لفظِ درد یہ اس کو پتہ نہ تھا
جب تک خود اس کے پاؤں میں کانٹا چبھا نہ تھا
سجدے میں ہو سر دل میں ہو فردوس کی خواہش
اے شیخ میں ایسی عبادت نہیں کرتا
قیدِ مقتل ضربِ خنجر سے گزر جانے کے بعد!
آج بھی زندہ ہوں میں اس دنیا میں مرجانے کے بعد
چیخ کر کہتا ہے میری سرد آہو کا لہو
کب تلک ہوگا وطن میں بے گناہوں کا لہو
یہ کہہ کر جنگ کے میداں میں دی جاں اک سپاہی نے
لہو کا آخری قطرہ وطن کے نام لکھ دینا
وقت مشکل تیرے دیوانے ہنرؔ نے یا رب
نہ لیا نام کسی کا بھی تیرے نام کے بعد
ہنرؔ صاحب کی شاعری میں جابجا صالح اقدار،پاکیزہ جذبات،تعمیری تفکرات اور اصلاحی نظریات کی عکاسی نظر آتی ہے جو ان کی شاعری کا سب سے ہمہ رنگی شاندار اور جاندار پہلو ہے۔آپ نے عظیم شعراء کے معرکۃ الآرا غزلوں اور نظموں کی کامیاب تظمینیں کی ہے۔آپ کا کلام حسن اخلاق راست بازی نیک روی مذہب پسندی اور خداپرستی کے پائیدار جذبات سے معطر و مزین ہے۔آپ راسخ العقیدہ صحیح الفکر مومنانہ کردار کی حامل شخصیت تھے۔علمی فکری اور ادبی کاوشوں میں موصوف علامہ عامرعثمانیؒ کی فکر سے ہم آہنگی اور مماثلت رکھتے ہیں۔ہنر سلوڑی صاحب کا وصال دنیائے ادب کا عظیم اور ناقابل تلافی خسارہ ہے،استاد محترم کی وفات حسرت آیات پر نم آنکھوں سے خراج تحسین اور اظہارِ عقیدت پیش ہے
لئے اعمال اپنے ساتھ سب قبروں میں لیٹے ہیں!
نشاں باقی رہے، میں اس لئے کتبے بناتا ہوں
مجھ کو دنیا سے ہنر کون مٹا سکتا ہے!
میں تو شاعر ہوں کتابوں میں بکھر جاؤں گا
کون کہتا ہے اجل نے مجھ سے چھینی زندگی
درحقیقت جس نے دی تھی اس نے لے لی زندگی
اللہ رب العزت مرحوم سید عباس علی ہنر سلوڑی کی مغفرت فرمائے درجات کو بلند فرمائے غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
شمس جالنوی صاحب کا مکمل تعارف درج ذیل تحریر میں ملاحظہ فرمائیں۔
http://123aamerrahi.blogspot.com/2020/07/blog-post_93.html
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں