نفرت ‏کے ‏سوداگروں ‏سے ‏قانونی ‏جنگ ‏لڑی ‏جائیں۔۔۔

   نفرت کے سوداگروں کی زہرآلود ذہنیت آشکار۔۔!

عامرفہیم راہیؔ،جالنہ
8329953822📱
        
       عیدالاضحی کی آمد، آمد ہے۔پوری دنیا میں مسلمان عیدالاضحی کو بڑی عقیدت و احترام تزک و احتشام کیساتھ مناتے اور بارگاہ ایزدی میں جانوروں کی قربانی کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔اور منائیں بھی کیوں نہ،اس کی پاکیزہ نسبت حضرت سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیھم السلام کی فقیدالمثال عظیم الشان تاریخی قربانی سے منسوب ہے۔ہر قوم میں روزہ کی طرح قربانی کا تصور بھی مستحضر ہے۔۔۔ہمارے ملک میں گزشتہ چند برسوں سے متشدد فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے  شعائرِاسلام اور مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہیں۔جس میں میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون گردانا جاتا ہے جو اب پوری طرح سے زعفرانی نظریات میں رنگ چکا ہے کی طرف سے فرقہ وارانہ منافرت اور زہر آلود ٹی وی مذاکروں کے ذریعہ ماحول کو متعفن کرنے کی کوشش میں برسرکار ہے۔مسلمانوں سے نفرت اور بیزارگی کا کوئی موقع ایسا نہیں چھوڑا گیا جس سے عوام الناس کے ذہنوں میں غلط فہمیاں نہ بھری گئی ہو۔حال ہی میں کورنا وائرس کو تبلیغی جماعت سے منسوب کرکے مسلمانوں کو تختۂ مشق بنایا گیا۔جس کے خاطر خواہ نتائج زمینی سطح پر نمودار ہوچکیں ہیں۔بقرعید کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پھر اک بار موڈیا کے کان کھڑے ہوچکیں ہیں۔نفرت کے سوداگروں کی زہر آلود خبیث الفطرت ذہنیت اک بار پھر آشکار ہوگئی۔نیشنل ٹی وی چینل نیوز انڈیا 18 کے بدنام زمانہ اینکر نے گذشتہ دنوں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی شان میں دریدہ دہنی اور دشنام طرازی کی تھی خاطر خواہ قانونی چارہ جوئی سے خوفزدہ ہوکر وضاحتی بیان دے کر معافی بھی مانگ لی تھی۔تاہم دوبارہ بقرعید کا بہانہ بنا کر مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کا شاطرانہ کھیل شروع ہوچکا ہے۔ادھر کچھ دنوں پہلے فرقہ پرستوں کی جانب سے ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں عوامی مقامات پر ہورڈنگز آویزاں کر جانوروں کی زبانی انسانیت کا درس دیا جارہا تھا۔انکی انسانیت نہیں جاگتی اس وقت جب نہتے معصوم لوگوں کو درندوں کی خونخوار بھیڑ لقمۂ اجل بنا دیتی ہیں۔واقعہ ایک نہیں ہے کہ جس کی نشاندہی کی جائے درجنوں واقعات میں سینکڑوں معصوم اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اس وقت جب مظلوم کوئی اقلیتی سماج کا فرد ہوتا ہے ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں اور چیخیں نکل پڑتی ہیں جب معاملہ اسلام اور اہل اسلام کے شعائر اور تمدن کا ہوتا ہیں،ان کی آنکھیں چمک پڑتی ہیں جب معاملہ مسلمانوں کی ذات کو نشانہ بنانےکا ہوتا ہے۔بات قربانی کی چل رہی ہے تو کچھ مثالیں اقوام عالم کی لیتے ہیں۔
فیسبک سے نقل شدہ اقتباس 
"جب سپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہوجاتے ہیں اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں ، 
"یہ توکھیل ہے!
 اور جب ڈین مارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈالفن کو قتل کردیتے ہیں. 
  (یہاں تک کہ سمندر کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے)
 وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک "تہوار
 ( مھرجان) ہے!
 اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پہ ماردیتا ہیں اپنے عقیدے کے مطابق انکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں. 
  وہ کہتے ہیں "عقیدہ اور مذہب!
 اور جب عیسائی بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں
  نئے سال کے دن اور اسکو وہ اپنا مقبول کھانا اور تہذیب و تمدن کا حصہ کہتے ہیں. 
جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں متعدد دھارمک استھلوں پر جانوروں کو بے رحمی سے بلی چڑھا دیا جاتا ہیں اس وقت کہتے ہیں یہ ہماری دھارمک شردھا ہے۔۔۔
 لیکن جب مسلمان خدا کے لئے کسی جانور کو قربان کرکے اتنا احتیاط برتیں کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ پانی ڈال کر کوئی اور جانور سامنے نہ ہو اور انکا گوشت دنیا کے مساکین میں تقسیم ہو۔۔اس وقت انہیں انسانیت یاد آتی ہے۔فی الواقع درندوں کی زبانی انسانیت کا نام بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔
 زعفرانی وچاردھارا کے پلے ہوئے سوشل میڈیائی کیڑے نمودار ہوتے ہیں.اسلام اور قربانی کے خلاف اپنی بکواسیات شروع کردیتے ہیں دوسری جانب مسلمانوں کی صفوں میں چھپے ہوئے لبرل ازم اور منافقت کے پروردہ بیشتر سوشل میڈیائی مینڈکیں غرانا شروع کردیتی ہیکہ معصوم جانوروں کی قربانی ظلم ہے اسلام ہر طرح کے ظلم سے روکتا ہے تو یہ کیوں۔۔؟؟ قربانی کے جانور خریدنے سے بہتر ہے کسی غریب کی مدد کی جائے وغیرہ۔
لیکن یاد رکھیں قربانی فرض ہے جس کا ادا کرنا ہر صاحب حیثیت کے لئے ہر حال میں ضروری ہے قربانی اعلی انسانی اقدار کا مظہر اور حق بندگی کا عملی پیکر ہے قربانی عالمگیر مواخات مواسات ترحم اور جذبۂ ایثار کا نمونہ ہے قربانی خالق سے مخلوق کے والہانہ تعلق کا عدیم المثال اعلان بندگی ہے قربانی سراپا عجزونیازمندی کی دلیل ہے جس میں خالق سے روحانی تعلق کیساتھ مخلوق کی دادرسی یتیموں یسیروں اور بےبسوں تک صحت مند جانور کا گوشت پہچاکر اس کی ضرورت پوری کرنے کا درس ہے۔۔۔
قربانی کے موضوع کو زیر بحث بنانا انسانیت کے دشمنوں کی انسانیت نوازی نہیں بلکہ سماج دشمن عناصر کی سماجی امن و امان کو تاراج کردینے والی مذموم حرکت ہیں۔۔۔جس کا بروقت سدباب کرنا مسلمانوں کے لئے اشد ضروری ہے ورنہ گذشتہ تجربات اور مشاہدات گواہ ہیکہ بروقت کی خاموشی کی تلافی بے وقت کے راگ الاپنے سے پوری نہیں ہوا کرتی۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب