قسط۸؀ ‏سینئر ‏ ‏ڈاکٹر ‏مصلح ‏الدین ‏صدیقی ‏صاحب

        ﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
            مستقل تعارفی سیریز٭قسط۸؀
                   
                 ☆روشــــن چــــــراغ☆
                 ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

 آج کے خصوصی مہمان 
     محترم الحاج
           ڈاکٹر محمد مصلح الدین صدیقی

       معزز قارئین۔۔! انسان کی زندگی میں ترجیحات کی غیرمعمولی اہمیت ہوتی ہیں۔مقصد کا تعین اور اس کو حاصل کرنے کی دلسوز چاہت اور تھکا دینے والی جدوجہد ایک دن انسان کو کامیاب ترین مقام پر کھڑا کردیتی ہیں۔ایک کامیاب انسان کی زندگی میں غیرمعمولی حالات،مسائل اور دشواریوں کا لامتناہی سمندر ہوتا ہے ۔لیکن عزمِ مصمم اور حصولِ مقصد کی تڑپ اور محنت ہائے شاقہ کے سامنے سمندری طغیانیاں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔علم انسان کو معزز اور معتبر بنا دیتا ہے اور فن میں اختصاص  شخصیت کو باکمال بنا دیتا ہے۔

    بطورِخاص طلبہ اور نوجوان برادری کے لئے ہمارے آج کے معزز مہمان کی زندگی میں غیرمعمولی سبق اور درسِ نصیحت ہیں۔۔۔ڈاکٹر مصلح الدین صدیقی زم زم ہاسپٹل قدیم جالنہ کا شمار مراہٹواڑہ کے سینئر ماہر سرجن ڈاکٹروں میں ہوتا ہے۔آپ کی پیدائش جالنہ ضلع کے اہم تعلقہ عنبڑ کے ایک تعلیمی متوسط قاضی خطیب گھرانے میں5/ستمبر سن1940ء کو ہوئی۔آپ کے نانا قاضی علیم الدین صاحب(مرحوم)کا شمار جالنہ ضلع کی معزز،بااثر و پروقار شخصیات میں ہوتا تھا۔موصوف کی بنیادی تعلیم عنبڑ کے مدرسہ تحتانیہ میں ہوئی۔مڈل و ہائی اسکول ملٹی پرپز ضلع پریشدجالنہ سے کرنے کے بعد 1965ء میں اورنگ آباد میڈیکل کالج سے MBBS کی ڈگری حاصل کی اور مزید اعلی تعلیم کے حصول کے لئے 1972ء میں گرانڈ میڈیکل کالج JJ ہاسپٹل بمبئی سے ماسٹر آف سرجری MS کیا۔اس لحاظ سے آپ جالنہ ضلع کے پہلے مسلم سرجن قرار پائے۔آپ کی جالنہ آمد سے قبل طبی میدان میں ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب اور ڈاکٹر شیرخان صاحب کی غیرمعمولی خدمات جاری تھی۔ تاہم آپ کی آمد سے کام میں آسانی ہوگئی اور پریشان حال بیماریوں سے نڈھال مریضوں کے علاج معالجہ میں یکسوئی پیدا ہوگئی۔1974ء تا 1976ء تک موصوف جالنہ گورنمنٹ ہاسپٹل میں سینئر میڈیکل آفیسر رہے۔اس کے بعد حکومتِ ایران کی خصوصی دعوت پر بھارتی حکومت کی جانب سے بطورماہر معالج طبی خدمات و طبی تربیت کے لئے ایران تشریف لے گئے وہاں پر طویل عرصہ خدمت انجام دینے کے بعد موصوف سعودی عرب کی راجدھانی ریاض کے مشہور و معروف ہاسپٹل میں بحیثیت جنرل فیزیشین آف سرجن سعودی حکومت کی جانب سے مامور کئے گئے۔۔بیس سال پر مشتمل طویل عرصہ تک آپ نے مذکورہ ہاسپٹل میں طبی خدمات انجام دی اس دوران تقریبا ہر سال آپ سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کی طبی خدمات اور علاج و معالجہ کے لئے بطور سینئر ڈاکٹر منتخب کئے جاتے رہے اس لحاظ سے موصوف کو اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ حج بیت اللہ اور عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔موصوف سن 1998ء کو وطن واپس لوٹ گئے اس کے بعد سے تاحال آپ اپنے قائم کردہ زم زم ہاسپٹل قدیم جالنہ میں طبی خدمات اور مریضوں کے علاج معالجہ میں یکسوئی سے مصروف ہیں۔آپ کی شعبۂ طب سمیت مختلف اہم ترین شعبۂ جات میں قابلِ قدر و لائق ستائش خدمات ہیں۔موصوف کی گوناگو مصروفیات کی وجہ سے آپ کی اہلیہ نے اولاد کی بہترین اعلی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آپ کو ایک فرزند اور دو صاحبزادیاں ہیں۔اور تینوں بھی اعلی تعلیم سے آراستہ ہیں۔آپ کے لائق فرزند ڈاکٹر جلال الدین سرمد صدیقی راچسٹریونیورسٹی نیویارک امریکہ میں اسسٹنٹ پروفیسر آف میڈیسن کے عہدہ پر فائز ہے جبکہ دیگر دونوں صاحبزادیاں امریکہ ہی میں مقیم ہیں جس میں ایک ڈاکٹر(ڈینٹسٹ) اور دوسری امورِخانہ داری میں مصروف ہیں۔اس حوالے سے آپ کا اکثر وقت امریکہ میں گذرتا ہے سال میں تقریبا چھ مہینے موصوف بیرون ملک گذارتے ہیں(ڈاکٹر صاحب اور ان کی اولاد کی ہمہ جہت ترقی میں آپ کی اہلیہ کا غیرمعمولی کلیدی کردار رہا ہے۔)ملت کی تعلیمی پسماندگی سے موصوف بیحد فکرمند اور متاثر نظرآتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے بقول "آپ کے خصوصی فکری و مالی تعاون اور کونسلنگ و رہنمائی کے نتیجہ میں کئی متوسط و غریب ہونہار اور ذہین طلبہ اعلی تعلیم حاصل کرکے ملک و بیرونِ ملک میں اعلی عہدوں پر خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں غریب اور متوسط طلبہ کی تعلیمی و معاشی امداد اور خصوصی کونسلنگ اور رہنمائی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جو ناصرف موصوف کا سرمایۂ حیات ہے بلکہ اخروی نجات کا ذریعہ بھی ہے۔یہ محدود اور خاموشی میں انجام دیا جانے والا کام اب اپنی تمام تر تنگ دامانیوں سے آزاد ہوکر وسعتِ عام ہوا چاہتا ہے۔(تحقیق طلب)۔"
مسلم معاشرہ میں بےشمار ذہین و فطین طلبہ گھریلوں معاشی مسائل سے متاثر ہوکر اپنی غیرمعمولی صلاحیت اہلیت اور قابلیت کے باوجود بادلِ ناخواستہ تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔سماج کے بااثر اہلِ ثروت مخیر حضرات کو اس میدان میں کھل کر سامنے آنے کی سخت ضرورت ہیں۔۔
موصوف خدمتِ خلق کے کاموں میں حتی المقدور حصہ لیتے ہیں اس کی ایک مثال مولانا غلام محمد وستانوی صاحب کے قائم کردہ ادارہ نورہاپسٹل و میڈیکل کالج بدناپور ضلع جالنہ کی سٹی برانچ اپنے ہاسپٹل میں قائم کرنا ہے جس میں غریب اور ضرورت مند مریضوں کا علاج میڈیکل کالج کے فائنل ایئر کے طلبہ کے ذریعہ بالکل مفت کیا جاتا ہے۔آپ مناسب مشاہرہ پر ضرورت مند عوام کے علاج معالجہ اور پیچیدہ آپریشن کے ماہر کی حیثیت سےجانے جاتے ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراثر قائم کردہ اصلاحِ معاشرہ کمیٹی ضلع جالنہ کے معززرکن ہے۔مسلم معاشرہ کے دینی و ملی مسائل کے لئے موصوف کافی فکرمند رہتے ہیں۔آپ کی اسی فکر اور تڑپ کے نتیجہ میں ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب کی کوششوں و کاوشوں کے نتیجہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے قائم کردہ دارالقضاء کے آپ صدر منتخب کئے گئے لیکن اپنی گوناگو مصروفیات اور بیرونِ ملک اسفار کی کثرت کی وجہ سے آپ ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے۔آپ کو طبی خدمات کے پیشِ نظر مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف توصیفی اسناد اور ایوارڈز سے بھی نوازا جاچکا ہے۔
موصوف انتہائی کم سخن،خاموش مزاج اور اپنی دھن میں مگن سنجیدہ طبیعت کے مالک ہے۔

                     ☆پیغامِ عمل☆
تعلیم ہی امراضِ ملت کا سب سے بڑا علاج اور مسائل کا حل ہے لہذا نوجوانوں کو موجودہ حالات میں غیر ضروری کاموں اور لایعنی باتوں سے بچا کر تعلیم کے لئے یکسوں کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔نوجوان اپنی صحت کا خیال رکھیں گذشتہ سالوں کے مقابلہ میں خصوصا مسلم نوجوانوں میں تیزی کیساتھ نشہ کی لت پروان چڑھتی جارہی ہیں۔یہ بات قابلِ تحسین ہیکہ اس کے لئے مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے اصلاحی کوششیں ہورہی ہیں تاہم اس وقت نوجوانوں کو اس لعنت سے بچا کر مثبت اور تعمیری کاموں کی طرف رہنمائی کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔۔۔
آج بتاریخ اکیس مارچ بروز اتوار طویل علالت کے بعد موصوف کا انتقال ہوگیا۔اللہ رب العزت ڈاکٹر مصلح الدین صدیقی صاحب کی مغفرت فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•
                   📱8329953822

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب