قسط نمبر15‏محترم مولانا ‏بشیر ‏احمد ‏راہیؔ ‏صاحب

        ☆جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش☆
             مستقل تعارفی سیریز قسط۵۱؀
                  ☆روشــــن چــــــراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

معزز قارئین۔! 
علاقۂ مراہٹواڑہ میں ضلع جالنہ کو تاریخی جغرافیائی اور صنعتی و تجارتی لحاظ سے غیر معمولی شہرت و مقام حاصل ہے۔شہرِجالنہ کو جہاں سیاست و معیشت میں شہرت حاصل ہوئی وہیں پر اس مقام کو علم و ادب اور شعر و سخن کے منفرد انداز و اسلوب نے ملک گیر سطح پر اپنی انفرادیت کے حوالے سے متعارف کروایا ہے۔جالنہ میں شعر و ادب کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی علاقۂ مراہٹواڑہ میں اس کو معلوم و محسوس کیا جاتا ہے۔یہاں بڑے بڑے فنکار،شاعر،ادیب اور طنز و مزاح نگار پیدا ہوئے جن کے فن کی مہارت نے اپنے اپنے میدانوں میں اپنی قابلیت اور عظمت کا لوہا منوایا ہے۔ملک گیر شہرت و مقبولیت کے حامل دسیوں روشن ستارے اردو ادب کے افق پر اپنی آب و تاب کیساتھ جگمگاتے رہے ہیں۔ہمارے آج کے خصوصی مہمان اردو ادب کے باکمال خوش فکر کہنہ مشق استاد شاعر محترم بشیر احمد راہی صاحب 

آپ کا مکمل نام بشیر احمد ولد احمد شریف ہے۔آپ کی پیدائش ۱۳/فروری سن ۱۹۵۵ء کو قریشی محلہ مدینہ چوک قدیم جالنہ میں ہوئی۔(والدِ مرحوم کا آبائی وطن اندھاری تعلقہ سلوڑ ضلع اورنگ آباد تھا آپ پولس محکمہ سے وابستہ تھے۔قدیم جالنہ پولس اسٹیشن میں پولس جمعدار کی حیثیت سے برسرکار تھے۔آپ کی دیانتداری اور نیک نامی کا تذکرہ آج بھی پولس محکمہ میں ملتا ہے۔) موصوف کی بنیادی تعلیم چھوٹا تکیہ پرائمری اسکول پیٹھن گیٹ اورنگ آباد میں ہوئی۔وہاں سے بھوکردن چلے گئے جہاں مڈل اسکول تک تعلیم حاصل کی طبیعت میں دینی تعلیم کے حصول کی چاہت غایت درجہ راسخ ہونے کے نتیجہ میں عصری تعلیم کیساتھ دینی درسگاہ جامع مسجد بھوکردن میں داخلہ لیا مولوی نصیر احمد  صاحب کے پاس ناظرہ قرآن تجوید اور بنیادی دینی تعلیم کی تکمیل کی سن ۱۹۶۹ء میں مولانا غفران احمد صدیقی صاحب بھوکردن تشریف لائے آپ کے پاس حفظ قرآن کا آغاز کیا ۶ پارے حفظ ہوئے تھے کہ نجی اعذار کے پیش نظر تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔مولانا غفران احمد صدیقی کی صحبت میں علمی فکری اور تحریکی ذوق پروان چڑھا۔قرآن مجید سے والہانہ وارفتگی اور کثرتِ مطالعہ کی برکت سے علوم دینیہ میں دسترس حاصل کی۔سن ۷۱ء میں اورنگ آباد واپسی ہوئی ۷۴ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اس دوران اورنگ آباد میں محترم اشفاق احمد صاحب مرحوم(سابق سیکریٹری جماعت اسلامی ہند)نے نوجوانوں کی ہمہ پہلو تربیت کے لئے شاہین اسلامک سرکل قائم کیا تھا آپ اس سے وابستہ ہوگئے محترم اشفاق احمد صاحب کی خصوصی تربیت توجہ اور عنایات کے نتیجہ میں تحریک  اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔آپ کا مطالعہ نہایت وسیع و عمیق ہے زمانۂ طالب علمی سے تاحال ذاتی طور پر مختلف معرکۃ الآرا تفاسیر تفہیم القرآن تدبر قرآن معارف قرآن ابن کثیر فی ظلال القرآن وغیرہ سمیت بیشتر مفسرین کی مایہ ناز تفسیری خدمات سے اکتساب فیض جاری ہے۔تاریخ فقہ اور حدیث کی کتابوں سے خوب استفادہ کیا۔دوسال اشفاق احمد صاحب کی ایماء پر مختلف دینی درسگاہ(مکاتب) میں تدریسی خدمات انجام دی۔آپ کی عصری تعلیم خالص مرہٹی میڈیم سے ہوئی تاہم ذاتی شغف ادبی ذوق،کثرتِ مطالعہ اور قرآن مجید سے والہانہ تعلق کی برکت سے موصوف کو مرہٹی سمیت اردو اور عربی زبان میں دسترس حاصل ہے۔سن ۷۵ء میں سلوڑ شہر میں سکونت اختیار کرلی جہاں نیشنل اردو اسکول میں اعزازی معلم دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دی اس دوران آپ کا تعلق استادِسخن حضرت ہنر سلوڑی مرحوم سے قائم ہوا وہیں سے آپ کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔آپ نے اس وقت دینی و تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مقامات کنڑ فرداپور بیڑکن تانڈابازار اور کستور باڑی وغیرہ پر امام و خطیب اور معلم و مدرس کی حیثیت سے طویل عرصہ تک خدمات انجام دی دروس قرآن کے حلقے منظم کئے معاشی یکسوئی کے لئے گھڑی سازی کے ہنر کو بطور پیشہ اختیار کیا۔سن ۸۶ء میں بھوکردن قیام کے دوران الھدی اردو اسکول میں اعزازی معلم دینیات اور جامع مسجد و دینی درسگاہ بھوکردن میں نائب امام و خطیب اور معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے بنیادی ممبر رہے سن ۸۸ء میں جماعت اسلامی کے باضابطہ رکن بنے۔سن۸۸ء ہی میں جماعت اسلامی جالنہ کے ذمہ داران کے اصرار پر اپنے اصل وطن کی طرف مراجعت کی اور یہی پر مستقل سکونت اختیار کرلی۔مختلف جماعتی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔نورشاہ مسجد بس اسٹینڈ کے بالکل ابتدائی مرحلہ میں امام و خطیب کی حیثیت سے تقریبا تیرہ سال خدمات انجام دی۔جالنہ شہر میں مولانا عبدالقیوم قادری صاحب اور مولانا غفران احمد صدیقی صاحب کیساتھ شہر کی بیشتر مساجد میں دروس قرآن کے حلقے منظم کئے۔آپ ایک کامیاب مدرس قرآن، باکمال مقرر مخلص مصلح قوم و ملت اور عالمانہ وقار کی حامل ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہے۔آپ کے نایاب دروس قرآن خطبات جمعہ اور خطبات نکاح کے سلسلے نے سیکنڑوں لوگوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب برپا کردیا ہیں۔آپ نے شہر جالنہ میں فکراسلامی کے فروغ اور تحریک اسلامی کے شعور و آگہی کےلئے علمی فکری اور تحریکی جرائد و رسائل کی ترسیل کا کام کیا۔مولانا محترم کی زندگی جہد مسلسل اور عمل پیہم کی عکاس ہے آپ نے زندگی میں بےشمار تلخ و ترش تجربات اور نامساعد حالات کا سامنا صبر و استقامت مضبوطی اور پامردی کیساتھ کیا۔اخبارات و رسائل کی ترسیل،گھڑی سازی اور پرنٹنگ پریس میں غیر معمولی محنت ہائے شاقہ کے ذریعہ معاشی و معاشرتی ضروریات کی تکمیل کی ۔سن۲۰۰۰ء میں علامہ اقبال اردو ہائی اسکول میں ملازمت اختیار کی اور سن ۲۰۱۵ء میں حسن خدمات سے سبکدوش ہوئے۔مولانا محترم کی ہمہ گیر شخصیت کے تمام پہلوؤ پر ایک تحریر میں روشنی ڈالنا ممکن نہیں ہیں۔۔۔
  شاعرانہ حیثیت و عظمت۔۔۔
ادب انسانی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے،ایک شاعر و ادیب سماج کا مصلح اور معمار ہوتا ہے۔شعر گوئی اللہ رب العزت کی عطا کردہ عظیم الشان نعمت ہے۔بامقصد،مثبت، تعمیری فکر اور اخلاق و کردار کی نشوونما کرنے والی شاعری کو دین اسلام میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔۔۔
شاعر حقیقت حال کا آئینہ دار ہونا چاہئے۔بے مقصد منفی تخریبی اور اخلاق سوز شاعری کا رجحان سماج کے لئے ناسور ہوتا ہے۔
 مولانا محترم کا شمار جالنہ کے قدیم کہنہ مشق شعراء میں ہوتا ہے۔گذشتہ ۴۵ برس سے اردو ادب کی الجھی ہوئی گیسؤوں کو خاموشی کیساتھ سلجھانے اور سنوارنے کا کام کرنے والی شخصیت کی پہچان شہر جالنہ میں مذہبی و تحریکی فرد کی حیثیت سے معروف ہے مولانا محترم کی شناخت دینی مصلح،خادم قرآن بہترین مقرر وخطیب اور مربی و مزکی کی ہیں آپ کی مقبولیت اور نیک نامی کی باوجود شاعرانہ عظمت پردۂ اخفا میں مستور ہے۔جس کے آپ خود بھی قائل ہے اس شعر کی مصداق کہ۔
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل  محفل  صحبت  رکھو  دنیا  میں  گمنام  رہو
شہر جالنہ میں ادب اسلامی کے فروغ کے لئے آپ نے خوب کوششیں کی،جماعت کے شعبہ ادارۂ ادب اسلامی جالنہ کے آپ مؤسس رکن اور روح رواں ہیں جس کے تحت تعمیری فکری اور ادبی نشستوں کا انعقاد وقتا فوقتا عمل میں آتا رہتا ہے، آپ کا مرصع کلام بارہا اخبارات رسائل و جرائد کی زینت بنتا رہا ہیں۔علاقۂ مراہٹواڑہ کے مختلف مقامات پر مشاعروں میں آپ اکثر اپنا کلام پڑھتے ہیں۔آکاشوانی اورنگ آباد سے آپ کا کلام نشر ہوتا رہا ہیں۔
موصوف کی شاعری کا موضوع کردار کی بلندی اخلاق کی پاکیزگی دینی و ملی حمیت سماجی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب سے بحث کرتا ہے۔جن میں تاریخی تلمیحات قرآن و حدیث کی منظوم ترجمانی زندگی کی حقیقت تلخ و ترش تجربات کا رنگ نمایا نظر آتا ہے۔جدید لب و لہجہ کی شاعری میں قدیم روایات کی پاسداری   فکر انگیز اشارات عصرِجدید کے مسائل پر بےلاگ تجزیہ آپ کی شاعری کا معیار متعین کرتا ہے۔
شاعر کا کام محض بزم سخن میں لفظوں کی نمائش کرنا یا الفاظ کے موتیوں کو غزل کے ہار میں پروکر خوش نمائی کے جوہر دکھانا نہیں ہوتا بلکہ شاعر ایک پاکیزہ معاشرہ کا معمار معاشرتی بیماریوں کا معالج اور اخلاقی بگاڑ کا مصلح ہوتا ہے شاعری کے ذریعہ پاکیزہ فکر کو منتقل کرنا اصل کام ہوتاہے۔۔ شعری و ادبی تاریخ میں منفی و مثبت رجحانات زندگی کی حقیقتوں سے متعلق تلخ و شیریں تجربات زمانہ کی بےوفائیوں اور رسوائیوں کی تلحیمات غربت و افلاس دغا و وفا عشق و سرور جیسے اشارات بکثرت نظر آجاتے ہیں۔۔۔جن میں جام و سبوں کباب و شباب ساقی و مینا دیر و میخانے اور صحرا و گلشن کے استعارے مستعمل ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔فی زمانہ شاعری کا معیار زلفِ یار،لب و رخسار،وصال و اتصال اور عشق و معشوقی کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔
شاعر کا شعری سرمایہ اس کی فکر کا نمائندہ اور نظریہ کا ترجمان ہوتا ہے۔جو وہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسے الفاظ کی مدد سے اشعار کی شکل میں مرتب کرتا جاتا ہے۔
موصوف کی شاعری کا معیار عظمتِ رفتہ کی یافت، بلندئ کردار تعمیرِ اخلاق اور فکرو عمل کی دعوت سے معمور و مزین ہے جس کا اسلوب سشتہ سائشتہ اور شگفتہ ہے۔جن میں بےجا لفظی تکلفات،پرمغزاصطلاحات،فہم و ادراک سے مستثنی استعارات سے صرف نظر عام فہم ندرتِ کلام اور تسلسلِ بیان کی حلاوت محسوس ہوتی ہیں۔اپنے افکار و خیالات کی ترویج کے لئے شاعری کو مولانا محترم نے وسیلۂ اظہار بنایا اور بہت خوب بنایا ہیں۔
کردار کی تلاش میں لکھی گئی معرکۃ الآرا نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
صحراء میں وادیوں میں آبادیوں میں بن میں
خلوت کدوں میں ڈھونڈا دیکھا ہے انجمن میں
رہزن  چھپے  ہوئے  ہیں  رہبر  کے  پیرہن  میں
برسوں  ہے  خاک چھانی ملتا نہیں وطن میں
کیا  بات  ہے  کہ  سکہ  تیرا  نہیں  چلن  میں
تؤ  چھپ  گیا  کہا  پر کس گور میں کفن میں 
تجھ کو تلاش کرلوں اک دھن ہے میرے من میں 
آواز دے رہا ہوں کردار تو کہا ہیں۔۔۔
آپ کی شاعری میں جہاں مذہب کا رنگ نظر آتا ہے۔وہیں پر قبوری تصوف ریاکارانہ زہد اور تجاہلِ عارفانہ پر شدید تنقید کی ضرب پڑتی دکھائی دیتی ہے۔جس کی مثال چند اشعار میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔۔
خوب تر ہے آپ کے چہرے پہ سجدے کا نشاں
ہاں  مگر  خوف خدا بھی دل پہ طاری کیجئے

کردار  کے  غازی  ہیں  کہاں  تیرے شہر میں
واعظ ہیں بہت شعلہ بیاں تیرے شہر میں

سجدہ  ریزی  یہ  تلاوت  یہ  مناجات  مگر
حیف ہے روح عبادت کو نہ   سمجھا کوئی
روایتی شاعری میں جہاں عشق و معشوقی لب و رخسار زلفِ یار و لیلاوی داستانوں کا رواج ملتا ہے وہیں پر موصوف کے کلام میں دعوت و عزیمت جفاکشی و قربانی زنداں و دار تیغ و سپر تلوار و مسواک کا تذکرہ ملتا ہے۔
 کب تک زلفِ یار کی باتیں،چھوڑ لب و رخسار کی باتیں!
کچھ زنداں کچھ دار کی باتیں،میں بھی کرتا تؤ بھی کر!
افراط و تفریط سے بچ کر یار توازن پیدا کر۔!
تلوار اور مسواک کی باتیں میں بھی کرتا تؤ بھی کر
موصوف کی شاعری میں فکرآخرت،غیرتِ خودی،عزت نفس جفاکشی تنقید و مصالحت جرأت و صداقت زندگی کی حقیقت درد و سرور اور زندہ ضمیری و اپنائیت کے مشترک جذبات مؤجزن ہیں۔
گلی کؤچو میں خنجر کی جوانی رقص کرتی ہے!
فصیلوں کے نگر میں بے مکانی رقص کرتی ہے!
بہت چرچے تھے محفل میں تیری شعلہ بیانی کے
مگر تربت پہ دیکھو بے زبانی رقص کرتی ہے!
جسے ٹھکرادیا تھا میری خود داری نے اے راہیؔ
میرے آگے وہی دنیائے فانی رقص کرتی ہے!
  آپ کی شاعری میں مثبت فکر دعوت حرکت و عمل اور صالح معاشرہ کی بنیادی قدروں کا پیغام پوشیدہ ہیں۔
کمالِ آدمیت سے مزیّن جن کو ہونا تھا
نظر آتے ہیں ہم کو وہ جواں آئینہ خانوں میں
اذانیں روز ہوتی ہیں، مگر تاثیر سے خالی
تقاضہ ہے کہ ہو روحِ بلالیؓ اب ازانوں میں

 پیکرِ اخلاص ہو تو بندگی میں ہے مزہ
بندگی میں کیا ریا کی آمزش کرنے لگے۔!

 تڑپنا جس کی فطرت ہے وہی دل ہم نے پایا ہے
ہمیں تو دشمنوں کا درد بھی دیکھا نہیں جاتا

 جو بھی کہنا ہے برملا کہیئے
مردِ مومن کو آئینہ کہیئے
کوئی خوش ہو کہ ہو خفا راہیؔ
بات حق ہے تو جابجا کہیئے

 آہ دنیا کے جھمیلے دیکھ کر ڈرتا ہے کیا
کنکر و پتھر یہ ڈھیلے دیکھ کر ڈرتا ہے کیا
پیکرِ کردار مَیلے دیکھ کر ڈرتا ہے کیا
سانپ کو میداں میں پھیلے دیکھ کر ڈرتا ہے کیا
ڈال دینا توٗ زمیں پر اپنی لاٹھی، لَاتَخَف
دین و ایماں ہے تری پہنچان راہیؔ، لَاتَخَف

 یہ جو تاثیر ہے، ایماں کی حرارت کی ہے
ہم نے طاغوت سے ہر وقت بغاوت کی ہے
جس نے اس دور میں ایماں کی حفاظت کی ہے
یہ علامت بھی کرامت کی شجاعت کی ہے

 گر خدا کے واسطے تم "یہ کئے اور وہ کئے" 
پھر تو سارا معاملہ اظہار کے قابل نہ تھا

 دو  رُخہ  پن  سے  گُریزاں  ہوئی  فطرت  اپنی
دل میں جو بات بھی ہوگی وہ زباں پر ہوگی

 زور ہے تقریر میں اور مسکراہٹ زیرِ لب
دیکھنے کی چیز جو ہے، دوستو! کردار ہے
بڑھ کے آگے، رات کو تاریکیوں کا نام دے
آج، راہیؔ کس میں اتنی جرأتِ اظہار ہے...!

یہ دکھاوہ، یہ نمائش، یہ ریاکاری،انا
توُ سمجھتا ہے کہ راہیؔ فائدہ ہو جائے گا.!

 جس کو دیکھو کر رہا ہے دین کی خدمت،مگر
فکر میں وہ پختگی نہ ذکر میں تنویر ہے
لرزہ بر اندام ہو جاتی تھی جس سے سلطنت
ہائے وہ جذبہ رہا نہ نعرۂِ تکبیر ہے

ہم نے کی تنقید،دشمن ہوگئے افسوس ہے
آپ کی نازک مزاجی،کب تلک اور کس لئے
کچھ تو ہو خودداریوں کا آپ کو اپنی خیال
محترم یہ "جی حضوری" کب تلک اور کس لئے

 کانٹوں بھری تھی راہ مگر پھر بھی مطمئن 
راہیؔ میاں کا عزمِ جواں دیکھتے رہو

 پاؤں میں چھالے مگر عزمِ سفر رکھتا ہوں میں
گردشوں میں مسکرانے کا ہنر رکھتا ہوں میں
چلتے چلتے دیکھ لیتا ہوں ہر اک انسان کو
اپنے باطن پر مگر گہری نظر رکھتا ہوں میں
موصوف کی پدرانہ شفقتوں سے لبریز وراثت میں سونپی گئی قیمتی نصیحت کا تذکرہ کرتے ہوئے میں اپنی گفتگوں کو ختم کرتا ہوں کہ۔
تیرے لئے تو نقشِ قدم چھوڑ جاؤں گا 
میں اپنی زندگی کا بھرم چھوڑ جاؤں گا
سارا جہان چھوڑ کے جاتے ہیں لوگ میں 
کاغذ کتاب اور قلم چھوڑ جاؤں گا۔
آپ نے شعری و ادبی کاوشوں میں مرحوم سیف اللہ سیفؔ بھوکردن اور مرحوم سید عباس علی ہنر سلوڑی سے اصلاحی فیض حاصل کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالی محترم بشیر احمد راہی صاحب کا سایۂ عاطفت ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے علمی ادبی دینی و ملی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اخروی نجات کا ذریعہ بنائے۔

تبصرے

  1. بہترین تبصرہ.
    والد محترم کی اپنی ذات میں انجمن ہیں ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ان کے فیضان اور عرفان کی مختلف جہتیں ہیں.
    ان سے ملنے والا اور فیض پانے والا ہر شخص ایک نئی کہانی سناتا ہے.میں نے اپنی زندگی میں اس با کمال اور با عمل مومن کے کئی پرتوں کو دیکھا اور محسوس کیا ہے.
    وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ.


    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ماشاءاللہ،زندگی کی بہت ہی بہتر کار کردگی اور مصروفیات رہی ہے۔اللہ مزید ترقی عطا فرماٸے۔آمین 💞💘💕💕💕

      حذف کریں
  2. محترم بشیر احمد راہی صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے...آمین ثمّ آمین ۔۔💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

    جواب دیںحذف کریں
  3. جی چاہتا ہے کہ نقش قدم چومتے چلیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. ماشاء اللہ محترم۔۔۔۔۔ بہت وقت سے انتظار تھا اس تحریر کا۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ماشاء اللہ بہت خوب تحریر ہے.
    ہم تو اس سے پہلے اتنا واقف نہ تھے.
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
    اللہ تعالیٰ کی ہمیں مولانا موصوف سے مستفید ہونے والا بنائے آمین ثم آمین

    جواب دیںحذف کریں
  6. ماشاءاللہ ۔۔بہت خوب

    اورنگ آباد میں پیش کیے گئے مقالے کو بڑی صفائی سے تراش کر پیش کیا ہے آپ نے۔۔۔
    تعارف میں شاعر انہ شخصیت زیادہ ابھار دی گئی ہے ۔۔حالانکہ مولانا کی معروف حیثیت ایک دینی مصلح، بہترین مقرر، خادمِ قرآن اور مربی کی ہے ۔اپنے افکار وخیالات کے لیے مولانا نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا ہے اور خوب بنایا ہے ۔مولانا کی ہمہ پہلو شخصیت کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی جانی چاہئے ۔۔

    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب