میرا شہر،میرے لوگ☆روشن چراغ☆ قسط۲ محترم حافظ عبدالملک صاحب قریشی ملی
جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش
مستقل تعارفی سیریز قسط۲
٭روشــــن چــــــراغ٭
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
آج کے خصوصی مہمان
محترم الحاج
حافظ محمد عبد الملک قریشی ملّی صاحب
کچھ لوگ دنیا میں سایہ دار تناوردرخت کی مانند ہوتے ہیں جن کا وجود اپنے اطراف میں موجود لوگوں کے لئے باعثِ خیر ہوتا ہے۔لوگ انہیں پتھر مارے تو اس کے بدلے میں وہ پھل دیتے ہیں،لوگ ان کے سایہ میں راحت محسوس کرتے ہیں، وہ ماحول کو ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوا سے معمور کرتے ہیں،ان کی زندگی میں خزاں کا موسم انکی جڑوں میں کمزوری اور پست ہمتی کا باعث نہیں بنتا اور نہ ہی بہار ان کو اپنے مقام سے پرے اونچے ہمالیائی خلاؤں میں لے اڑتی ہیں۔اس لئے کہ وہ اپنی جڑوں یعنی اپنے اصول،حقیقت اور مقصد سے وابستہ ہوتے ہیں۔۔۔
انہیں لوگوں کے کردار تاریخ رقم کرتے ہیں۔لوگ انہیں نام سے کم لیکن انکے کردار کی عظمت سے زیادہ متعارف ہوتے ہیں۔
محترم قارئین۔۔۔ہمارے آج کے خصوصی مہمان محترم الحاج حافظ عبد الملک قریشی ملّی صاحب اسی قبیل کے ایک فردِفرید ہے جنہیں لوگ شخصی طور پر بہت کم لیکن انکے کردار کی بلندی سے زیادہ پہچانتے ہیں۔۔
محترم حافظ صاحب کا مکمل نام محمد عبدالملک ابنِ الحاج محمد قریشی ہے۔آپ کی پیدائش سن ۱۹۳۹ء میں شہر جالنہ کے قریشی قبیلہ کے تجارتی خاندان میں ہوئی۔آپ کی بنیادی تعلیم مدرسہ تحتانیہ قدیم جالنہ میں ہوئی جہاں آپ نے ناظرہ قرآن کیساتھ بنیادی عصری تعلیم حاصل کی آپ کا بچپن سے ہی دینی رجحان دیکھر والد محترم نے ان کے اساتذہ اور بزرگوں کی ایماء پر آپ کا داخلہ ریاست مہاراشٹرا کی عظیم و قدیم دینی درسگاہ مدرسہ معہدِ ملت مالیگاؤں میں کروایا جہاں سے آپ نے سن ۱۹۶۲ء میں قاری محمد سعید صاحبؒ کی نگرانی میں تکمیل حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی آپ کا شمار معہدملت کے اولین فارغ التحصیل طلبہ میں ہوتا ہیں۔آپ کے تعلیمی زندگی کے ہمسفر رفقاء میں قابلِ ذکر حضرت مولانا قاضی عبدالاحد ازہریؔ صاحب و حضرت مولانا عبدالحمید ازہریؔ صاحب سمیت دیگر مشہور و معروف اکابر علماءکرام شامل ہیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد آپ باضابطہ اپنے خاندانی پیشۂ تجارت سے وابستہ ہوگئے جس میں آپ نے کافی تلخ و ترش تجربات حاصل کئے تاہم ایک کامیاب تاجر کی حیثیت سے آپ نے اپنا مقام بنایا۔کم عمری ہی میں تجارتی مقاصد کی غرض سے ملک کی مختلف ریاستوں کا دورہ کیا۔ساتھ ہی اپنی برادری میں پھیلی ہوئی بے دینی،تعلیمی و معاشی پسماندگی،فضول رسوم و رواج کی جکڑبندی خرافات اور عائلی مسائل کو دیکھتے ہوئے آپ نے سب سے پہلے اپنی برادری میں درآئیں مسائل کی یکسوئی اور سدباب کے لئے قریشی برادری میں اصلاحی کوششوں کو اپنا میدان عمل بنایا۔ساتھ ہی شہر میں دیگر اہم سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔جن میں قابلِ ذکر ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب کی قیادت میں شروع کی گئی تعلیمی تحریک انجمن اشاعتِ تعلیم جالنہ کے آپ تاسیسی رکن رہے محترم ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب کی قیادت میں شروع کی گئی دینی تعلیمی تحریک مدرسہ عربیہ فیض العلوم کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آپ باضابطہ کسی دینی تحریک سے وابستہ نہیں رہے لیکن ہر تحریک و تنظیم کے توسیع و استحکام میں آپ نے دامے،درمے،قدمے،سخنے ہرممکن تعاون کیا۔اپنی برادری کے تعلق سے آپ انتہائی سنجیدہ اور فکر مند رہے۔لوگوں کے خانگی و عائلی مسائل،شادی بیاہ و طلاق و خلع کے مسائل،تنازعات و اختلافات،جائیداد کی تقسیم یا پھر کوئی بھی اہم کام آپ کے مشورہ اور خصوصی توجہ کے بغیر نہیں انجام دیا جاتا تھا۔ہر معاملہ میں آپ نے فریقِ ثالث کی حیثیت سے قرآن و حدیث کی روشنی میں مصالحانہ کردار ادا کیا۔موصوف قریشی برادری کی ملک گیر تنظیم آل انڈیا جمیعۃ القریش کے مراہٹواڑہ نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔موصوف انتہائی نرم مزاج،مرنجہ مرنج طبیعت کے مالک اور خلیق و ملنسار ہےخدمتِ خلق کے جذبہ سے بے شمار انفرادی و اجتماعی سرگرمیاں انجام دی ہیں جن کا ذکر یہاں ممکن نہیں،ایفائےعہد کے سلسلہ میں انتہائی حساس اور پابند،کنبہ پروری،غرباء و مساکین کی خبرگیری،حددرجہ متبعِ شریعت،سادگی و انکساری آپ کے مزاج میں شامل ہے۔شہر میں انجام دی گئی مختلف سماجی،تعلیمی،ادبی اور مذہبی خدمات میں آپ کا ہرممکن اشتراکی تعاون رہا۔شہر کی متعدد قدیم مساجد کی تعمیر و توسیع میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔شروع ہی سے جماعت اسلامی سے آپ کو خصوصی تعلق رہا آپ تحریک اسلامی جالنہ کے اولین متفقین میں سے ہے۔جماعت کے پلیٹ فارم سے انجام دی جانے والی مختلف تعلیمی اصلاحی،سماجی،اور دعوتی خدمات میں آپ خوب پیش پیش رہے۔مشاہرین میں حضرت مولانا عبدالحمید صاحب نعمانیؒ،خطیب دکن حضرت مولانا سلیمان سکندر صاحبؒ اور دیگر حضرات سے آپ کا خصوصی تعلق رہا۔سفراءمدارس کے لئے طعام و قیام کا نظم قابلِ ذکر ہے۔آپ کے رفقاء گرامی میں قابلِ ذکرمحترم مولانا عبدالقیوم قادری صاحبؒ،محترم ڈاکٹر محمد بدرالدین صاحب،محترم ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب،محترم مولانا غفران احمد صدیقی صاحب،محترم عثمان صاحب مرحوم ریلوے اسٹیشن وغیرہ قابل ِذکر ہیں۔
٭پــیــغــامِ عمل٭
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم!
جہادِ زندگانی میں ہے یہ مردوں کی شمشیریں!
اللہ رب العزت محترم حافظ صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین
(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
عامرفہیم راہیؔ،جالنہ
📱8329953822
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں