ہم تو سچ مچ کے ہی کردار سمجھ بیٹھے تھے! طنزومزاح سے بھرپور مزیدار تحریر پڑھئے اور موڈ فریش کیجئے۔۔
ہم تو سچ مچ کے ہی کردار سمجھ بیٹھے تھے۔۔!
﴿بِلا تبصرہ___علامہ واٹسپی والفیسبکی کا دلچسپ تعارف اور شاندار سرگزشت عامر فہیم راہؔی کی زبانی﴾
ہمارے ایک دیرینہ رفیق جناب فلاناًفلانا صاحب بڑے ہی مرنجہ مرنج طبعیت کے مالک ہے. مزاج میں تھوڑی سختی اور باتوں میں کسی قدر تُرشی پائی جاتی ہے..قدوقامت کے معاملے میں آپ زندگی کی بھاگ دوڑ میں پیچھے لیکن توند سو فیصد آگے آچکی ہے ـــ ہر وقت منہ میں پان کا بیڑا گویا پان چبانا انکا وراثتی حق ہے سگریٹ اور تمباکو موصوف کی گھٹّی میں پڑے ہوئے ہیں..چہرے پر دائمی جلال گویا ہر وقت غم و غصہ میں نڈھال ...ماہرین کا ماننا ہیکہ بات کو سننے اور ماننے کا دم داعیہ نہیں کے برابر ہے بس بات سمجھنے میں تھوڑی دیر لگتی ہے اسی لحاظ سے "دیرینہ رفیق"کہا جاسکتا ہے... عصرحاضر کے جدید تقاضوں سے بے نیاز، اس کے باوجود سوشل میڈیا پر ضروت سے زیادہ فعال ہےویسے تو تعلیم کا کوئی خاص پتہ نہیں لیکن موصوف کے قریبی شناسائی ماسٹرجھابؤ کا کہنا ہیکہ آپ "جامعہ واٹساپ" سے گریجویٹ اور"فیسبک یونیورسٹی" سے ڈاکٹریٹ کا شرف رکھتے ہے اور اسی وجہ سے حلقۂ یاراں میں "علّامہ واٹسپی والفیسبکی" نام نامی سے مقبول ہے....
بہرحال گذشتہ روز بازار میں علامہ سے ملاقات ہوگئی..ملاقات کیا ہوئی یو سمجھئے مُدبھیڑ ہوگئی..میں سمجھ گیا آج اپنی شامت تو پکی ہے.علیک سلیک کے بعد کسی طرح میں نے اپنے آپکو علامہ کی گرفت سے آزاد کرانے کی ناکام کوشش کی لیکن مہاشے پوری طرح مجھ سے فری اسٹائیل کے موڈ میں تھے ..فرمانے لگے ارے یار ملّا اتنی بھی کیا جلدی ہے آپ ہی سے ملاقات کی غرض سے نکلا تھا اللّٰه کی شان راستے میں ملاقات ہوگئی ..میں نے خود کو سنبھالا اور ہمت باندھ کر علامہ موصوف سے عرض کی حضور آپ نے مجھ جیسے "بندۂ ناچیز حقیرسراپا تقصیر" سے ملاقات کا قصد فرمایا میرے تو نصیب ہی کھل گئے...حکم دے دیتے بندہ خود ہی حضرتِ اقدس کے دولتکدہ پر حاضری کا شرف حاصل کرلیتا...علامہ یہ جملے سن کر چہکے اور بڑی شانِ بے نیازی سے فرمایا ارے ـــ..بس ــــ..یونہی.ـــــ.رہنے دو تم نہیں سمجھوگے اسے ہی کہتے ہے حقیقی معرفتِ علم و فضل...خیر ہم نے سوچا کہ خودہی چلکر آج آپکو شرف بخشدیتے ہیں...رسمی گفتگوں کے بعد علامہ اپنی والی پر آگئے اور کہنے لگے یار ملّا تم تو بڑے ہی نکمے اور نالائق واقع ہوئے ہو ...میں خوف اور دہشت سے کانپ اٹھا اور دبے سہمے لہجے میں ان غیر متوقع القابات کی وجۂ تسمیہ دریافت کی...کہنے لگے اتنا کماتے ہو تو کہا ڈالتے ہو ذرا اہلِ علم پر بھی کچھ خرچ کرلیا کروں...میں نے اپنے پائجامہ کی جیب ٹٹولی، کل ملاکر عثمانیہ بسکٹ کیساتھ "عفان ہوٹل"کی چائے کا انتظام کسی ثالث کی شرکت کے بغیر ممکن تھا..میں نے عرض کیا حضور بندۂ ناچیز آپ کی ضیافت کا بار برداشت کرنے کا متحمل نہیں چائے بسکٹ تک بات ٹھیک ہے...موصوف نے کاٹ کھانے والی نگاہوں سے گھورا اور کہا تم جیسے ناخلف کنجوس اور ہماری صحبت سے مستفیض ہونے کے باوجود ناشکرے بندو کے تعلقات سے تو بہتر ہے کسی سیٹھ صاحب کی چاپلوسی کرلوں وہی کچھ روٹی بوٹی کا انتظام ہوجایا کرے..کچھ تأمل کے بعد بڑے مشفقانہ لہجے میں کہنے لگے بھئی ملّا تم ہمارے عزیز ہو آخر تم ہی سے تو ہم رازونیاز کی باتیں کرتے ہے چلواتنا اصرار کرتے ہوتو آج چائے بسکٹ ہی پر اکتفا کرلیتے ہیں...انکے لہجے میں سوز اور جملوں میں شفقت تھی...تم سے کچھ حالاتِ حاضرہ سے متعلق گفتگو بھی کرنی تھی....
میں چونکا... حححالاتِ حاضرہ..؟؟؟
ہاں بھئی حالاتِ حاضرہ...! علامہ نے حالات کی "ح" کو تجوید کے قواعد کی رعایت کے ساتھ حلق کی گہرائی سے پورے مخرج کی ادائیگی کیساتھ ادا کیا ..
ہوٹل میں بیٹھے چائے کی چسکی کا لطف لیتے ہوئے ہم نے بھی دیگر مفکرینِ ملت کی طرح خوب حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیا..
بسکٹ کے آخری ٹکڑے کو منہ میں رکھکر چائے کے آخری گھونٹ کیساتھ اندر ڈھکیلتے ہوئے علامہ موصوف فیصلہ کُن لہجہ میں عاجز سے یو مخاطب ہوئے گویا وہ چائے اور بسکٹ کا آخری لقمہ نہیں بلکہ نظامِ طاغوت کے تابوتِ سکینہ میں آخری کِل ہو...یار ملّا مجھے تو اس امت کی بڑی فکر ہے نا جانے یہ امت کس حال کو پہنچے گی...کہکر آپ شریمان مودی اسٹائیل میں جذباتی ہوگئے..میں نے ہمت بندھائی ـــــ ــ ہمت رکھئیے علامہ بھئی اللّٰه آپ کی فکروں کو ضائع نہیں جانے دیگا...
اچانک مزاج میں تغیر واقع ہوا..چہرہ پر سرخ شؤخی،خطیبانہ جلال، واعظانہ کمال،اور تو اور چہرے پر غم و غصہ کیساتھ رنج و ملال...ٹیبل پر زور سے چائے کا گلاس پٹختے ہوئے گرجے ..کہا جارہا ہے یہ معاشرہ..؟
میں ٹیبل پر پیچھے کو سرکتے ہوئے اس خوف کیساتھ کہ کہیں معاشرہ کی بے راہ روی کے رنج میں علامہ فیسبکی مجھے اک عدد ضربِ کلیمی نا جڑ دے سہمے لہجہ اور دبے لفظوں میں گویا ہوا..لےلےللیکن اس میں میری کیا غلطی ہے علامہ...
علامہ واٹسپی والفیسبکی کے لہجہ میں طنز اور جلال کا مشترک امتزاج ضرور تھا لیکن موصوف کا اشکال بھی فضول نہ تھا ....موصوف کی بات میں کڑوا سچ اور گہرا درد پوشیدہ تھا جب انہوں نے ڈبڈباتی آنکھوں سے آنسوں پوچھنے کے بہانے ناک کی نلّیوں سے جھانکتے ہوئے غودے کو ایک سُڑُپ کیساتھ رومال میں سمیٹا اور مجھ سے آمرانہ انداز میں مخاطب ہوئے ...
"کیوں بھئی ملّا میاں بولتی بند ہوگئی یا تمہاری زبانیں گنگ ہوگئی..."میں تو اس کمال درجہ کی مہارت پر علامہ کا فین ہوگیا...
فرمانے لگے...
غلبۂ دین کے علمبردار، اسلامی تعلیمات کو نافذ کرنے کیلئے جدوجہد کا دعوٰی کرنے والے اور تو اور"نکاح کو آسان کرو"جیسی مہمات کو معاشرہ میں بڑے زوروشور سے چلانے والے لوگ جب خود عملی میدان میں اس قدر خرافات،نمودو نمائش اور بیجا فضول خرچی کرکے خودنمائی اور دولت و طاقت کا اظہار کرنے لگ جائے تو پھر کیا نیکی اور تقوٰی کا معیار صرف آپ اپنی تقریروں کے ذریعہ سے عوام میں پیدا کرنا چاہتے ہیں...؟؟؟
میں یہ تو سمجھ گیا کہ آج کسی نا کسی نے علامہ کی دُم پر پَیر ضرور دیا ہے...
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس لئیے اور کس کے لئیے اس قدر جذباتی جملے استعمال کررہے تھے ...لیکن میں ان کا اشارہ سمجھ رہا تھا...
"غغغ غلبۂ دین، علمبردار،تعلیماتِ اسلامی کا نفاذ وغیرہ آفاقی اصطلاحات مجھ پر ایسے گری جیسے ہیروشیما ناگاساکی پر نیوکلئیر بم...یا کم از کم نسبتاً گجراتی سسرال میں ناشتے کی ضیافت میں ملنے والے لغویات sorry لوازمات کھاکرا،پھاپڑا،ڈھوکلا، وغیرہم
میں نے کہا ارے علامہ اس قدر غصہ اور جذبات صحت کے لئیے ٹھیک نہیں لیجئے جذبات کو قابو میں لانے کا اہتمام کیجئے کہتے ہوئے "گائے چھاپ تمباکو" علامہ صاحب کی خدمت میں اچھالی علامہ نے تمباکو ہتھیلی پر انڈیلتے ہوئے اس پر چونے کا بَل دیا اور پوری طاقت سے مسلتے ہوئے بڑے تحکمانہ انداز میں فرمانے لگے..یار ملّا دوسرے موضوعات پر تو خوب جم کر تبصرے اور لفاظی کرتے ہو ابھی کیا خوف تم پر حاوی ہوگیا ہے...؟؟ یا پھر اس کو بھی "حکمت اور مصلحت" کی لحاف میں لپیٹ کر موسمِ سرما کا استقبال کررہے ہو...؟؟
میں گویا ہوا....دیکھو بھئی "علامہ صاحب"تم کس زمانے کی بات کررہے ہومجھے نہیں معلوم.اب حالات بالکل بدل چکے ہیں ہم کو زمانے کیساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا ہوگا جب ہم دینی کاموں میں لوگوں کو اپنا شریکِ دعوت سمجھتے ہے تو گھر کے چھوٹے موٹے پروگراموں میں بلوالینے سے کونسی قیامت برپا ہوجائیگی اور پھر اللّٰه نے دولت جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے تو اسکا اظہار کرنا بھی عین شکرانۂ نعمتِ خداوندی کاتقاضہ ہے اور رہی بات شکتی پردشن کی جس میں سیاسی، سماجی، ملی، مذہبی،نیم مذہبی،بین المذہبی اور جس قدر حلالی و حرامی مہاشانِ کرام کو مدعو کرنے کی بات وہ تو عین نمک حلالی اور لوگوں کی دعوتوں میں کی گئی بسیار خوری کا عین تقاضہ ہے...
میں نے معاملے کی تہ تک جانے کی کوشش ضرور کی لیکن علامہ اب اس موضوع پر مزید بات کرنے کے لیئے آمادہ نہیں تھے..میں سمجھ گیا کہ موصوف زخمی دل لیکر میرے پاس آئے ہے تو دردوغم کا مداوا کرنا میرا اخلاقی فریضہ ہے ـــــــ میں نے اصرار کیا توعلامہ نے رازدارانہ انداز میں سرگوشی کی اور انتہائی مکروہ انداز میں بھلی بُری پر اُتر آئے ...
میں نے لاحول پڑھی اور عرض کی... لیکن علامہ یہ تو غیبت ہے ــــ
علامہ نے فتوٰی دینے والی نگاہ سے گھورا ـــــ اس کا مطلب اب تم ہمیں دین سکھاؤنگے اور یہ جو رات دن واٹساپ اور فیسبک پر ہم نے علم حاصل کیا ہے تمہارے پاس اسکی کوئی اہمیت نہیں...
میں گویا ہوا ـــ ارے علامہ محترم آپ تو برا مان گئے میرے کہنے کا مطلب اپنی ذات کی اصلاح کرنی تھی..ہم نے تو سن رکھا ہے کہ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت ہے...
علامہ گرجے ...کیا تم اسکی دلیل دے سکتے ہو؟ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا ہیکہ کھلے عام منکرات کو فروغ دیا جائے تو اس کی پشت پناہی مت کرو.بلکہ اسکو زبان زدعام کرو ــــ علامہ کے ہیبتِ علمی کے سامنے میں مبہوت ہوکر رہ گیا..اور زیرِلب گویا ہوا مطلب اسکی "تشہیر" کروں..
اسی اثناء ذہن میں ایک خرافاتی لیکن باوثوق بات نے انگڑائی لی ــجو گذشتہ پرسؤں معصوم علی شرارتی 【جو ہمارے دل گردے کےقریبی ہے جن کا تفصیلی تعارف کسی اور موقع سے ہم دینگے..】نے ہم کو علامہ موصوف کی مذکورہ بالا شادی کے تناولِ طعام میں شرکت کے حوالے سے بتائی تھی کہ علامہ نے خوب تیسرے حکم تک دعوتِ طعام کا حق ادا کیا اور سبحان اللّٰه الحمدللّٰه کے ورد کیساتھ انگلیوں کو چٹخاروں کیساتھ چاٹ کر صاف کیا ــ معصوم نے خود علامہ بھئی کی ضیافت کے لئے رضاکارانہ طور پر خدمت انجام دی تھی ــ جو اس جشنِ شادی برائے خانہ آبادی میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے تھے ـــــ
میں نے موقع غنیمت جانا اور علامہ سے طالبعلمانہ لہجہ میں استفسار کیا ...
حضرتِ اقدس آپکا اشکال اور اعتراض بجا،بروقت،برمحل اور مبنی برحق لللیکن شریعت میں لڑکی کے کھانے کی کیا حقیقت ہے ذرا اس پر بھی کچھـ ـــــ بدتمیز ـــعلامہ نے بات کاٹی ـــ اور اپنے مؤقف کو مستحکم بنانے کے لئے گرجے ـــ مجھے معلوم تھا تم محدود سوچ کے قدامت پسند انسان ہو اور تم صرف یہی باتیں سوچ سکتے ہو نکتہ چینی کرنا عیب نکالنا اور فضول تنقید کرنا تمہارا وطیرہ ہے ــــ علامہ مجھ پر گرجتے اور برستے رہے گویا میں نے موصوف کی دُم پر پیر دے دیا ہو ..ـــــ لیکن میں نے تو صرف اتنا ہی اشکال کیا تھا کہ ...
لڑکی والوں کے پاس کا کھانا کیسا ہیں....؟؟؟
علامہ اپنے شادی میں شرکت اور کھانے کے مؤقف کے حق میں خوب دلائل دیتے رہے لیکن ملّا بیچارہ کم عیار کم عقل اور ناسمجھ خیالوں میں گُم فراز کا شعر گنگناتا ہوا وہاں سے نکل پڑا....ــــــــ
ہم تو سچ مچ کے ہی کردار سمجھ بیٹھے تھے ـــ!
لوگ آخر کو کہیں، صورتِ افسانہ کھلے ــــ!
『ضروری نوٹ ــــ بی پی. شوگر.اور امراضِ قلب کے مریض زیادہ دل پر لیکر نا پڑھیں،صحت کے لئے بہتر ہوگا...جَنہِت میں جاری ـــ』
MashaAllah bahut khoob
جواب دیںحذف کریںجزاک اللہ خیرا
حذف کریںwah janab kamal kardiye
جواب دیںحذف کریںشکریہ میرے بھائی
حذف کریں
جواب دیںحذف کریںواہ عامر صاحب کمال کی تحریر
خط انکا بہت خوب عبارت بہت اچھی
الله کرے زور قدم اور زیادہ
جزاک اللہ خیرا مولانا محترم
حذف کریںWah ji kamal hai...
جواب دیںحذف کریںشکریہ محترم
حذف کریںواااااااااااہ کیا کہنے ہیں جناب عالی 😅😅😅
جواب دیںحذف کریں