کچھ ‏نہ ‏سمجھے ‏خدا ‏کرے ‏کوئی۔۔

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔

✍عامرفہیم راہیؔ،جالنہ

۲۰۱۹ عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔پورا ماحول سیاسی دنگل میں تبدیل نظر آرہا ہے۔رام مندر کا جِن بوتل سے باہر آکر عدالتِ عظمی کے حکم سے انتخابات تک دوبارہ اندر جاچکا ہے۔سرجیکل اسٹرائک نمبر2 بھی اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے باوجود فلاپ رہا بہرحال سیاسی پارٹیاں رام مندر اور  پلوامہ حملہ کے گرماگرم توے پر اپنی اپنی روٹیاں سینکنے میں تیزگام ہوچکی ہیں۔جس کا ایک ناکام نمونہ حال ہی میں شریمان مودی جی کے سرجیکل اسٹرائک اسٹنٹ نے پیش کیا ہے۔ بعید نہیں کہ پدماوتی اور خلجی کا خیالی کردار اپنے متبادل کی شکل میں یکایک آ دھمکے اور کچھ معصوم دیش بھکتوں کو اندھی عقیدت کی آڑ میں خاک و خون کی ہولی کھیلنے کا بہترین موقع ہاتھ آجائے۔فرقہ پرست طاقتیں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے حسب معمول کمر بستہ ہوچکی ہیں ۔الیکٹرانک میڈیا اپنے جانبدارانہ رویہ کیساتھ موجودہ حکومت کی بے لوث خدمت میں مصروف ہیں۔ایسے میں ملک کی ہمہ گیر ترقی و خوشحالی،قیام امن وانصاف،تعلیم،روزگار،غربت و مفلسی کا سدباب،ملک کے معاشی اقتصادی تعلیمی و سیاسی بدحالی کے موضوعات سے بے نیاز ہماری قابل،محنتی اور دیانت دار میڈیا ہندو مسلم  تفریق،مندر مسجدقضیہ،رام للا کے جائے پیدائش اور ہند و پاک تنازعات جیسے عالمی اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ٹی وی چینلس پر روز افزوں گرماگرم بحث و مباحثے ماحول کو مزید فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کا حق ادا کررہے ہیں۔۔گلی کی نکڑ سے لیکر دلی کی میٹرو تک سیاسی افلاطونوں کی بھرمار ہیں۔پان کے غلے،چائے کے ڈبے اور کھانے کی ہوٹلوں سمیت چوراہوں کے چبوترے سیاسی فلسفیوں کے اژدہام اور بےتکے تبصروں سے معمور ہیں بیٹھکیں اپنی وسعت ارضی کے باوجود تنگ دامانی کا گلہ کرتے نظر آرہی ہیں۔گلی محلوں میں بےروزگار نوجوانوں کی کثیر تعداد یووا نیتا اور مترمنڈل جیسے پر فریب القابات و نفسیاتی امراض سے متاثر نظر آرہی ہیں۔ضابطۂ اخلاق نافذ ہوچکا ہے لیکن حقیقتا" اخلاقی اقدار و ضوابط کو ان ہی دنوں میں سب سے زیادہ پامال کیا جاتا۔جھوٹ،دھوکہ،فریب،لالچ،لوٹ کھسوٹ،اور بدعنوانی جیسی سینکڑوں مثالیں اسی ضابطۂ اخلاق کے مرحلہ میں انجام پاتی ہیں۔اور انجام پانی بھی چاہئے کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے۔
خیر۔۔۔ان ساری باتوں میں ہمارا موضوع سیاسی گتھیا سلجھانا اور آپ کے سامنے اپنی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا نہیں ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ اپنی جگہ بناتا ہے۔کسی سوشل میڈیائی سیاسی محقق کے مطابق الیکشن دو چرنوں میں ہوگے پہلے وہ یعنی ہمارے معصوم نیتا آپ کے چرنوں میں ہوگے پھر آپ یعنی بھولی بھالی عوام ان کے چرنوں میں ہوگی۔ خیر ان تمام تر ہنگامہ آرائیوں میں ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی یعنی ملتِ مرحوم کا کیا کردار ہوتا ہیں وہ قابل غور ہے۔۔۔ کیا کوئی نئی تبدیلی،حکمتِ عملی یا سیاسی پالیسی قائدین کی جانب سے وضع ہوتی یا پھر وہی رفتار بے ڈھنگی۔۔۔
گذشتہ کچھ دنوں سے سیاسی قائدین مسلمانوں پر کچھ زیادہ ہی مہربان نظر آرہے ہیں۔قبرستانوں اور عیدگاہوں کی تعمیر و توسیع کے لئے خطیر رقم اور اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کرنے کے وعدے ہورہے ہیں۔مسلمانوں کے تعلیمی سماجی اور معاشی مسائل کے حل کی باتیں ہورہی ہیں۔یہ سب منظر دیکھر کسی وقت پڑھی گئی ایڈولف ہٹلر سے منسوب ایک حکایت حاشیہ ذہن پر دندناتی ہے جس میں اس نے جمہوریت کی عملی تفہیم اراکینِ پارلیمنٹ سے بھرے ہال کے سامنے کی تھی۔واقعہ یہ ہیکہ ہٹلر ایک روز پارلیمنٹ میں اپنے ساتھ ایک مرغ لے آیا اور پوری شدت و بے رحمی سے مرغ کے پر نوچ کر اسے لہو لہان کردیا جب وہ زخموں کی تاب نہ لاکر بلبلا اٹھا تو اس کے سامنے چاول کے چند دانے پھینک دئیے جس کو چگنے کی دھن نے اس کے زخموں کے درد کو فراموش کردیا تب ہٹلر نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا جو ہمیں بروقت یاد نہیں۔۔۔خیر ہٹلر جائے تیل لینے ہمیں کیا ہم تو مست مولا قوم اور درویشِ خدا مست مخلوق ہیں۔ ویسے بھی اسلام میں سیاست کا تصور ہی کہا ہیں۔۔بس آپ جس نظامِ حکومت کے ماتحت رہوں بےچوں و چراں گردن جھکا کر بھیڑوں کی طرح اطاعت  کرتے چلے جاؤں۔۔اور اپنے مفاد کی خاطر دین میں معنوی تحریف کرکے فتوے بازی کے ذریعہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے رہو۔۔۔
ملت کی سیاسی بصیرت اور حمکتِ عملی کی مثالیں مت پوچھئے جناب گذشتہ دنوں ایک میسج موصول ہوا جس میں صاحبِ مراسلہ عرض گذار تھے کہ 
" ١٧ رمضان مطابق ۲۳ مئی کو الیکشن کے نتائج آنے والے ہیں اور اس دن کو اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے یہ دن اسلامی تاریخ میں یوم الفرقان یعنی حق و باطل میں فرق کا دن ہے لہذا اللہ سے دعا کریں کہ اس مبارک دن کے وسیلہ سے اس انتخاب میں بھی حق کو غلبہ نصیب ہو اور مسلمانوں کے حق میں فلاح و کامرانی آئے"
آیا نا مزہ۔۔۔وضاحت کی ضرورت نہیں ۔مطلب علامہ موصوف کیمطابق گانگریس اور بی جے پی کا مقابلہ حق و باطل کا معرکہ ہیں اور اللہ سے دعا کرائی جارہی ہیکہ مسلمانوں کو کامرانی و کامیابی نصیب ہو۔۔واہ میاں بھئی واہ۔۔
اور لیجئے۔۔۔
ایک حضرت نے ہر ریاست کے حساب سے وظائف اور اذکار و عوامل کا نسخہ وضع فرما دیا ہیں اگر آپ فلاں ریاست میں رہتے ہیں تو یہ اور یہ پڑھیں۔یہ اور یہ کریں۔۔خیر اپنے اسرار و رموز اللہ والے ہی جانتے ہیں کوئی کوتاہ نظر،مادہ پرست اور ظاہر بیں بشرِخاکی کے لئے یہ سب کچھ سمجھنا آسان نہیں۔اور ان پر سوال اٹھاکر کون ناعاقبت اندیش اپنی آخرت برباد کریگا۔۔
بہرحال ہماری گناہگار نگاہوں نے اپنے بدنصیب سر کی آنکھوں سے گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ایک روز پہلے شہر کی بڑی مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد قرآن کے درس کو مؤخر کرکے مسجد میں اجتماعی ختمِ یسین شریف اور فرقہ پرست طاقتوں کی ناکامی پر ملی و مذہبی قائدین کو دعاؤں میں آہ و زاری کرتے دیکھا ہیں۔ویسے لوک سبھا انتخابت میں ختمِ خواجگان پر کوئنٹلوں دیگوں کا چڑھانا اور ایک کروڑ مرتبہ آیتِ کریمہ کا ورد تو کم از کم بنتا ہی ہیں۔۔۔لیکن عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کی کوشش کرنا اور مسلمانوں کو بااختیار قوم ہونے کا احساس دلانا تو سخت ترین مادہ پرستی،دنیا داری اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہیں۔خیر اللہ ہماری حفاظت کریں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا تھا تو وہاں کے مشائخین و صوفیاں علماء و اتقیاں قائدین و سربراہ دفاعی اقدام کے بجائے آیتِ کریمہ اور ختمِ خواجگان کے ورد میں اپنے مسائل کے حل کو تلاش کررہے تھے۔۔اس کے بعد وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔۔۔
بہرحال ہم تو اسباب سے زیادہ مسبب الاسباب پر یقین رکھتے ہیں۔۔

واعدولھم مستطعتم من قوۃ۔۔۔الخ
ان اللہ لا یغیر مابقوم۔۔۔الخ

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ۔
کچھ نہ  سمجھے  خدا  کرے  کوئی۔!

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب