اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔
اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔!
_________________________________
✍عامرفہیم راہی
چین کے شہر ووہان سے پھیلے وبائی مرض کورونا وائرس نے عالمی منظر نامہ پر گہرے نقوش مرتب کردیئے ہیں۔لاکھوں انسانی جانیں اس کی زد میں آکر تلف ہوچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے۔عالمی معیشت پر اس کے خوفناک اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔مختلف شعبہ جات سے متعلق سیاسی معاشی اقتصادی و حفظان صحت کے مبصرین و تجزیہ نگار اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس معاملہ پر اپنے تجزیہ و تبصرے پیش کررہے ہیں۔کوئی کہتا ہیکہ موسم کے غیرمعمولی تغیر اور بدپرہیزگی کے نتیجہ میں یہ مرض متعدی شکل اختیار کر رہا ہے۔کوئی کہتا ہے انسانوں کے گناہوں کی کثرت کے نتیجہ میں قہرالہی کی صورت میں یہ عذاب مسلط ہوا ہے۔اور کوئی اسے مختلف مراحل سے گزار کر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بتارہا ہے۔۔پہلے مرحلہ میں چین میں ہلاکت خیز تباہی مچ جانے پر اسے امریکہ کی سازش قرار دیا گیا پھر دوسرے مرحلہ میں اسے چین کی اقتصادی فتح قرار دیتے ہوئے امریکہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے خلاف چین کی شاطرانہ پالیسی کا حصہ بتایا جارہا ہے۔بہر کیف معاملہ جو کچھ ہو یہ حقیقت ہے کہ اس جان لیوا مرض سے انسانیت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔عالمی منظر نامہ سے صرفِ نظر ہمارے اپنے ملک میں اس خدائی قہر نے کیا اثرات مرتب کئے ہیں اس پر ہمیں سوچنا ہے۔۔۔ایسا بالکل نہیں ہیکہ اس پر کچھ سوچا بولا یا لکھا نہیں جارہا ہے۔
ہمارے ملک میں پانچ ہزار سے زائد مریضوں کی تشخیص اور سو کے قریب اموات کی تصدیق ہوچکی ہیں۔
اس وبائی مرض نے جہاں ملک میں بےشمار نقصانات اور مستقبل کے خدشات کو جنم دیا ہے وہیں پر یہ مرض تخریبی نظریات رکھنے والی بعض فرقہ پرست جماعتوں کے حق میں مژدۂ جاں فزاء بن کر ہاتھ آیا ہے۔جو سیاست اس بیماری کی آڑ میں ہمارے ملک میں کھیلی جارہی ہے شاید ہی دنیا کے کسی بد سے بدترین ملک میں اس کا نمونہ مل سکیں۔ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہیں بھوک افلاس فاقہ کشی اور اوپر سے بےروزگاری نے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھدی ہے بھوک سے نڈھال لوگوں کے اموات کی خبریں آئے دن سنائی پڑ رہی ہیں۔حکومت اس معاملہ میں بےحد سنجیدہ ہوچکی ہے اسے ایک جنگ تصور کیا جارہا ہے جس سے لڑنے کے لئے عجیب و غریب حرکتیں کرائی اور سوانگ رچائے جارہے ہیں جس سے جگ ہنسائی کے بہترین مواقع فراہم ہورہے ہیں۔بیماری کو جڑسمیت اکھاڑ پھینکنے کے لئے سرکاری خزانہ ناکافی ہونے کی صورت میں وزیراعظم کو عوام کے روبرو دست سوال دراز کرنے تک کی نوبت آن پڑی ہے یہ الگ بات ہیکہ صوبائی حکومتوں کو معزول و مامور کرانے کے لئے کئی سو کروڑ روپئے ایم ایل ایز کو خریدنے اور بیچنے میں پھونک دیئے جاتے ہیں۔ملک کی اقتصادیت تباہ ہوچکی ہے معیشت کا دیوالیہ نکلا پڑا ہے تاہم اکثریتی سماج کو دیوالیہ میں بھی دیوالی کا مزہ دیا جارہا ہے تاکہ عوام بھکتی اور اندھی عقیدت کے جال سے نکل نہ سکیں۔یہ اور بات ہیکہ ملک کی ۲۰ فیصد آبادی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کے پاس ایک وقت کے کھانے کا صحیح انتظام ہوپانا مشکل ہے پوری دنیا میں ہر روز چوبیس ہزار انسان صرف بھوک کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارنے پر مجبور ہیں۔غربت افلاس بےروزگاری تنگ دستی فاقہ کشی فرقہ وارانہ فسادات ڈپریشن اور وقت پر صحیح علاج نا ملنے کے نتیجے میں کروڑوں انسان روزانہ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ بہرِصورت واقعہ کا دوسرا رخ یہ ہیکہ ۳۰جنوری کو ملک میں پہلا مریض کورونا کا مثبت پایا جاتا ہے جس کی بازگشت سیاسی گلیاروں میں سنائی دیتی ہے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر دب جاتی ہے۔اس دوران لاکھوں غیر ملکی مسافروں بشمول امریکی صدر کی آمدورفت کے واقعات پیش آتے ہیں۔یکایک ۵۱ دن بعد ملک کے انتہائی ذمہ دار وزیراعظم منظرعام پر نمودار ہوکر فکر مندی کیساتھ بیماری کی سنگینی اور تباہ کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام سے مخاطب ہوتے ہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے جنتا کرفیوں کا اعلان کرتے ہیں۔معا بعد ۲۱ روزہ لاک ڈان کا اعلان کردیا جاتا ہے۔یکلخت پورے ملک میں بیماری کی سنگینی کو محسوس کیا جاتا ہے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سمیت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ہیڈلائنس لگنا شروع ہوجاتی ہیں۔پورا ملک بلا لحاظ مذہب و ملت ایک قوم ہوکر اس بیماری سے لڑنے کے لئے صف بستہ ہوجاتا ہے۔
میڈیا کے پاس کوئی فرقہ وارانہ چٹ پٹا مواد نہیں بچ پاتا آئے دن بیماری سے لڑنے کے لئے صف بستہ ملک کو کھڑا دیکھ کر باطل طاقتیں اپنی فرقہ وارانہ پالیسیوں میں ہارتی نظر آتی ہیں میڈیا سمیت باطل فرقہ پرست طاقتوں پر مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے بادل سایہ فگن ہونے لگتے ہیں۔۔یکایک پرانی دلی کے حضرت نظام الدین بستی میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کا موضوع دستوری لحاظ سے جمہوریت کا چوتھا ستون مانے جانے والی میڈیا جو موجودہ دور میں دلالی اور حرامخوری کی معراج تک پہنچ چکی ہیں کے ہاتھ آجاتا ہے ان کی آنکھیں چمک جاتی ہیں خوشی سے دل مچل جاتا ہے فرحت مسرت و شادمانی دوبالا ہوجاتی ہیں۔۔۔فرضی دیش بھکتی کے لبادے میں یہ بھیڑیے صف آراء ہوکر سوشل میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک منظم ہوجاتے ہیں۔۔۔بس پھر کیا تھا اک ہنگامہ خیز طوفانِ بدتمیزی کا دور شروع ہوجاتا ہیں اب تک جو بیماری انسانوں سے انسانوں کو نقصان پہنچارہی تھی فرقہ واریت کا شکار ہوکر ایک طبقہ سے پورے ملک کو نقصان پہچانے کی علامت بن گئی۔تبلیغی جماعت کی آڑ میں مسلمانان ہند پر لعنت و ملامت طعن و تشنیع دشنام طرازی و دریدہ دہنی فرقہ وارانہ منافرت اور الزام تراشی کے زہر میں ڈوبے ہوئے تیروں کی بوچھار شروع ہوگئی۔پورے ملک میں مرض پھیلانے کے ذمہ دار صرف مسلمان ہوگئے۔مندر آشرم مٹھ گرودوارہ چرچ اور سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں اکھٹا بھیڑ پھنسی ہوئی ملی اور مسجدوں میں پناہ لینے والے مسلمان چھپے ہوئے سازشی منظم کرونابم اور کرونا جہاد میں ملوث پائیں گئے۔نفرت بیزارگی تعصب اور فرقہ واریت کا جو زہر گذشتہ آٹھ دنوں میں ملک کی فضاؤں میں گھولا گیا اس کے خاطر خواہ نتائج سماجی سطح پر نمودار ہونا شروع ہوگئے۔۔مسجد میں فائرنگ کا مسئلہ ہو یا نذرآتشی کا ہجومی تشدد سبزی و پھل فروش تاجروں کا بائیکاٹ ہو یا مسلمانوں کے معاشرتی مقاطعہ کا غرض ہر طرح سے مسلمانوں پر عرصۂ حیات محدود اور زمین تنگ کرنے کے گھناؤنے معاملے سامنے آرہے ہیں۔اس ساری کارستانی کا سہرا گودی میڈیا کے سر جاتا ہے۔میڈیا نے مسلمانوں سے نفرت کی اتنی آبیاری کی ہے کہ ذرہ ذرہ سے زہر ٹپکنے لگا ہے۔میڈیا اک وبائی مرض کو مسلمانوں سے منسوب کرکے ہر شعبہ میں بری طرح شکست خوردہ حکومت کی ناکامیوں کو ڈھانکنے اور مسلمانوں کے تئیں اکثریتی آبادی میں نفرت تعصب اور بیزارگی کا زہر گھولنے میں سوفیصد کامیاب ہو چکی ہیں۔ملک و ملت کے لئے کرونا وائرس کی مہاماری سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آمیز وائرس میڈیا کی بدترین تخریبی ذہنیت اور مسلم سماج کے تئیں لوگوں کے ذہنوں میں نفرت بیزارگی تعصب اور فرقہ واریت کا زہر گھولنا ہے۔ایک فیس بکی مفکر کے بقول اس ملک میں کورونا وائرس آخری اسٹیج پر ہو نا ہو لیکن مسلمان انتہائی آخری اسٹیج پر پہنچ گئے ہیں۔خیر ہم ایک قادر مطلق اللہ کی ذات پر یقین رکھنے والے ابھی اتنے دل شکستہ نہیں ہوئے ہیں۔کیونکہ ہمارا ایمان ہے۔
ومکرو و مکراللہ,واللہ خیرالماکرین○
ماشااللہ بہت خوب اللہ تعالی آپ کو نذر بد سے بچائے
جواب دیںحذف کریںجزاک اللہ خیرا کثیرا۔آمین یا رب العالمین ۔بہت شکریہ محترم
حذف کریں