کڑے سفر کا تھکا مسافر،تھکا وہ ایسا کہ سو گیا ہے۔۔!
کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا وہ ایسا کہ سوگیا ہے!
✍🏻عامرفہیم ،جالنہ
بھوکردن جامع مسجد کے امام و خطیب،جماعت اسلامی بھوکردن کے اولین رکن رکین محترم حافظ عبدالماجد صاحب گذشتہ کل شدید قلبی حملے کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے۔صبح کی اولین ساعتوں میں یہ خبر دل کو مغموم کردینے کا باعث بنی،گذشتہ چند مہینوں میں بیشتر علماء اتقیاء و صلحاء کی تیزی کیساتھ موصول ہونے والی انتقال کی خبروں نے پورے ماحول کو تشویش زدہ اور غمگین کیا ہوا ہے۔گذرے پندرہ دنوں میں جالنہ ضلع کے تین ارکان جماعت اسلامی کا انتقال یقینا تحریکی حلقہ میں شدید غم و اندوہ کا باعث ہے تاہم منشاءِ خداوندی کے آگے سرنیازخم کرتے ہوئے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھنا عین بندگی کا تقاضا ہے۔
محترم حافظ صاحب کا مکمل تعارف قارئین کی فرمائش اور مرحوم کی گوناگو خصوصیات کو منظرعام پر لانے کی غرض سے پیشِ خدمت ہیں گیا۔
مرحوم کا مکمل نام حافظ عبدالماجد ابن راجے خان پٹھان تھا۔آپ کی پیدائش ۲۵ اگست سن۱۹۵۶ء کو ڈونگرگاؤ تعلقہ سلوڑ ضلع اورنگ آباد میں میواتی خاندان میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم سلوڑ میں حاصل کی حفظِ قرآن کی سعادت جامعہ کاشف العلوم اورنگ آباد سے حاصل کرنے کے بعد عالمیت کے لئے مدرسہ معہدملت مالیگاؤں سے عالمیت کے چند سال کئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد موصوف نے جامع مسجد بھوکردن میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی۔تادمِ آخر آپ امامت کے عہدہ پر فائز رہیں۔تقریبا ۴۳ سال تک آپ امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔آپ سن شعور کی عمر سے ہی تحریکی سرگرمیوں سے وابستہ ہوگئے تھے۔جماعت اسلامی بھوکردن کے آپ نہایت فعال رکن پہلے امیرمقامی نیز سماجی تعلیمی اور معاشرتی سرگرمیوں کے بے لوث کارکن تھے۔مرحوم مجلس العلماء تحریک اسلامی کے مقامی ذمہ دار، مجلس علماء و حفاظ بھوکردن کے سابق صدر اور حالیہ میقات میں جماعت اسلامی کے شعبۂ اسلامی معاشرہ کے مقامی سیکریٹری تھے۔مزاج اور طبیعت میں بلا کی سادگی عجزوانکساری سنجیدگی اور بردباری تھی۔صبروتحمل نظم و ضبط مستقل مزاجی اور شانِ بےنیازی مرحوم کے اوصاف حمیدہ تھے۔حضورﷺ کے ارشاد احب الاعمال الی اللہ ادومھا وان اقل کی مصداق تھوڑا مگر مستقل کام کرنا موصوف کا شیوہ تھا۔آپ کا حضرت مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی صاحب کے ساتھ خصوصی روحانی تعلق تھا مولانا عبدالقیوم قادری مولانا بشیراحمد راہی(والد محترم کے آپ سے دیرینہ اور والہانہ بےتکلف تعلقات تھے دونوں حضرات نے طویل عرصہ تک مدرسہ اور امامت کی ذمہ داری ساتھ ساتھ ادا کیں۔) مولانا غفران احمد صدیقی صاحب کیساتھ آپ نے تحریکی اور فکری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔پوری زندگی قناعت پسندی، کفایت شعاری، کسمپرسی اور سادگی میں بسر کی تاہم کثیرالعیال ہونے اور محدود معاشی ذرائع ہونے کے باوجود آپ نے اولاد کو بہترین اعلی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا آپ کے ایک فرزند حافظ قرآن ہونے کے ساتھ اورنگ آباد میڈیکل کالج سے ڈاکٹریٹ بھی کررہے ہیں۔صاحب خیر حضرات خصوصا تحریکی رفقاء کی اخلاقی ذمہ داری ہیکہ مرحوم کے ورثاء خصوصا میڈیکل اسٹوڈنٹ ڈاکٹر حافظ محمد ریحان خان اشاعتی کی تعلیمی و معاشی ضرورتوں کا خیال رکھیں۔یہی مرحوم کے حق میں بہترین خراج عقیدت اور ملت کے حق میں آپ کے چھوڑے ہوئے اثاثہ کی قدردانی کا حق ثابت ہوگا۔اللہ تعالی مرحوم کو غریق رحمت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے تحریک اسلامی کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
Bahut khoob
جواب دیںحذف کریںشکریہ
حذف کریںMasha Allah
جواب دیںحذف کریںجزاک اللہ
حذف کریںMasha Allah
جواب دیںحذف کریںجزاک اللہ
حذف کریںاللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے
جواب دیںحذف کریںmasha Allah
جواب دیںحذف کریںBahot khoob.
Masha allah
جواب دیںحذف کریںMashaallah
جواب دیںحذف کریں