مُرشِد ہمارے ذہن گرفتار ‏ہوگئے۔۔‏

مُرشِد ہمارے ذہن گرفتار ہوگئے۔۔!
       ✍عامرفہیم راہیؔ

عصر کی نماز کے بعد موبائل نکال کر جیسے ہی فسادبک(فیس بک) کھولا ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اپنے شہر سے متعلق ایک نیوز چینل پر کرونا وائرس کے مشکوک و مشتبہ مریض کے پائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیو پورے شہر میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گیا پھر کیا تھا پیسے والے ماسک لگا کر اور ہم جیسے غریب رومال لپیٹیں ایک دوسرے سے نظریں چُرا کر نکل پڑیں۔ہر کوئی ایک دوسرے کو مشکوک نگاہوں سے گھورنے لگ گیا۔کوئی بے چارہ غلطی سے چھینکتے یا کھانستے نظر آتا اس سے متعلق مذکورہ مشکوک مریض کا اطلاق کیا جانے لگ گیا۔۔گویا چھینک یا کھانسی جیسے فطری اور طبعی تقاضے بھی لوگ خوف و دہشت کے ماحول میں رازداری کیساتھ انجام دینے لگ گئے۔۔عشاء کے وقت وضو خانہ پر کچھ نو خیز طلبہ سرگوشی کررہے تھے۔میں قریب بیٹھا ساری باتیں غور سے سن رہا تھا۔بہت دلچسپ گفتگوں چل رہی تھی۔سب اپنی اپنی رائے گھر والوں کی نصیحتیں احتیاطی تدابیر ،اندیشوں، خدشوں اور بڑے بوڑھوں کے مشاہدوں اور تجربوں کا ذکر کررہے تھے۔اچانک ایک نوجوان نے واٹسپ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی برگزیدہ بزرگ کے خواب کا احوال سنانا شروع کیا۔۔دو شرکاء آپس میں سرگوشی کررہے تھے خواب سنانے والے نے قدرے ناراضگی،بیزارگی اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے خواب سننے کی تلقین کی۔۔سبھی بڑے غور سے میسج سننے لگ گئے۔۔فکر مندی وحشت متحیرانہ استعجاب خوف اور دہشت زدگی ان کی بلائیں لینے لگی۔۔خواب بیان کرنے والے نوجوان نے ہر وقت وضو سے رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے اپنے قریب کے نل کو حرکت دی اور فخریہ لہجہ میں اسلامی تعلیمات کی افادیت پر سیر حاصل علم و حکمت کے موتی لٹائیں۔۔۔اذان کی آواز کانوں میں ٹکرائی پانچ میں سے تین بشمول میسج پڑھنے والے کے وہاں سے نکل کھڑے ہوئے،لوگ مسجد میں بھی ماسک لگا کر آرہے تھے وہ غنیمت نماز کی صفوں میں کوئی ماسک زدہ مصلی نظر نہیں آیا۔۔۔
میں گہری سوچ میں گم ہوگیا۔۔۔کہ کیسے کوئی بھی اچھی یا بری،جھوٹی یا سچی خبر اتنے جلدی پھیل کر لوگوں کے ذہنوں میں مختلف نفسیاتی کیفیات کو پروان چڑھاتی ہیں،لوگ اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں۔کوئی تفتیش اور تحقیق نہیں۔دراصل اسی سے فتنے رونما ہوتے ہیں۔۔یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جو منظم انداز میں لڑی جارہی ہے۔۔موبائیل فون انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اس کے وہ خوفناک ہتھیار ہیں جس کے نرغے میں آج ہر کوئی پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔۔ہم وہیں دیکھ رہے ہیں جو ہمیں دکھایا جارہا ہے وہیں سن رہے ہیں جو سنایا جارہا ہے اور وہی سمجھ رہے ہیں جو ہمیں سمجھایا جا رہا ہیں۔۔دراصل ہم اس نفسیاتی جنگ میں بہت بری طرح گھِر چکے ہیں کیا بچے بوڑھے جوان مرد و خواتین تعلیم یافتہ ان پڑھ سب اس میں ملوث ہیں۔۔
ہر شخص مریض اور آسیب زدہ نظر آرہا ہے وہ مرض کہ جس کا علاج صرف اسی کے اپنے جیب میں پڑا ہے۔۔دراصل ہماری سوچ مفقود ہوچلی ہیں ہمارے ذہن گرفتار ہو چکے ہیں۔۔یہ ایک وائرس ہے جو مرض متعدی کی طرح ہمارے ماحول میں راسخ ہوچکا ہے۔۔کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک، مختلف اخلاقی روحانی سماجی تعلیمی تہذیبی اور نفسیاتی رذائل اور مہلک بیماریاں اس سے سماج میں پنپ رہی ہیں۔۔
جھوٹ فریب اور لایعنی باتوں سے بھرے ہوئے بے شمار میسیج دن رات کثرت سے پھیلائے جارہے ہیں،جس سے سماج میں منافرت بدگمانیاں اور عدم توازن کا ماحول تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔واٹساپ اور فیس بک وغیرہ پر آنے والی دینی و ملی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹیں اور تصاویر کی بھرمار سے یوں محسوس ہونے لگا ہیکہ اپنے کاموں کا اجر بھی ہماری جماعتوں کے ذمہ دار یہی سے وصول کر رہنا چاہتے ہیں۔یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جو دن بدن تیزی کیساتھ پورے سماج میں پھیلتا چلا جارہا ہے۔کاموں سے خلوص کو ختم کرتا جارہا ہے۔
رشتہ اور تعلق کی قدریں بھی اب آن لائن ڈیجیٹل اور پروفیشنل ہوچکی ہیں۔
لوگ بظاہر قریب ہوکر بھی آپس میں ایک دوسرے سے بےنیاز اپنی دنیا میں مگن میلوں دور بیٹھے افراد سے رابطہ بحال کرنے میں پریشان ہیں۔
ہر کسی کا سر جھکا ہوا ہے۔۔ فضول بےمقصد منفی تخریبی اور اخلاق سوز مواد سے لیکر نوجوانوں کے جنسی جذبات کو مشتعل کرنے تک ہرلحظہ ابلیسی نمائندے مستعد و متحرک ہیں۔اپنے دین و ایمان عقیدہ و اعمال کی حفاظت کرنا سب سے بڑا  مجاہدہ اور مشکل کام ہوچکا ہے۔
قوم کے نوجوانوں کے ذہنوں میں احساس کمتری مایوسی پست ہمتی دہشت اور خوف و بےمائیگی کی نفسیات پروان چھڑانے میں فی الوقت موبائیل کے غیرضروری استعمال کا بہت بڑا دخل ہے۔اس پر فی الفور قابوں پانا ہمارے لئے بےحد ضروری ہوچکا ہیں۔میں اس کام کو اپنی ذات سے شروع کرنے کا سب سے پہلے ذمہ دار ہوں۔۔اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو اس عذاب سے بچانا ہے تو ہمیں بہت سنجیدگی کیساتھ اس جانب توجہ دینی ہوگی۔۔
○○○

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب