(حضرت مولانا رفیق قاسمیؒ صاحب کی وفات حسرت آیات پر یادوں کے جھروکوں سے لکھی گئی چند بے ترتیب سطور۔۔)

اک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی۔۔________________________________
عامرفہیم راہیؔ،جالنہ


آج (مؤرخہ 6جون 2020) علی الصبح بذریعہ واٹسپ یہ اندوہناک اطلاع موصول ہوئی کہ حضرت مولانا محمد رفیق قاسمی صاحبؒ(سابق سیکریٹری جماعت اسلامی ہند) داعئ اجل کو لبیک کہہ کر دارفانی سے دار بقاء کی طرف کؤچ فرماگئے۔آہ،کس قدر دلدوز تھا وہ لمحہ جب مولانا محترم کےانتقال کی خبر پڑھی گئی۔یکایک ذہن کی سکرین پر مولانا محترم سے وابستہ چند خوشگوار یادیں اور تابندہ نقوش نمودار ہونے لگ گئے۔ہنستا مسکراتا پر نور  چہرہ،مہذب لباس،شگفتہ لہجہ،نفیس طبیعت،شائستہ اور باوقار شخصیت کے مالک مولانا محترم رفیق قاسمی صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے۔آپ کی وفات حسرت آیات سے ناصرف تحریک اسلامی ہند کا بڑا نقصان ہوا ہے بلکہ ملت اسلامیہ ہند ایک عظیم علمی فکری اور تحریکی رہنما سے محروم ہوچکی ہیں۔؂
اک  دیا  اور  بجھا  اور  بڑھی  تاریکی!
شب کی سنگین سیاہی سے مبارک کہدو 
مولانا موصوفؒ انتہائی کریم النفس،خلیق، مشفق،بذلہ سنج اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔تصنع،تکلف،ریاکارانہ زہد اور دکھاوے کی پارسائی سے مرحوم کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔مولانا محترم کی خدمت میں بہت زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہیں ملا لیکن جس قدر موقع ملا اس میں بندہ نے موصوف کو بہت قریب سے دیکھا۔انتہائی سادہ مزاجی اصول پسندی اور بے نیازی موصوف کی شخصیت کے اوصاف حمیدہ تھے۔بلامبالغہ وہ حقیقی زہد و ورع تقوی و للہیت  طہارت و نظافت جسے ہم اسلاف کی زندگیوں کے حوالے سے کتابوں میں پڑھتے اور سنتے ہیں مولانا موصوف کی شخصیت میں دیکھنے کا موقع ملا۔
ایک دفعہ حلقۂ مہاراشٹرا کے تنظمی دورے کے سلسلے میں آپ کی آمد شہرجالنہ بھی ہوئی ایک روزہ دورے کی ترتیب بنادی گئی تھی مقامی ذمہ دار کی ایماء پر بندہ کو مولانامحترم کی خدمت میں وقت کو (شرف بخشنا) فارغ کرنا تھا۔حسب ترتیب بعدنمازظہر مقامی علماء کرام کیساتھ ظہرانہ اور اس کے بعد نشست کا وقت طئے تھا۔دریں اثناء شہر کے معروف کانٹریکٹر کے شدید اصرار پر مولانا محترم کے ظہرانہ کا نظم موصوف کے مکان پر کیا گیا جس میں شہر کے مسلم و غیرمسلم عمائدین کی مولانا سے ملاقات رکھی گئی تھی۔مولانا محترم کو پروگرام کی ترتیب میں ترمیم کا علم ہوا تو آپ نے سخت ناپسندیدگی اور شدیدخفگی کا اظہار کیا اور تڑپ کیساتھ فرمایا کہ "مجھے جن لوگوں(علماء و ائمہ) سے مخاطب ہونا ہیں میں انہیں کیساتھ کھانا کھاؤنگا یہ فرق کیونکر پیدا ہوگیا کہ مقرر تو عالیشان بنگلہ میں انواع و اقسام کے پرتکلف لذیذ کھانے کھائے اور سامعین مسجد میں ہجوم لگا کر فارغ ہو۔عادتیں خراب کردی گئی ہیں مقررین کی۔۔۔یہ فرق آپ لوگوں(منتظمین) نے پیدا کیا ہے۔کسی سیٹھ صاحب کے یہاں انتظام کرنے سے پہلے مجھے پوچھ تو لیتے؟؟" 
مولانا کو بتایا گیا کہ وہاں کچھ لوگ بشمول  ضلع ایس پی آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں آپ نے دعوتی ملاقات کے پیش نظر شان بےنیازی کیساتھ اس شرط پر اجازت دیدی کہ وہاں زیادہ وقت برباد نہیں کیاجائیگا۔دسترخوان پر بیٹھنے سے قبل مجھے مولانا نے کہا بیٹا ہمارے بیگ میں توشہ(جس میں جوار کی روٹی پھلی کے بینج کی چٹنی اور تھوڑی میتھی کی بھاجی جو غالبا آپ گھر سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لائے تھے۔)رکھا ہے دسترخوان پر اسے کھول کر ہمارے سامنے کردینا ہم وہی کھائیگے۔دسترخوان سجایا گیا کھانا شروع ہوا ایک صاحب (جن کا تعارف مقامی ذمہ دار کی حیثیت سے کرایا گیا تھا۔) سامنے کی جانب بیٹھے تھے بار بار مولانا کو کھانا لینے کا اصرار کرتے ہوئے اپنی پلیٹ بھرتے جارہے تھے مولانا نے انتہائی سادگی  سے انہیں کہاں کہ جناب آپ لیجئے مجھے ان چیزوں کا "پرہیز" ہے۔ لفظ پرہیز کی جامعیت کو سمجھے بغیر جناب موصوف روایتی پرہیزی کھانے کو پیش کرنے لگے مولانا نے انتہائی بذلہ سنجی کیساتھ سامنے برتن میں رکھی ہوئی مرغ کی ٹانگ یہ کہکر کہ لیجئے قیادت کی بہترین پسندیدہ غذا  موصوف کی پلیٹ میں رکھ دی ساری محفل زعفران زار ہوگئی اور مولانا موصوف ہاتھ دھو کر اٹھ گئے۔
مولانا سے دوسری ملاقات دہلی میں فارغین مدارس کے دس روزہ تربیتی کیمپ کے موقع پر ہوئی۔طویل سفر کی کڑی مشقت سے شدید تھکاوٹ اور بیزارگی کیساتھ جب مرکز جماعت پر حاضری ہوئی استقبالیہ پر مولانا محترم کو بنفس نفیس مہمانوں کے خیرمقدم کے لئے کھڑا دیکھ کر ساری تھکاوٹ کافور ہوگئی۔کھلتے گلاب کی طرح شاداب مسکراتے چہرے سے ہر مہمان کا ایسا استقبال کررہے تھے گویا کوئی اپنا دیرینہ قریبی رشتہ دار گھر آیا ہو۔مجھے دیکھر تھوڑا توقف کیا گویا یادداشت پر زور دینے لگے ایک معمولی اشارہ پر فورا پہچان لیا مقامی حالات کی خیریت دریافت فرمائی اور مولانا عبدالقیوم قادریؒ صاحب کی یاد کرکے ان سے متعلق دو تین لطیفے سنائے۔یہ آپ کے کردار کی عظمت اور اخلاق کی بلندی کی دلیل ہے۔میرا قیام مرکز پر تقریبا بارہ دن رہا۔دیگر اکابر و مشاہیر علماء کرام و ذمہ داران جماعت بشمول مولانا محترمؒ سے خوب سے خوب تر استفادہ کا موقع ملا۔علمی فکری و تربیتی نشستوں میں مولانا محترم کا عالمانہ وقار دوبالا ہوجاتا۔آپ بہترین مخلص مشفق و مربی تھے۔نشستوں کے علاوہ جب بھی موقع ملتا مولانا محترم کی خدمت میں شرف نیاز حاصل کرنے چلا جاتا۔ آپ بہت شفقت فرماتے علمی نکات میں زبردست رہنمائی فرماتے۔آپ کے سینے میں ایک ایسا درد مند دل تھا جو ہر وقت ملت اسلامیہ کی فکر میں تڑپتا رہتا موصوف اتحاد بین المسلمین کے حقیقی علمبردار اور تحریک اسلامی ہند کے بے لوث شہسوار تھے۔اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ میں موصوف نے ایسا شاہکار اور زبردست تبصرہ فرمایا تھا جس کے انمٹ نقوش آج تک میرے حاشیۂ ذہن پر تر و تازہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالی موصوف کی بال بال مغفرت فرمائے درجات کو بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آپ کی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے تحریک اسلامی سمیت ملت اسلامیہ ہند کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔

وہ ایک تارا جو ضوفگن تھا،حیات کے مغربی اُفق پر!
سیاہئ شب کے پاسبانو،خوشی مناؤ کہ وہ بھی ڈوبا!
وہ اِک سفینہ جو ترجماں تھا،بہت سی غرقاب کشتیوں کا!
ہماری حالت پہ ہنسنے والوں، ہنسی اُڑاؤ کہ وہ بھی ڈوبا!
وہ ایک دل جو دمک رہا تھا،خلوص و ایماں کی تابشوں سے!
خلوص و ایماں کے دشمنوں کو،خبر سناؤ کہ وہ بھی ڈوبا!

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب