ایڈوکیٹ الحاج سید عبدالمجید صاحب علیگ قسط۳
جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش
مستقل تعارفی سیریز قسط۳
☆روشــــن چــــــراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
آج کے خصوصی مہمان
محترم الحاج
ایڈوکیٹ سید عبدالمجید صاحب علیگ
آپ کا مکمل نام سید عبدالمجید ابنِ سید عبدالحکیم ہے۔آپ کی پیدائش ۲۴/اپریل سن ۱۹۳۷ء کو شہرجالنہ کے علمی خانوادے میں ہوئی۔(آپ کے والد شہرجالنہ کے مشہور و معروف وکیل تھے والدصاحب کا آبائی تعلق ریاست اترپردیش سےتھا۔اس لحاظ سے وکالت موصوف کا موروثی پیشہ رہا کہ آپ اپنے خاندان کے ساتوے وکیل رہے۔اس کے بعد بھی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔)
آپ کی ابتدائی تعلیم جالنہ اور اورنگ آباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں ہوئی۔اعلی تعلیم کے حصول کے لئے آپ ۱۹۵۴ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لےگئے۔وہاں بتدریج گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کی۔اسلامی اقتصادیات کا موضوع شروع ہی سے موصوف کی دلچسی کا محور رہا ہے لہذا معاشیات میں ایم اے کیا والد صاحب کی خواہش پر بادلِ ناخواستہ نمایا نمبرات سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔دورانِ تعلیم آپ کے والدِگرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔گھر پر سخت ترین معاشی بحران حاوی ہوگیا وسائل کی عدم دستیابی اور گھریلوں تنگدستی کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔گھر کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سے آپ کو جالنہ واپس ہونا پڑا۔فکرِغم روزگار دامن گیر ہوگیا۔ناچاہتے ہوئے اپنے موروثی پیشۂ وکالت سے ۱۹۶۱ میں وابستہ ہوگئے۔اپنے دورِ وکالت میں سچائی،دیانتداری،اور بیباکی کی وجہ سے آپ نے غیرمعمولی مقام حاصل کرلیا۔کم و بیش چالیس سال تک وکالت کی ذمہ داری اداکی۔اس دوران آپ صرف اپنے پیشہ ہی سے متعلق نہ رہے بلکہ مختلف دعوتی و اصلاحی،تعلیمی و سیاسی میدان میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی۔
○نمایا کارکردگی○
✍🏻اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل کی یکسوئی اور ان کے حل و سدباب کی عملی کوششوں کے لئے سن۱۹۶۷ء میں مجلس مشاورت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی نائب صدر کےلئے بالاتفاق آپ کو منتخب کیا گیا۔جس پر فائز ہونے کے بعد آپ نے غیرمعمولی ملی و سیاسی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوئے مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم سے اسمبلی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے آنجہانی رادھا کرشن لالا کو جتاکر اقلیتوں کی نمائندگی کے لئے ودھان سبھا بھجوایا۔
✍🏻علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں نظریاتی تصادم روزِاول ہی سے چلا آرہا ہیں۔مختلف گرماگرم موضوعات پر مدلل مباحث و محاضرات منعقد کئے جاتے ہیں۔تین طبقات ہر دور میں وہاں دیکھے گئے۔۱)دین پسند حلقہ ۲)دین کو غالب کرنے کی جدجہد کرنے والا تحریکی حلقہ ۳)دین بیزارحلقہ۔آپ کا تعلق مذکورہ حلقۂ دوم سے رہا جس میں آپ کا عالمی ماہر معاشیات و مرکزی ذمہ دار جماعت اسلامی محترم نجات اللہ صدیقی صاحب سے جو آپ کے کلاس فیلو بھی تھے خصوصی فکری تعلق قائم ہوا اسی کشمکش میں آپ نے اپنا منفرد مقام بناکر حلقۂ دوم کی نماندگی کی ذمہ داری بھی ادا کی۔اسی فکری اور تحریکی تربیت کے نتیجہ میں آپ نے مقام پر آکر ۱۹۶۱ ہی سے درسِ قرآن و درسِ حدیث کے حلقے منظم کئے۔مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو ختم کرنے اور آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا کو ہموار کرنے کے لئے ضلع کے مختلف چھوٹے بڑے مقامات کا دورہ کیا اور ہر مقام پر مجلس مشاورت کے تحت ایکشن کمیٹی بنام رِسیوں سنٹر قائم کئے جو بروقت مسائل کے حل کے لئے سرگرمِ عمل رہے۔مسلمانوں میں دینی بیداری کے لئے عملی اقدامات کئے۔
✍🏻اقلیتوں اور پسماندہ طبقات خصوصامسلمانوں کے ساتھ حکومت کے خصوصی امتیاز سے برداشتہ خاطر ہوکر ۱۹۷۷ میں آپ باضابطہ سیاست میں اتر گئے۔جنتا پارٹی کے ٹکٹ سے رکن اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔آپ کے شخصیت کی انفرادیت اور عوامی مقبولیت کے پیش نظر یہ تاثر قائم کیا جاچکا تھا کہ آپ الیکشن جیت چکے ہیں۔لیکن ایک واقعہ نے
(انتخابی مہم کے دوران سینکڑوں کے مجمع میں آپ کو آرتی پوجا کے لئے اصرار کیا گیا لیکن حمیتِ ایمانی اور غیرتِ اسلامی کی وجہ سے آپ نے آرتی اتار رہے نوجوان کو دھکا دیکر ہٹایا دیا۔)
تصویر کا رخ پلٹ گیا اور بہت کم ووٹوں سے آپ شکست سے دوچار ہوئے۔اس کے بعد آپ سیاست سے یہ کہکر کہ ایک راسخ العقیدہ مومن کےلئے جمہوری سیاست ہلاکت کے مترادف ہیں دست بردار ہوگئے۔
✍🏻سقوطِ حیدرآباد کے بعد مسلمان تعلیمی و معاشی بدحالی کا شکار ہوگئے ہمہ وقت محاذ آرائی کی اشد ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب،تاج الدین خان صاحب اور دیگر ذمہ داران کیساتھ انجمن اشاعت تعلیم کی بنیاد رکھی گئی جس میں آپ نے غیرمعمولی کلیدی کردار ادا کیا۔جس کے تحت باضابطہ مختلف معتبر تعلیمی ادارے قائم کئےگئے جو ہنوز اپنی آب و تاب کیساتھ خدمات انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔
✍🏻مسلم معاشرے میں درآئیں ہندؤانہ تہذیب،بدعات و خرافات،فضول رسوم و رواج،درگاہوں اور آستانوں پر انجام دی جانے والی مشرکانہ رسومات کے سدباب کے لئے عملی اقدامات کئے اور جابجا برموقع پہنچ کر لوگوں کو توحید رسالت اور آخرت کے پیغام سے متعارف کروایا۔
✍🏻 وکالت کے پیشہ سے سینکڑوں بےگناہ مجبور اور لاچار لوگوں کی مدد کی۔جماعت اسلامی کی رکنیت کے لئے اپیل کی لیکن آپ کے پیشہ وکالت کی وجہ سے آپ باضابطہ رکن نہیں بن پائے۔حلقۂ مہاراشٹرا کے متفقینِ جماعت کے آپ صدر منتخب ہوئے۔
✍🏻آپ کی زندگی کا وہ عظیم کارنامہ جسے ذکر کئے بغیر آپ کی شخصیت کا تعارف ناتمام ہے۔علاقۂ مراہٹواڑہ کی معروف علمی دینی اصلاحی و تربیتی درسگاہ مدرسۂ عربیہ فیض العلوم جالنہ کا قیام ہیں۔
۲۸/جولائی سن۱۹۸۳میں مرحوم عبدالقادر صاحب کی تڑپ اخلاص اور خصوصی توجہ اور مسلسل اصرار پر ایک مکتب کی شکل میں مدرسہ فیض العلوم کی بنیاد رکھی گئی۔وقت گذرا اور سینکڑوں طالبان علوم نبوت اور تشنگان معرفت و حقیقت اس بحرِعلوم کے فیض سے مستفیض ہوتے چلے گئے۔وسائل و افرادی قوت کی کم مائیگی کے دورِ تنگدستی میں لگایا گیا یہ ننھا پودا مختلف سخت و نرم حالات مشقت آمیز مشکلات اور موسم کی سختیوں کو جھیلتا ہوا آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔یقینا اس میں آپ کے اور مدرسہ کے اساتذہ کرام کے اخلاص،تڑپ،آہِ سحر گاہی،للہیت اور بے پنا جدوجہد کی آمیزش ہے کہ ہمیں اپنے اطراف و اکناف میں اس آفتابِ علمِ نبوت اور ماہتابِ معرفت و حقیقت کے فیض یافتہ سینکڑوں جگمگاتے روشن ستارے آسمانِ دنیا پر نظر آرہے ہیں۔مدرسہ کے قیام سے لیکر توسیع و استحکام تک آپ کو کئی مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جس میں آپ نے اعلی ترین عزم و حوصلہ جرات و پامردی کا مظاہرہ کیا۔ روزِاول ہی سےمدرسہ کا تعلیمی و انتظامی الحاق عالم اسلام کی مایہ ناز درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء سے رہا۔طلبہ یہاں سے عالیہ اؤلی تک تعلیم کے بعد اعلی تعلیم کے لئے لکھنؤں روانہ کیے جاتے ہیں۔
ندوۃ العلماء سے آپ کا خصوصی علمی فکری روحانی و اخلاقی تعلق رہا۔ہر وقت آپ اکابرین ندوۃ کے منظورِ نظر رہے۔آپ کے بقول ندوۃ موصوف کی فکر و روح کا مرکز رہاہیں۔
✍🏻مدرسہ کی توسیع و استحکام کے لئے قائم کی گئی سوسائٹی کے زیراہتمام ضلع جالنہ کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراثر دارالقضاء قائم کیا گیا۔جس کے تحت مسلمانوں کے عائلی و معاشرتی مسائل و تنازعات کے حل اور سدباب کی کوششیں بحسن و خوبی انجام دی جارہی ہیں۔
✍🏻ملت کی بیٹیوں کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کے لئے شہر جالنہ کی سطح پر دو جامعات ۱)جامعۃ المحسنات ۲)جامعۃ الحسنات کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں دختران ملت قابل و محنتی عالمات و فاضلات کی نگرانی میں علم کی تشنگی کو دور کرنے میں مصروف ہیں۔
زمانۂ طالبِ علمی ہی سے موصوف کو جن عظیم شخصیات سے علمی و فکری روحانی و اصلاحی تعلق رہا ہے اس میں قابلِ ذکر حضرت مولانا مفکر اسلام سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ،مفکراسلام مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ،مدبراسلام مولانا امین الرحمن عامر عثمانیؒ،تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا شمس پیرزادہؒ،سابق امیرِ جماعت مولانا ابوللیث اصلاحی ندویؒ،شیخ العرب والعجم قاری محمد طیب صاحبؒ،مرشدالامت مولانا سیدرابع حسنی ندوی سمیت دیگر اکابرین امت شامل ہیں۔آپ کے اساتذہ میں پروفیسر خلیق الرحمان نظامی اور پروفیسر عرفان حبیب صاحب کا نام قابل ذکر ہے۔آپ کی دعوتی و تحریکی اصلاحی و تعلیمی سرگرمیوں میں رفقاء کار کی فہرست خاصے طویل ہیں۔جن میں قابلِ ذکر مولانا عبدالقیوم قادری صاحبؒ ڈاکٹر محمد بدر الدین صاحب،تاج الدین خان صاحب،الحاج محمد عثمان صاحب مرحوم عبداللہ خان صاحب،محمود احمد خان صاحب سید عبدالرشید صاحب سمیت کئی قیمتی شخصیات شامل ہیں۔آج بھی ضعیفی،بیماری اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ حرکت و عمل کا مجسم نظر آتے ہیں۔شہر کی مختلف سڑکوں اور گلی کوچوں میں اپنی قدیم سواری پر سوار سرگرم عمل رہتے ہیں۔ضلع بھر کی مختلف مساجد میں خطبات جمعہ دینے کے لئے دورے کرتے اور مدرسہ کیلئے(جو انکی زندگی کا سرمایہ اور انشاءاللہ آخرت کی نجات کا ذریعہ بن چکا ہے)لوگوں سے تعاون حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔موصوف راست باز،بےلاگ و دوٹوک اور حقیقت پسند انسان اور شانِ بے نیازی کے پیکر ہے تصنع،تکلف،ریاکارانہ زہد سے آپ کا دور تک تعلق نہیں۔
☆پــیــغــامِ عمل☆
قرآن مجید کی بالادستی کو قولا" و عملا" قبول کیا جائے۔قرآنی تصور اخوت کے بغیر اتحاد و اتفاق ممکن نہیں لہذا غیرضروری اور فروعی اختلافات میں تضیعِ اوقات کے بجائے ملت کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی کیلئے صف بستہ ہوجائے۔باطل منظم انداز میں ہم پر حملہ آور ہیں ہمیں اس کے مقابلہ کے لئے ہر محاذ پر افرادسازی کرکے ملت میں بیداری لانے کاکام کرنا چاہئے اور اپنے ہر کام کے لئے اللہ سے مدد و نصرت کی بھیک مانگنی چاہئیے۔۔۔۔
اللہ رب العزت محترم وکیل صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین
(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے)
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
عامـــرفہـــیم راہـــیؔ,جالنہ
8329953822
Marshallah.
جواب دیںحذف کریںBahut khoob
جواب دیںحذف کریںان للللہ و انا الیہ راجعون
جواب دیںحذف کریں