قومی ‏یکجہتی ‏یا ‏دعوتِ ‏دین۔؟؟


قومی یکجہتی یا دعوتِ دین۔۔؟
          ✍عامرفہیم راہیؔ

لوک سبھا عام انتخابات کے غیر متوقع نتائج منظر عام پر آچکے ہیں۔حسب سابق بائیں جانب کی متشدد فرقہ پرست جماعت برسراقتدار ہوچکی ہے۔اس الیکشن میں غیرمعمولی سیاسی تبدیلی پورے ملک میں محسوس کی گئی۔وکاس،روزگار،تعلیم اور اقلیتوں کے تحفظ و ترقی جیسے اہم امور سے صرفِ نظر پاکستان،پلوامہ،رام مندر اور مسلمانوں کے نام پر خوب ووٹوں کی سیاست چمکائی گئی۔دہشت گردی کے معاملات میں مبینہ طور پر ملوث سماج دشمن عناصر ملک کے باوقار عہدے(پارلیمنٹ کی رکنیت) پر فائز ہوکر عوامی نمائندگی کے لئے منتخب کئے گئے۔اس کے خاطرخواہ اثرات اسی دن سے پھر ایک بار ہجومی خونی تشدد کی شکل میں نمودار ہونا شروع ہوچکے ہیں  جس دن مودی خود ساختہ سرخرؤئی کا سہرا اپنے سر سجانے کی تیاری کررہے تھے۔۔۔ خیر اس دوران ملتِ اسلامیہ ہند کی ذمہ داری اس حوالہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہیکہ موجودہ حکومت کے عزائم اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں بالکل متعصبانہ اور معاندانہ ہیں۔گذشتہ میقات میں حکومتِ ہند کی جانب سے مسلمانوں کے تعلق سے ہمدردی کے نام پر کی گئی شرانگیزیوں کا ادراک ہر باشعور ذہن میں مستحضر ہے۔نتائج کے فورا بعد مختلف دینی و ملی تنظیموں کی جانب سے مسلمانان ہند کی تعزیت اور ڈھارس بندھائی کےلئے مکتوبات کا سلسلہ چل پڑا ہے جس میں خوف اور امید کی مشترک کیفیت کیساتھ مسلمانوں کو وعظ و تلقین کے انداز میں نصیحت کی گئی کہ مسلمان اپنے اندر خوف و ہراس،مایوسی و احساسِ کمتری کی نفسیات پروان نہ چڑھنے دیں ہمارے بزرگوں نے اس سے زیادہ نامساعد حالات اور سخت ترین مشکلات کا سامنا بڑی جواں مردی اور اوالعزمی کیساتھ کیا ہے۔کیا آپ جانتے ہے یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہیکہ انسان کو اس چیز کی طرف سوچنے پر مجبور کیا جائے جس کا تصور تک اس کے حاشیۂ ذہن میں نمودار نہیں ہو پایا۔۔۔مثلا ایک تندرست و توانا شخص کو یہ باصرار باور کرایا جائے کہ جناب آپ بیمار معلوم ہو رہے ہیں۔نتیجتا وہ شخص جسمانی اعتبار سے کتنا ہی تندرست ہو لیکن ذہنی اور نفسیاتی بیماری سے ضرور متاثر ہوکر رہیگا۔بالکل اسی طرح ہر شعبہ میں ملت اسلامیہ ہند کو یہ باور کروانے کی کامیاب کوششیں گذشتہ ستر سال سے ہوتی آرہی ہیکہ مسلمان خوف و ہراس مایوسی و دہشت زدگی کا شکار نہ ہو،جمہوری اقدار کے پاسدار بن جائیں،دستور ہند اور سیکولرازم کی حفاظت گویا تمہارا پیدائشی فریضہ ہے جسے نسل در نسل پوری ملت کو سنبھالنا ہے۔خیر ان حوصلہ افزاء مکتوبات سے یہ تو ثابت ہوچکا کہ ابھی ملت اسلامیہ ہند پوری طرح سے یتیم اور لاوارث نہیں ہوئی ہے۔۔انتخابات کے نتائج کے بعد ہی رہنمائی کیوں نا ہو لیکن قیادت ابھی زندہ ہے۔اس ساری ہنگامہ آرائی میں ایک تلقین جسے مسلمانوں نے اپنی گرہ سے باندھ رکھا ہے اور جڑسمیت دانتوں سے مضبوط پکڑ رکھا ہے وہ ہے قومی یکجہتی۔۔۔اس سلسلہ میں جلسے جلوس کنوینشن اور گرانڈ کانفرنس جیسے متعدد پروگرام منصوبہ بندی کیساتھ منعقد کئے جاتے ہیں جس میں بےدریغ وسائل و اسباب صرف کئے جاتے ہیں۔ قومی یکجہتی کانفرنس کی مثال اس سے زیادہ کچھ نہیں ہیکہ آپ مختلف کھلاڑیوں کی ریس منعقد کیجئے اور اکیلے خود ہی شرکت کرکے دوڑ لگاکر مقابلہ جیت جائیے اور خود ہی اپنی پیٹھ تھپ تھپائیے۔۔۔گویا قومی یکجہتی کا ٹھیکہ پورے ملک کی طرف سے آپ ہی کے حصہ میں آیا ہے۔۔۔ آپ کا تو نہیں معلوم لیکن نا چیز نے کبھی یہ نہیں سنا ہیکہ کسی بھی باطل نظریاتی تحریک نے کبھی قومی یکجہتی کانفرنس منعقد کی ہو اور اس میں یہ نعرہ بلند کیا ہو کہ ہم سب ایک ہے۔یہاں پر قومی یکجہتی کے علمبرداروں کی دل آزاری یا حوصلہ شکنی کرنا ہمارا قطعا منشاء نہیں ہے۔لیکن قومی یکجہتی کے مقابلے میں جو شرف و امتیاز ملت اسلامیہ کو خدائے لم یزل کی جانب سے عطا کیا گیا ہے وہ امت وسط،امت خیر اور شہادت علی الناس کا عظیم الشان اور جلیل قدر مقام و مرتبہ ہے۔ایک اسٹیج پر مختلف مذاہب کے علمبردار جب ہاتھ اٹھا کر قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کرتے ہیں تو اس سے گاندھی کے وضع کردہ نعرہ سرؤ دھرم سمبھوؤ کا تعفن نمودار ہوتا ہے۔جس میں سارے مذاہب کے فکری نظریاتی روحانی اور انسانی اقدار کو برابری کا حق فراہم کیا گیا ہے۔ملت اسلامیہ کا وہ خصوصی امتیاز اس نعرے اور قومی یکجہتی کے تصور تلے دب کر ختم ہوا جاتا ہے جس میں ملت کو داعی اور دیگر اقوام کو مدعو کہا گیا ہے۔سارے نظریات یکساں نہیں ہوسکتے۔حق کے مقابلے میں باطل اور اسلام کے مقابلے میں کفر کبھی بھی برابر نہیں ہوسکتا۔مسلمان اپنی داعیانہ حیثیت کو سمجھیں اور یہ بات ذہن میں بٹھاکر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کریں کہ اللہ رب العزت نے آپ کو داعی الی الخیر بناکر دنیا میں بھیجا ہے۔دیگر اقوام آپ کی مدعو ہے۔دینِ اسلام کے آفاقی پیغام اور انسانیت کے نجاتِ دہندہ کے حقیقی ابدی و سرمدی پیغام کو انسانیت تک بلا لحاظ مذہب انسانی بنیادوں پر پہنچانا اور شہادت حق کی قولی و عملی دعوت کا فریضہ انجام دینا ملت اسلامیہ ہند کی بقاء کا واحد اور مؤثر ترین ذریعہ ہے۔۔ اس ذمہ داری کو نا سمجھنے کے نتیجہ میں ملتِ اسلامیہ ہند گذشتہ ستر سالوں سے قومی یکجہتی کا بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے شکستہ خاطر ہوچکی ہیں۔یاد رہے قوموں کا وجود ان کے تخیل و ترجیحات پر موقوف ہوتا ہے۔قومی یکجہتی ایک صدی پہلے ہماری ترجیح تھی آج ہماری بدترین مجبوری بن چکی ہے۔اور یہ بھی ذہن میں بٹھا دیجئے کہ کل قیامت کے دن آپ سے بحیثیت امت وسط،امت خیر اور داعی الی الاسلام کی حیثیت سے فریضۂ دعوت دین اور شہادت علی الناس سے متعلق سوال کیا جائیگا نا کہ قومی یکجہتی اور اس کے علمبردار کی حیثیت سے۔۔۔

کنتم خیر امت اخرجت للناس۔۔۔الخ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب