قسط نمبر۹ فٹبال کی دنیا کا جادوگر سابق پولس آفیسر عالیجناب موسی سر فثبالر
﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
مستقل تعارفی سیریز٭قسط۹
☆روشــــن چــــــراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
آج کے خصوصی مہمان
عالیجناب شیخ موسی سر فٹبالرصاحب
محترم قارئین۔۔! ماضی کے خوشگوار و تابناک نقوش جب حاشیۂ ذہن پر نمودار ہوتے ہیں تو انسان کی طبیعت میں خرابئ صحت،پیرانہ سالی اور نقاہت و ضعفِ اعضاء کے باوجود فرحت و شادمانی جولانی و تابانی کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے گویا بدترین قحط سے متاثر فرسودہ زمین پر رحمت باراں کی پھوار پڑگئی ہو،گویا بےجان جسم میں روح پھونک دی گئی ہو،گویا قیدحیات کی بندشیں اپنی تمام تر مجبوریوں کے باوجود ایامِ گم گشتہ کو پکار رہی ہوں۔۔۔اس حال میں جبکہ ماضی کے خوشگوار لمحات کا تذکرہ چل پڑے اس شعر کی مصداق کیفیت پروان چڑھ جاتی ہے۔
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا۔۔۔!
انسان اپنی زندگی میں کچھ اہم فیصلے غیر ارادی یا غیرشعوری طور پر محض طبیعت میں لاابالی پن کی وجہ سے لیتا ہے لیکن ان فیصلوں میں ہی تقدیرمبرم پوشیدہ ہوتی ہے جو فرد کی زندگی کا اٹوٹ حصہ اور اس کی شخصیت کا تعارف بن جاتی ہے۔۔آدمی کو اپنے پسندکردہ شعبہ سے از حد محبت ہوتی ہے۔اور یہ محبت کاموں میں شفافیت پیدا کرتی ہے۔اور پھر انسان ترقی کی منزلوں کو عبور کرتا ہوا اپنا ایک مخصوص و منفرد مقام بنا لیتا ہے جہاں تک عام اذہان کا ادراک اور غیرسنجیدہ افراد کی رسائی ناممکن ہوتی ہیں۔۔۔
قارئینِ محترم۔۔! ہمارے آج کے مہمان کی زندگی کے غیرمعمولی حالات نوجوان نسل کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔نوجوانوں کا وہ طبقہ جو عیش کوشی اور تن آسانی کا شیوہ اپنا کر حالات اور مسائل کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں جو جسمانی ورزش سے زیادہ ذہنی و نفسیاتی سرگرمیوں میں وقت ضائع کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ایسے دوستوں کے لئے ہمارے آج کے مہمان فٹبال کی دنیا کے جانباز شہسوار محترم موسی سر کی زندگی نشانِ راہ ہے۔۔۔
آپ کا مکمل نام شیخ محمد موسی ابن شیخ وزیر صاحب ہے۔آپ کی پیدائش نئےجالنہ کے قدیم علاقہ پینشن پورہ محلہ میں ۱۵/ نومبر سن ۱۹۳۹ء کو ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔آپ کے والد ایک دیندار اور فرض شناس پولس حوالدار تھے۔ بنیادی تعلیم مدرسہ تحتانیہ مودی خانہ میں حاصل کی۔مدرسہ فوقانیہ میں نہم جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر پائے تھے کہ طبیعت میں لاابالی پن اور آزاد منش مزاج و مذاق کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ کو الوداع کہہ دیا۔(بعد میں تعلیم سے رجوع ہوکر آپ نے گریجویشن مکمل کیا)بچپن ہی سے فٹ بال کھیل میں جنون کی حد تک شوق پیدا ہوچکا تھا لہذا اپنے بچپن کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ گلی محلہ کے ہم خیال لڑکوں کو جمع کرکے استعمال شدہ کپڑوں اور پلاسٹک کے فٹبال بنائے جاتے اور پورا پورا دن ان خودتخلیق کردہ فٹبال کے پیچھے دوڑنے میں لگایا جاتا۔ جس کی وجہ سے پورے محلہ میں آپ کی منفرد شناخت بن چکی تھی۔عمر کے اس حصہ میں جبکہ آدمی لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوتا ہے اس کے خواب بھی بہت اونچے ہوتے ہیں۔موصوف نے بھی اپنے کائناتِ ذہن میں مستقبل کے لئے بہت دلکش اور پر فریب خوابوں کا جہاں آباد کررکھا تھا۔جس میں ایک عالمی شہرت یافتہ فٹبال کھلاڑی اور ایک ایماندار پولس آفیسر کا عہدہ قابلِ ذکر ہے۔تقدیر بر حق ہے۔خوابوں کو حقیقت کی تعبیر سے مزین کرنے کے لئے آپ نے اپنے والدِ گرامی کے صرف اس مشورہ پر کہ پولس فورس کا حصہ بن جاؤ۔۔ اس میں بہت عمدہ اور معیاری فٹبال سے تمہیں کھیلنے کا موقع ملے گا سن ۱۹۵۶ء میں CRPF جوائن کرلیا۔مسلسل محنت،لگن اور جستجوں کے نتیجہ میں آپ نے اپنا منفرد مقام بنالیا۔مستقل جدوجہد اور محنت ہائے شاقہ کے نتیجہ میں ایک معمولی کانسٹبل سے اپنے کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے کامیاب اور ایماندار پولس آفیسر کی حیثیت سے تقریبا چالیس سال تک مہاراشٹرا کے مختلف اضلاع سمیت عروس البلاد شہربمبئی میں طویل عرصہ تک زبردست خدمات انجام دیں۔مختلف تلخ و ترش حالات سے غیرمعمولی تجربات حاصل کئے۔پولس محکمہ کی مصروف ترین ذمہ داریوں پر فائز رہتے ہوئے بھی اپنے دیرینہ شوق فٹبال کو کبھی نہیں چھوڑا بلکہ جہاں کہی موقع ملا نوجوانوں کو تن آسانی سے نکال کر اس مشقت آمیز مشغلہ کا شیدائی بنانے میں عملی کوششیں جاری رکھی۔موصوف نے فٹبال کی دنیا میں اپنا بہت نام کمایا۔آپ نے پٹیالہ پنجاب اور بنگلور کرناٹک سے National Institute Of Sports (NIS) میں Diploma In Football کیا۔
اور CRPF مہاراشٹر فٹبال ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے طویل عرصہ تک ذمہ داری ادا کی۔ممبئی سے فٹبال ریفری کا خصوصی کورس کرنے کے بعد مختلف انٹرنیشنل شہرت یافتہ فٹبال ریفری(فٹبال میچ امپائر) کی خصوصی تربیت سے ملکی سطح پر ریفری(فٹبال میچ امپائر) کے طور پر بھی کام کیا۔آپ نے بین الاقوامی سطح پر سری لنکا کے خلاف ایک میچ میں حصہ لیا اور زبردست شہرت حاصل کی۔جس طرح خلافِ واقعہ شخصیات کی حیات ہی میں تعارفی و تہنتی تحریری سیریز کا یہ سلسلہ چل پڑا ہے ٹھیک اسی طرح موصوف کی حیات ہی میں آپ کے نام سے مختلف کھیل اکیڈمیز اور اداروں کی جانب سے فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاچکا ہیں.CRPF جالنہ ہیڈ آفس کے صدر دروازہ پر موصوف کے نام کا دلکش تعارفی و تہنیتی کتبہ پولس محکمہ میں آپ کی نیک نامی اور مقبولیت کی دلیل ہے۔درجنوں ایوارڈز توصیفی اسنادات اور تہنیتی سپاس نامے آپکو ملکی و ریاستی حکومت اور مختلف اداروں کی جانب سے دیئے جاچکے ہیں۔پولس سروس کے دوران آپ کی کئی ملکی و غیر ملکی بڑی سیاسی سماجی فلمی صنعتی اور ملی و مذہبی شخصیات سے دیرینہ ملاقاتیں رہیں۔جن میں قابلِ ذکر حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ،حضرت مولانا امین الرحمن عامر عثمانیؒ اور بقول موصوف مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ وغیرہم شامل ہیں۔بے دینی اور روشن خیالی کے ماحول میں رہ کر بھی آپ نے اپنی ذات پر ذرہ برابر اس کا اثر نہیں ہونے دیا۔مختلف بیماریوں اور آپریشن کی وجہ سے آج کل صحت بہت خراب چل رہی ہے تاہم ملاقات کے وقت ذکرِ یادِ رفتگاں پر آپ کا جوش اور چہرے کی تمتماہٹ دیدنی تھی۔موصوف کے چاروں فرزندان پولس محکمہ سے وابستہ ہیں اور اعلی عہدوں پر ریاست کے مختلف اضلاع میں برسرِ خدمات بھی۔تاحال آپ کا قیام شانتی نگر منٹھا بائےپاس جالنہ میں ہے۔جس شخص نے شہر جالنہ کا نام پورے ملک میں روشن کیا بدقسمتی سے آج ہمارے شہر کی بڑی تعداد آپ کی خدمات تو درکنار نام سے بھی واقف نہیں ہے۔
اللہ رب العزت محترم موسی سر صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔دنیوی سکون و اخروی راحت و مغفرت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
(نوٹ-----محترم قارئین ظاہر ہے کہ چند سطور میں تمام ہی کار ہائے زندگی کو مقید نہیں کیا جاسکتاہے،مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیاگیاہے۔)
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•
📱8329953822
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں