تازیانۂ ‏عبرت ‏

رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب•••!            
     ✍عامرفہیم راہیؔ☆

تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے۔۔جب وہ کسی قوم کے حالات کو بیان کرتی ہے تو اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں کرتی،وہ عوام کا تذکرہ کرتی ہے,خواص پر تبصرہ کرتی ہے۔علماء کو تنقید کی زد میں لاتی ہے تو جہلاء کو آئینہ دکھاتی ہے۔امراء اور روساء کی عیاشیوں کا تذکرہ کرتی ہے تو حکمرانوں کی نااہلی کا تازیانہ پیش کرتی ہے۔۔وہ کوتاہیوں پر گرفت کرتی ہے تو خوبیوں کو بھی عیاں کرتی ہے۔اس میں عبرت بھی ہے،نصیحت بھی،ہدایت بھی ہے اور موعظت بھی۔۔۔تاریخ بہترین واعظ ہے جو بغیر چیخ و پکار اپنے اندر صدیوں کی یادداشتیں سمیٹیں قوموں کو وعظ و نصیحت کرتی ہے۔۔۔تاریخ غیرجانبدار ہوتی ہے۔۔جو قوموں کے ماضی کو بےلاگ و لپیٹ عرض کرتی ہے۔۔۔تاریخ سفاک ہوتی ہے،جو کسی پر رحم نہی کرتی۔جو قوم اپنے تاریخی اثاثہ کی نگہداشت کرتی ہے اور اسکو ذہن میں رکھکر اپنے حال کو مستقبل کی تابناکی کا ذریعہ بناتی ہے تو تاریخ ہی اس بات کی گواہ ہیکہ وہ قوم قیادت،سیادت اور امامت کےمنصب پرفائزہوتی ہے۔۔۔ دنیا انقلابات کی آماجگاہ ہے۔تغیر یہاں کا اصول اصلی ہے۔۔جو قوم وقت رہتے اپنے قومی تشخص اور تہذیبی ورثہ کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ بنائے اور خامیوں غلطیوں کوتاہیوں اور لغزشوں کی اصلاح کا سامان کرلے ماضی کی کربناک یادوں کا رونا نہ روئے اور ماضی کی فتوحات اور عظیم کارناموں کو محض زبان و بیان کی حدتک نہ رکھتے ہوئے کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہے وہی قوم زندہ و تابندہ کہلاتی ہے۔۔۔موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ کا رویہ تاریخ کے حوالہ سے جو مشاہدہ میں آرہا ہے وہ انتہائی کربناک و خیانت آمیز ہے۔۔۔ہم نے تاریخ کو فخرواستکبار کی حدتک محدود کررکھا ہے۔۔۔ہمارے دلنشین واعظوں اور دلفریب خطیبوں نے امت کو بھلاوے کا افیون دے کر گہری نیند سلارکھا ہیں۔۔۔بحیثیت مجوعی ملت اسلامیہ خودساختہ سخنوروں کی چکنی چوپڑی باتوں میں آکر بےوجہ بھرم خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکارہوچکی ہے۔۔۔ٹی وی سیریلوں کے ذریعہ تاریخ کو سمجھنا داستان عشق و تلوار کے ذریعہ دادِعشرت لٹاکر ذوق کی تسکین کرنا۔۔۔جو قوم تاریخ کیساتھ اس قدر بےرحمی کا سلوک روا رکھیں کہ اسے صرف اور صرف قصہ کہانیوں اور عشق و شمشیر کی داستانوں کی حدتک محدود کردیں۔۔۔جوعظیم قربانیوں کو محض داستاں گوئی کا وطیرہ بنالیں۔۔جس کے پاس حال میں کوئی لائحہ عمل نہ ہو جو مستقبل سے بے اعتناء ہوجائے۔۔جس کو  ایسے آفاقی دین کا حامل بنایا گیا ہو جو نظامِ زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل رہنمائی کرتا ہے۔۔جوزندگی گذارنے کے رہنما اصول اپنے اندر رکھتا ہوجوناصرف دنیا کی کامیابی اور کامرانی بلکہ آخرت کی دائمی و ابدی سرخ روئی کا سرمدی مژدۂ جانفزاں اپنے پاس رکھتا ہو۔۔۔جو عائلی نظام زندگی سے لیکر حکومتوں کے ایوانوں تک رہنمائی کا دستور اور ضابطہ دیتاہو۔۔۔ اسے وہ محض رسوم و رواج کا پابند بنالیں روایات اور خرافات کا دین بنالیں اور اسے یکسر دین کے وسیع تصور سے نکالکر محض چند مراسم عبودیت ہی کو مکمل دین کانام دیدیں،جو خودساختہ روایات کا پابند ایک دھرم کی شکل حاصل ہوجائیں۔۔۔جس کا عائلی،معاشرتی،معاشی و اقتصادی،تعلیمی و تہذیبی،سیاسی و تمدنی نظام،طاغوتی نظام ہائے زندگی کا دست نگر بن جائیں۔۔جو دینے کے لئے آئے تھے وہ اوروں سے بھیک لینے والے بن جائیں۔۔۔جس میں خوف اور مایوسی کی نفسیاتی کیفیت آئے دن گذرے ہوئے دن سے دگنی ہوتی چلی جائیں،جسکی جملہ قیادت نااہل ناخلف اور غیرسنجیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائیں۔۔جو دین اور دنیا میں حدفاصل طئے کرلیں جو حفظ مراتب کے نام پر وی آئی پی کلچر کی عادی ہوجائیں۔۔جس کا مستقبل سڑکوں پر بھیک مانگتا نظر آئے جس کی بیٹیاں شکم جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر اپنے جسم کا سودا کرنے لگ جائیں،جہاں تعلیم کا حصول ناگزیر ہوجائے۔جہاں مذہبی جھرمٹ اپنے تشخص کی بقاء کے خاطر منبرومحراب کے تقدس کو پائمال کرتا نظر آئیں۔جہاں جبہ و دستاد عوام میں ہیبت و مرعوبیت کے لئے مستعمل ہوجائیں۔۔۔جہاں دین کی آڑ میں دنیا بٹورنا اک فن بن جائے۔۔جہاں امیراور غریب میں ایک خط استواء حائل ہوجائے۔۔جہاں سیاست کو معیوب اور معتوب سمجھا جائے۔۔جہاں دوکوڑی کے سڑک چھاپ غنڈے سیاسی قیادت کو سنبھال لیں۔۔جہاں سیاسی شعور کلیۃ صلب ہوجائے۔۔۔جس کے نوجوان عیش وعشرت کے دلدادہ ہوجائے۔۔جہاں جدید علوم،سائنس اور ٹیکنالوجی سے بے نیاز عصرجدیدکے تقاضوں سے بے پرواہ نوجوان راتیں موبائیل اور دیگر خرافات میں گذاردیں۔جس کی نوخیز نسل دین سے ناآشنا ہو۔۔۔جس کی مسجدیں مخصوص ایام کے علاوہ ویران نظر آئے۔۔۔جہاں لوگ اپنے مفاد کی خاطر زندگی گذارنے لگ جائے۔۔۔جہاں نافرمانی،معصیت،فسق و فجور بغاوت و ہٹ دھرمی کی شکل اختیار کرلیں،جو اللہ و رسول کے مقابلہ میں جری بن جائیں۔۔۔جہاں علماء سو عوام پر ذہنی فکری اور بدعقیدہ نفسیات کو پروان چڑھانے میں کامیاب ہوتے نظر آئیں۔۔۔جہاں علماء حق کی توہین وتحقیرخود ساختہ روشن خیال دانشوروں کا محبوب مشغلہ بن جائیں۔۔۔جہاں سمعنا و عصینا کا رواج عام ہوجائیں۔۔۔جس کی مسجدیں نوحہ کناں،مرثیہ خواں،اورنالاں و گریہ ہو۔جہاں دین صرف دھرم کی شکل اختیار کرلے۔۔۔جہاں اختلاف انتشار،افتراق،اور مسلکی عصبیت اوج ثریا تک پہنچ جائیں۔جہاں فحاشی،عریانیت بے پردگی معاشرتی زندگی کا کلچر بن جائے۔۔۔اس قوم کو زندہ قوم کہلانے کا کوئی حق نہی پہنچتا۔۔
بڑی معذرت کیساتھ۔۔۔
جو قوم خدائی قوانین میں معنوی تحریف کی مرتکب ہو۔جو اپنی نفسیات اور خواہشات کیمطابق دین کو اختیار کرے۔۔اللہ کا قانون ہے ویستبدل  قوماغیرکم۔۔۔
ہم روایات کے پابند ہوچکے ہیں۔ہم نے دین کواس انداز میں سمجھا ہی نہیں جیسا کہ اسکا حق ہے۔۔رمضان کا مقدس مہینہ گذرے مشکل سے دو دن ہوئے۔۔۔ہمارا طرزعمل بالکل معاندوباغی نظر آتا ہے۔۔کیا رمضان رسم و رواج کا نام ہے۔۔۔؟؟۔بھوکے پیاسے رہنے اور قیام لیل کے نام پر تراویح میں رسما" اٹھ بیٹھ کرنیکا نام ہے؟؟؟ ہم دیگر قوموں کی طرح ہمارے تربیتی نظام کو ایک event سمجھ کر celebret کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔۔۔حقیقت یہ ہیکہ ہم باغی ہوچکے ہیں،عملا باغی،اللہ اوراس کے رسول کے باغی۔۔۔اور جرم بغاوت کا خدائی اصول یہ ہیکہ ذلت،مسکنت،پسماندگی،نکبت،ڈر اور خوف مسلط کردیا جاتا ہےاوروں کے لئے تازیانہ عبرت بنادیاجاتاہے۔۔اور جو قوم وقت رہتے اپنی لغزشوں کا ازالہ،غلطیوں کی اصلاح،اور گناہوں کا کفارہ رجوع الی اللہ تعلق مع اللہ کی شکل میں ادا نہ کریں تو 
تاریخ ہی اس بات کی گواہ ہیکہ اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔۔
 خدا  نے  آج  تک  اس  قوم  کی حالت نہیں بدلی
 نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا!
ان اللہ لا یغیر مابقوم حتی یغیر مابانفسھم٭○

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب