قسط۲۱ مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندویؔ
﴿جـــالـــنــہ شہر خصوصی پیشکش﴾
تعارفی سیریز شخصی خاکہ قسط۲۱
☆روشــــن چــــــراغ☆
﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾
خصوصی مہمان
مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندویؔ
آپ کا مکمل نام سید نصراللہ بمعروف سہیل ابن سید ثناءاللہ بمعروف ڈاکٹر سرتاج حسینی ہے۔آپ کی پیدائش سن 1965ء کو ضلع جالنہ کے پرتور تعلقہ کے ایک علمی و روحانی دعوتی و تحریکی خانوادے میں ہوئی۔
(آپ کے دادا ڈاکٹر سید عظمت اللہ حسینی طبیبِ حاذق اور حکیم و روحانی معالج(عامل) تھے۔ہر سماج میں ان کی یکساں مقبولیت و مرعوبیت تھی۔ڈاکٹر صاحب کےفرزنداکبر ثناءاللہ حسینی(ڈاکٹر سرتاج صاحب) پر آپ کی شخصیت کے گہرے نقوش مرتب ہوئے۔ڈاکٹر سرتاج صاحب نے اپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ کے مقدس مشن کو آگے بڑھانےکے لئے صرف کردی.موصوف کی حقیقی عظمت اور ان کے کارناموں کی واقعی اہمیت کو سمجھنے کے لئے مولانا محمد عمرپالنپوری صاحب کا یہ جملہ کافی ہیکہ "ڈاکٹر سرتاج فنافی التبلیغ ہے۔۔۔" جس کو وہ بار بار دہراتے تھے۔موصوف نے دعوت و تبلیغ کی محنت کے لئے ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا خصوصا مراہٹواڑہ میں دین کی محنت کے لئے علاقۂ مراہٹواڑہ کی معروف دعوتی شخصیت مرحوم سعید خان صاحب کیساتھ ملکر غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔۔)
مولانا موصوف کے بقول۔۔۔
آپ کی ابتدائی تعلیم پرتور کے مدرسہ تحتانیہ میں ہوئی۔سن ۷۲ء میں اعلی تعلیم کی چاہت میں علاقۂ مراہٹواڑہ کی معروف درسگاہ جامعہ کاشف العلوم اورنگ آباد تشریف لے گئے۔وہاں سے سن ۸۰ء میں عالم اسلام کی مایہ ناز دانشگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤں روانہ ہوئے۔ندوۃ العلماء میں وقت کے اساطینِ علم و معرفت سے خوب علمی فکری و روحانی فیض حاصل کیا اس وقت مفکراسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ ندوۃ العماء کے ناظمِ اعلی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر نشین تھے وہ زمانہ ندوہ کی تاریخ کا سنہرا دور کہلاتا ہے زمانۂ طالبِ علمی ہی سےاپنی طبیعت میں انفرادیت,محنت لگن اور جستجوں کے نتیجہ میں آپ کا شمار ندوہ کے لائق طلبہ میں ہونے لگا۔۔آپ نے ماہرین فن جید علماء سے کسبِ فیض کیا آپ کو مفکراسلام مولانا علی میاں ندویؒ سمیت مرشدالامت مولانا رابع حسنی ندوی،ڈاکٹر سعیدالرحمن اعظمی،مولانا واضح رشیدندویؒ جیسے بےشمار عالمی شخصیات کے رؤبروں زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف اور خصوصی نظر عنایت حاصل کرنے کا موقع ملا۔
سن ۸۴ء میں عالمیت کی تکمیل کی اور فضیلت میں تخصص فی الحدیث کی سند حاصل کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد والد محترم کی ایماء پر ایک سال جماعتِ تبلیغ میں وقت لگایا۔عربی میں مہارت کی برکت سے نظام الدین مرکز کے ذمہ داران کی تعمیل میں عرب جماعتوں کے ساتھ بطور ترجمان ملک کے مختلف مقامات پر دعوتی دورے کئے۔اس وقت جماعت تبلیغ کے امیر حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحبؒ،لسان التبلیغ مولانا عمر پالنپوریؒ،اور دیگر اکابرین تبلیغ کی خصوصی صحبت میں رہنے اور اخلاقی و روحانی استفادہ کرنےکاموقع ملا۔سن۸۶ء کی ابتداء میں والد مرحوم،مولانا ریاض الدین فاروقی ندوی اورمرحوم عبدالقادر صاحب(سابق امیر جماعت تبلیغ جالنہ) کے مشورے اور ایماء پر جالنہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔
اس وقت شہر میں دعوتی و تعلیمی سرگرمیاں درمیانی مرحلہ میں تھی۔ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب اور آپ کے دین پسند رفقاء کی جانب سے قائم کردہ ادارہ مدرسہ فیض العلوم بالکل ابتدائی مراحل میں تھا وکیل صاحب کی خواہش اور مولاناریاض صاحب کی ایماء پر موصوف مدرسہ فیض العلوم کی تحریک سے وابستہ ہوگئے۔مدرسہ میں تدریسی و انتظامی ذمہ داریوں پر فائز ہوتے ہوئے آپ نے اپنی خصوصی توجہ،لگن اور تڑپ کے نتیجہ میں مدرسہ کو غیرمعمولی مقام تک پہنچادیا۔مکتب کی شکل میں چلنے والے ادارے کو اقامتی درسگاہ کی شکل میں تبدیل کرنے اوردارالعلوم ندوۃ العلماء سے فیض العلوم کا تعلیمی و فکری الحاق کرانے میں موصوف کا اہم کردار رہا۔شہرمیں بے دینی کا ماحول عام تھا خصوصا مسلم معاشرے میں درآئیں ہندؤانہ تہذیب کے اثرات بدعات و خرافات فضول رسوم و رواج کی جکڑ بندیاں اور آپسی اختلافات و تنازعات عروج پر تھے۔
مولانا کے مطابق۔۔۔
جالنہ کے ابتدائی سالوں میں مولانا عبد القیومؒ قادری ، مولانا غفران احمدصدیقی اور مولانا بشیر احمدراہی صاحب کی دینی تعلیمی صحبتیں اور قیمتی رہنمائیاں رہیں، اور جالنہ میں 1992 میں سب سے پہلے جالنہ کے اہل علم ودین پسند احباب کے ساتھ ملکر امارت شرعیہ اور دارالقضاءکا قیام کپڑا بازار مسجد میں عمل میں لایا گیا، جس کے بنیادی ارکان میں مولانا غفران صدیقی، اور مولانا کوثر قادری اور ایڈوکیٹ عبدالمجيد وغیرہ حضرات شامل تھے، ایڈوکیٹ عبدالمجید صاحب کا مزاج چونکہ خالص دینی و تحریکی ہے لہذا موصوف کی معیت و ماتحتی میں خوب سیکھنے اور تحریکی فکر پروان چڑھانے کا موقع ملا۔
جماعتِ اسلامی اور جماعتِ تبلیغ کی معاشرے میں پھیلی ہوئی بے دینی اور بداعتقادی کے سدباب کے لئے کوششیں جاری تھی مدرسۂ فیض العلوم اور جماعت اسلامی کا قائم کردہ مدینۃ العلوم ہی منفرد ادارے تھے جو ضلع جالنہ کی دینی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری ادا کررہے تھے۔
*مولانا موصوف کے بقول۔۔۔* سن ۹۳ء میں ندوۃ العلماء سے ذہنی و فکری قربت و تعلق کی وجہ سے آپ کو ندوہ میں بطور مدرس مدعو کیا گیا لیکن مقام کے حالات اور ذمہ دار اکابرین کی رائے کے احترام میں موصوف نے معذرت چاہ لی،
مولانا موصوف کے مطابق۔۔۔
حالات میں تغیر واقع ہوا اور آپ انتہائی نامساعد حالات،سخت ترین مشکلات اور ناخوشگوار واقعات میں الجھ گئے اسے تقدیری امر کہئے کہ اس دوران انتہائی ناقابل بیان دشنام طرازیوں کا سامنا کرنا پڑا،تلخ و ترش الزامات کا سلسلہ چل پڑا دریدہ دہنی اور ہرزہ سرائی کا سامنا کرنا پڑا۔بالآخر برداشتہ خاطر ہوکر ذمہ داران کی ایماء پر مدرسہ فیض العلوم سے علیحدگی اختیار کرلی۔"
دارالعلوم ندوۃ العلماء سے تعلیمی و فکری الحاق کے طفیل ۲۰۰۱ء میں مدرسہ دار العلوم زکریا کی بنیاد رکھی۔تاحال موصوف دار العلوم زکریا کے روحِ رواں ہے۔۔۔
موصوف نے اپنی عملی زندگی کا آغاز انتہائی تنگدستی اور فرسودہ حالی کیساتھ کیا۔وقت کیساتھ حالات میں تبدیلی واقع ہوئی اور غیبی مدد کیساتھ اسباب کی فراہمی اور وسائل کے غیرمعمولی دستیابی کے نتیجہ میں آسودگی اور فراوانی میسر آئی۔
خطیب العصر حضرت مولانا سیدسلمان حسینی ندوی صاحب سے آپ کا والہانہ خصوصی تعلق رہا حضرت مولانا کی قائم کردہ تنظیم جمیعۃ الشباب کے آپ جالنہ ضلع صدر منتخب ہوئے جمیعۃ ہی کے پلیٹ فارم سے موصوف نے پورے ضلع بھر میں عصری تعلیم سے وابستہ طلبہ و طالبات کی دینی و اخلاقی ذہنی و فکری نظریاتی و اعتقادی ہمہ پہلو تربیت کے لئے سیرت النبیؐ،قرآنی معلومات،خلفائےراشدین،اسلامی عقائد وغیرہ بنیادی و سہل تربیتی عناوین کے تحت اردو ہندی انگریزی اور مرہٹی زبانوں میں بڑے پیمانے پر کوئز مقابلوں کا انعقاد کیا جس میں ضلع بھر سے ہزاروں مسلم و غیرمسلم طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔جس سے مسلم طلبہ کی دینی و فکری تربیت کی ضرورت پوری ہوئی وہیں غیرمسلم طبقہ کی تعلیم یافتہ بڑی تعداد اسلامی تعلیمات سے آشنا ہوتی نظر آئی۔کوئزمقابلہ جات کے غیرمعمولی اثرات نا صرف ضلع جالنہ پر مرتب ہوئے بلکہ پورے علاقۂ مراہٹواڑہ میں اسکی افادیت قبول کی گئی اور دیگر اضلاع میں بھی اس سے ترغیب پاکر مقابلے منعقد کئے گئے۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
ملک کی قدیم، سیکولر اقدار کی پاسدار، قومی یکجہتی کی علمبردار،جمہوریت و دستور کی محافظ،ملی و قومی مسائل پر آواز اٹھانے والی تنظیم جمیعۃ العلماء ہند(ارشدمدنی)کے آپ عرصۂ دراز تک ضلع صدر رہے۔بعدۂ گذشتہ دومیقات سے موصوف جمیعۃ العلماء مراہٹواڑہ کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے میں سرگرم عمل ہے۔موصوف جالنہ شہر میں آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے بھی ذمہ دار رہ چکے ہے۔
امارتِ شرعیہ جالنہ کے آپ تاسیسی رکن اور نقیب ہے۔جہاں مسلمانوں کے عائلی و معاشرتی مسائل اور آپسی اختلافات و تنازعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مصالحت کرانے کا کلیدی کام موصوف انجام دیتے چلے آرہے ہے۔جس کے تحت دیگر ملی و مذہبی امور جیسے رؤیتِ ہلال نمازِاستسقاء اور ملی مسائل پر زمامِ اقتدار سے نمائندگی کے کام بھی عمائدین و دانشوران شہر کے تعاون سے انجام دیئے جاتے ہیں۔
(مزاج و تربیت میں وسعت اور ندوۃ العلماء سے فکری و روحانی تعلق کی بناء پر موصوف شہر میں وسیع النظر عالمِ دین کی حیثیت سے متعارف ہے۔مسلکی عصبیت فرقہ وارانہ منافرت جماعتی بغض و عناد سے موصوف کوسؤ دور ہے یہی وجہ ہیکہ آپ کی مقبولیت شہر عزیز کے ہرحلقہ میں یکساں ہے۔مسلکی،جماعتی فکری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی اتحاد و اتفاق کے لئے مولانا موصوف جالنہ شہر میں دہائیوں سے محنت کرتے آرہے ہے۔آپ نے ہر لحظہ اپنے فکری و نظریاتی اختلافات کو ملی اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مقدم نہیں ہونے دیا۔یہ آپ کی وسعتِ فکر اور بلوغتِ نظر کی بیِّن دلیل ہے۔۔۔)
اللہ رب العزت مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندوی صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔انکی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔آمین یا رب العالمین.
✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•
8329953822📱
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں