اب ‏یکساں ‏سول ‏کوڈ ‏کی ‏باری ‏ہے۔۔✍محمدہاشم ‏خان،بمبئی

 اب یکساں سول کوڈ کی باری ہے۔۔!

✍محمد ہاشم خان
دفعہ 370 کی تنسیخ اور رام مندر کی تعمیر کے بعد اب یکساں سول کوڈ کی تنفیذ کی باری ہے۔ جن سنگھ اپنے تین کلیدی اہداف میں سے دو کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور ذرائع کے مطابق 2021 کے اختتام تک یکساں سول کوڈ کو نافذ کر دیا جائے گا۔ ہر چند کہ لا کمیشن اپنی ۲۰۱۸ کی رپورٹ میں یہ کہہ چکا ہے کہ فی الحال یہ مطلوب نہیں ہے تاہم کمیشن کی رپورٹ فریب میں مبتلا رکھنے کی ایک سازش کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ یکساں سول کوڈ کے حوالے سے ملک کی دوسری سب سے بڑی اور بے کار اکثریت کا رد عمل کیا ہو گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کی پالیسی یا حکمت عملی کیا ہو گی۔ رد عمل وہی ہو گا جو زمانے سے چلا آ رہا ہے، جاہلانہ اور جذباتی۔ اور حکمت عملی؟ حکمت عملی بھی وہی ہوگی جس پر زمانے سے یہ چلتے آرہے ہیں۔ یعنی کہ کوئی حکمت عملی نہیں ہوگی۔ 80  کروڑ ہندوؤں کے ہندو ملک میں جب پوری فضا ہندووانہ ہوجائے، حکومت اور متعلقہ ادارے اپنا سیکولر پیرہن اتار پھینکیں، جے سیا رام، جے سیا رام کی مالا جپنے لگیں، اور آپ کچھ سوچے سمجھے بغیر یہ کہنا شروع کر دیں کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا اسے ہم صدق دل سے قبول کریں گے تو اس طرح کی مستقبل ناشناس بصیرت کا وہی حشر ہوتا ہے جو ہوا ہے۔ جب آپ نے سپریم کورٹ کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ خواہ کتنا ہی ’چوتیانہ‘ فیصلہ کیوں نہ کرے آپ اس پر ہر حال میں آمنا و صدقنا ہی کہیں گے اور جب سپریم کورٹ کو یہ یقین ہوگیا کہ مسلمان ہمارے فیصلے کا احترام کریں گے تو اس نے ہندو آستھا کا رکشک ہونے کا اپنا کردار ادا کر دیا۔ مسلمانوں کو غیر مشروط وفاداری کا یقین دلانے سے قبل ہی سوچنا چاہئے تھا کہ ترکش کو تیر سے خالی نہیں رکھتے۔ آج بھگوا پردھان منتری نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ہے اور کل سے کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان ذرائع ابلاغ میں گھوم رہا ہے ’ بابری مسجد، مسجد تھی اور ہمیشہ مسجد رہے گی۔ غاصبانہ قبضہ سے حقیقت ختم نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ ضرور دیا ہے مگر حقیقت کو شرمسار کیا ہے۔‘ اگر آپ شدید گرمی میں رضائی اوڑھتے ہیں یا شدید برف باری میں ننگ دھڑنگ گھوم رہے ہیں تو آپ کو فاترالعقل کہنے میں کوئی چیز مانع نہیں۔ وقت گذر جانے کے بعد اس طرح کا بدترین قسم کا احمقانہ اور بے موسم بیان صرف مسلم  پرسنل لا بورڈ ہی دے سکتا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کو یہ بیان اسی وقت دینا چاہئے تھا کہ اگر چہ ہم آپ کا فیصلہ تسلیم کر رہے ہیں لیکن ساتھ میں ہم یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ اس سے بڑا چوتیانہ فیصلہ تاریخ انسانی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس وقت تو بورڈ خاموشی کا لالی پاپ چوستا رہا اور آج مرد مجاہد بنا گھوم رہا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا یہ ’مرد بیمار‘ ادارہ دیکھتے ہیں اب یکساں سول کوڈ کے بارے میں کیا گل کھلاتا ہے۔ اللہ مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب