قسط17 ماہر تعلیم و نفسیات ایڈوکیٹ کاغذی محمد اشفاق سحر صاحب
جالنہ شہر خصوصی پیشکش
مستقل تعارفی سیریز قسط نمبر 17
*روشن چراغ*
(میرا شہر،میرےلوگ)
معزز قارئین..!
علم انسان کا گوہر ہے۔۔علم تاریکیوں میں روشن مینار ہے جو گھٹا توپ اندھیروں میں بھٹکتی آدمیت کو منزل کا پتہ دیتا ہے۔علم انسان کو انسانیت کی معراج عطا کرتا ہے۔علم ہی کی روشنی سے انسان خودنِگر و خدا شناسی کے معیار مطلوب تک رسائی حاصل کرتا ہے۔علم بصیرت و بینائی کا استعارہ ہے علم سے بے بہرہ شخص بےبصیرت اور نابینا ہوتا ہے جو کائنات کی بے شمار حقیقتوں کو سرکی آنکھوں کے کھلا ہونے کے باوجود نہ دیکھ سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔ دین اسلام میں طلب علم کی غیرمعمولی تاکید کی گئی ہے ۔پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی گور تک۔علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔مادہ پرستی کے اس دور میں تعلیم پر جوشبخون مارا گیا اور جس طرح مادی منفعت کی خاطر تعلیمی اداروں کا استحصال کیا جارہاں ہے اس سے کوئی ناواقف نہیں ہے۔تعلیمی حلقہ بندیوں کے ذریعہ علم کے وسیع تر مفہوم کو محدود کرکے طلباء کے دائرۂ ارتقاء کو محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ایسے حالات میں جب کہ ہم یہ کہتے اور سنتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی حیرت و استعجاب کی انتہا نہیں رہتی جب ہم کوئی مثال اپنے معاشرے میں دیکھتے آیا کہ اس دور انحطاط میں ایسی مثالیں نادرالوقوع ہوچکی ہے تاہم آج ہم آپ کو ایک ایسی شخصیت کے روبرؤ کرانا چاہتے ہیں جن کی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے لوگ انہیں جانتے لیکن ان کی طلبِ علمی کتاب دوستی تعلیمی شغل سے اکثریت نابلد و ناواقف ہیں۔کاغذ و قلم سے جن کا موروثی رشتہ رہا،تدریسی ثقافتی ادبی معاشی سماجی اور سیاسی مصروفیات کے باوجود موصوف طلبِ علمی کے شغل سے غافل نہیں ہوئے عمر کے ستّرویں برس میں بھی آپ کا تعلیمی سفر باہتمام جاری ہے۔نوجوان نسل خصوصاً طلبا ء برادری کے لئے موصوف یقیناً روشن چراغ ہے۔
ہمارے آج کے خصوصی مہمان معروف علمی و ادبی شخصیت استاذ الاساتذہ جناب
*ایڈوکیٹ کاغذی محمد اشفاق (سحر)صاحب*
آپ کا مکمل نام کاغذی محمد اشفاق ولد حکیم محمدعبدالرزاق صاحب(مرحوم) ہے۔آپ کی پیدائش ضلع بیڑ کے معروف علمی و ادبی خانوادے میں یکم جولائی سن1950ء کو کاغذی دروازہ ضلع بیڑ میں ہوئی۔آباء و اجداد کا پیشہ کاغذ کی گھریلوں صنعت تھا لہذا اسی نسبت سے محلہ کاغذی دروازہ موسوم ہوا۔آج بھی قدیم مکانوں میں دستی کاغذ بنانے کے آثار پائے جاتے ہیں۔قدیم مکانوں میں کانکریٹ کے حوض مدفون ہیں جن میں کاغذ کی لگدی تیار کی جاتی تھی اسے گردش زمانہ کا ستم ہی سمجھئے کہ اب یہ گھریلوں دستی صنعت معدوم ہوچکی ہے لیکن آثار اب بھی باقی ہیں جو عظمت رفتہ کی یاد تازہ کراتے ہیں۔
خاندان کے بیشتر حضرات ریاست حیدرآباد کی نظام شاہی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔خود والد بزرگوار حیدرآباد اسٹیٹ میں سارجنٹ کے عہدے پر فائز رہے۔والدمرحوم علاقہ میں معروف حکیم اور طبیب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
موصوف کی ابتدائی تا گریجویٹ تک تعلیم آبائی وطن بیڑ ہی میں ہوئی۔تاہم دوران ملازمت تعلیم کے مدارج طئے کرتے رہیں۔6جولائی سن 1972ء کو ملازمت کے سلسلہ میں جالنہ آئے۔آپ کا تقرر ضلع جالنہ کی قدیم عصری درسگاہ اردو ہائی اسکول قدیم جالنہ میں بحیثیت سکینڈری ٹیچر ہوا۔دوران ملازمت مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن اورنگ آباد سے بی ۔ایڈ فرسٹ کلاس درجہ میں کامیاب کیا۔سن 1975ء-76 میں گورنمنٹ کی منظوری سے باقاعدہ اردوجونئیر کالج کا آغاز ہوا جس میں بحیثیت لیکچرار تقرر عمل میں آیا۔تدریسی مصروفیات کے باوجود تحصیل علم کا سفر بتدریج جاری رہا۔ایم۔اے انگریزی لٹریچر میں مراہٹواڑہ سطح پر درجۂ دوم سے کامیاب کیا اسی طرح M.A(pub, admn) پورے مراہٹواڑہ میں سوم درجہ سے نمایا کامیابی حاصل کی۔آپ کی تدریسی خدمات کا عرصہ کم و بیش چالیس برس پر مشتمل ہے۔حسنِ خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی موصوف نے قانون کی تعلیم سے دلچسپی کے باعث شوقیہ طور پر ایڈوکیٹ کی ڈگری لی۔LLB درجۂ اول سے پاس کیا۔موصوف کی تعلیمی و تدریسی خدمات کا دائرہ کار کافی وسیع ہے مختصراً چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
✍🏻 پیشۂ تدریس کا آغاز جولائی سن1972ء سے ہوا۔پہلے بحیثیت سیکنڈری ٹیچر خدمات انجام دی۔سن1990ء سے 30/جون 2008 تک اردو جونئیر کالج کے لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دیں۔از اول تا آخر انگریزی اور علم نفسیات آپ کا موضوعِ تدریس رہا۔
✍🏻 1990ء میں اس وقت کے ایجوکیشن آفیسر رام اتھاپے کے اصرار پر ضلع پریشد جالنہ کے تعاون سے دسویں جماعت کے لئے انگریزی ورک بک تیار کی،جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔
✍🏻 سن 1999ء سے 2005ء تک MSCRT پونہ میں مختلف انگریزی ماہرین تعلیم کے ساتھ ملکر اردو میڈیم اول تا ہفتم جماعتوں کے لئے انگریزی رہبر کتابوں کی تدوین کا گرانقدر کام انجام دیا۔
✍🏻 1998ء میں جالنہ ریلوے مشاورتی کمیٹی میں بطور معزز رکن کام کرنے کا موقع ملا۔
✍🏻 کل ہند اساتذہ تنظیم(آل انڈیا اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن) کے مراہٹواڑہ سطح پر عہدۂ صدارت پر فائز رہیں۔
✍🏻 سن 89ء تا 94ء جالنہ ضلع ٹیچرس کریڈٹ سوسائٹی کے نامزد رکن کی حیثیت سے کام کیا۔
✍🏻 ضلع پریشد جالنہ کے متعدد ایجوکیشن افسران کے ساتھ ہائی اسکول اور کالج کے انسپکشن پینل میں کام کیا۔
✍🏻 شہر کی مختلف تعلیمی سماجی و سیاسی ذمہ دار شخصیات کی سرپرستی میں جدید قلمکار سوسائٹی قائم کی،جس کے آپ صدرمؤسس قرار پائیں۔جدید قلمکار سوسائٹی کے تحت علمی و ادبی محفلوں کا انعقاد عمل میں آیا نئے لکھنے والے خصوصاً نثرنگاری میں طبع آزمائی کرنے والے اہل ذوق کے لئے یہ بہترین پلیٹ فارم رہا۔فی الحال اس کی سرگرمیاں معدوم ہیں۔
✍🏻 2003ء میں اورنگ آباد ایس ایس سی/ایچ ایس سی بورڈ کی جانب سے مراٹھواڑہ چیف ماڈریٹر کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔
✍🏻 اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن جالنہ اور آئیڈیل ایجوکیشنل سوسائٹی جالنہ کے آپ صدر رہیں۔اسی طرح انگلش ٹیچرس ایسوسی ایشن جالنہ کے سیکریٹری رہیں۔المعروف ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے ۔جس کے تحت مختلف تعلیمی سماجی اور رفاہی خدمات انجام دی جاتی ہیں۔المعروف سوسائٹی کے زیر اہتمام مسجد عمر فاروق اور مدرسہ عربیہ الحاج سیداحمدمحی الدین مرحوم(غیراقامتی) کی دینی ملی و تعلیمی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
موصوف کی شخصیت شہر جالنہ میں ہمہ رنگ و ہمہ گیر پہلوؤں سے متعارف ہیں۔آپ کی تعلیمی سماجی علمی و ادبی خدمات پر مختلف دینی ملی سماجی سیاسی علمی وادبی تحریکوں نیز سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف اعزاز ایوارڈز اور توصیفی اسناد سے نوازا جاچکا ہے۔موصوف کا ادبی ذوق نہایت اعلی ہے گوکہ شاعری میں دسترس حاصل نہیں کی لیکن قدماء کے اشعار نوکِ زباں پر تھرکتے رہتے ہیں جن کا برملا اظہار دوران گفتگوں کثرت سے ہوتا رہتا ہے۔موقع کی مناسبت سے فی البدیع اشعار کا القاء ہونا خداداد نعمت ہے۔اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود موصوف شعر و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔جس کااندازہ ہر چھوٹی بڑی شعری و ادبی نشست میں آپ کی موجودگی سے ہوتا ہے۔خصوصا نثرنگاری میں آپ کی کوششیں قابل قدر ہیں۔مختلف اخبار و رسائل میں موصوف کی قلمی کاوشیں شائع ہوتی رہی ہیں۔مجلسوں کی نظامت موصوف کا پسندیدہ مشغلہ ہے لہذا فن نظامت(اناؤنسمنٹ) میں مہارت اور پختگی نیز برجستہ و برمحل اشعار کا انتخاب آپ کی پہچان کا حصہ ہے۔مختلف دینی ملی علمی ادبی سماجی و سیاسی چھوٹی بڑی نشستوں میں آپ طویل عرصہ سے شوقیہ فریضۂ نظامت(اناؤنسر) بڑی کامیابی اور خوش اسلوبی سے انجام دیتے آرہے ہیں۔طبیعت میں راسخ دینی وملی حمیت اور جذبۂ حرکت و عمل کے باعث مختلف دینی ملی تحریکوں سے وابستگی رہی۔جس میں خاص طور پر روزاول سے جماعت اسلامی کے کاز سے متفق ہونا جمیعت علماء ہند کی سرگرمیوں میں شامل ہونا اور امارت شرعیہ،ہلال کمیٹی نیز مختلف سماجی و ملی مسائل پر بڑھ چڑھ کر رہنمائی کرنا شامل ہے۔آپ کے طلبہ کے تعداد سینکڑوں پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر ملک و بیرون ملک مختلف کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔آپ نے اپنی اولاد کو بھی اعلی تعلیم اور بہتر تربیت سے آراستہ کیا۔فی الحال آپ سیشن کورٹ اور دارالقضاء میں زیر سماعت عائلی و قانونی مقدمات پر ترجمہ نگاری اور آپسی صلح و صفائی کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔بین السانی تراجم اس وقت کی اہم سرگرمی ہے۔مراٹھی اردو انگریزی کے ترجمے مختلف دفاتر میں استعمال ہورہے ہیں۔آپ کا دینی مطالعہ قابل اطمینان ہے۔بیشتر دینی وعلمی کتب رسائل و جرائد نیز تفاسیر حدیث سیرت اور تاریخ کی کتابوں سے بھرا ہوا آپ کا ذاتی دارالمطالعہ ہے۔موصوف کی شخصیت سازی اور علمی و عملی سرگرمیوں کے رفقاء و مخلص سرپرستوں میں ڈاکٹر محمد بدرالدین صاحب الحاج محمدعبداللہ سر(سابق صدر مدرس)مرحوم عبدالقادرسر،مرحوم سیدمزمل حسین چشتی صاحب سمیت بالخصوص آپ کے اہل خانہ اور والدین وغیرہ حضرات کے نام قابل ذکر ہے۔
*پیغامِ عمل*
علامہ اقبال کا شاہین میرا آئیڈیل ہے،میں ملت اسلامیہ کے ہر نوجوان میں شاہینی صفات اور عقابی روح کو بیدار ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
انسان میں عزم اور حوصلہ ہو۔زندگی میں اور زندگی بھر کچھ اچھا کرنے کی خواہش ہوتو لفظ Retirement کوئی معنی نہیں رکھتا۔سیکھنے اور سکھانے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔جس طرح تعلیم کے بارے میں ایک زرین اصول بتایا گیا ہے۔"From womb to tomb" علم حاصل کرو مہد سے لیکر لحد تک۔۔۔اسی پر میں آج تک عمل پیرا ہوں میری خود اپنی لائبریری ہے جس سے میں بھرپور استفادہ کرتا ہوں۔لہذا آپ بھی اپنی ذاتی لائبریری بنائیے چاہے چند کتابوں پر مشتمل ہو روزانہ کچھ وقت ہی سہی پر اپنی لائبریری میں ضرور وقت لگائیں۔انگریزی مقولہ ہے۔
Come to my library and beguile thy sorrow
میری لائبریری میں آئیے اور غم غلط کیجئے۔
تعلیمی سرگرمیوں میں کبھی غفلت نہ برتیں،اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو دیگر مصروفیات پر مقدم رکھیں اس لئے کہ "تعلیم ہی ا مراض ملت کا علاج ہے۔۔"
آخر میں اپنے اشعار پر داستانِ پارینہ کا انجام کرتا ہوں۔
*ہوگی کچھ تو خوبی میری تمہاری نظر میں*
*میں جانتا ہوں بہتر میں کیا ہوں میرے گھر میں!*
*جلوہ نما ہے قدرت کائنات کی ہر شئے میں*
*پھولوں میں پتیوں میں پتھر میں شجر میں!*
اللہ تعالیٰ محترم ایڈوکیٹ کاغذی محمد اشفاق صاحب کو صحت و عافیت عطا فرمائے۔آپ کا سایۂ عاطفت ہمارے سروں پر دراز کرے۔آپ کی مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے۔آمین
✍🏻ترتیب و پیشکش
عامر فہیم راہی،جالنہ
8329953822
MashaAllah
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ۔۔۔ موصوف کی ادبی و سماجی خدمات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ بہت عمدہ
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ ۔۔۔۔ موصوف کی ادبی و سماجی خدمات کی بہترین عکاسی نہایت عمدہ الفاظ و انداز میں کی گئی ہے۔۔۔
جواب دیںحذف کریں