قسط ‏نمبر18 ‏معروف ‏تاجر ‏سماجی ‏کارکن ‏جناب ‏شیخ ‏سلیم ‏الدین ‏باوا



                 ﴿جالنہ شہر خصوصی پیشکش﴾
              مستقل تعارفی سیریز٭قسط نمبر18
       
                   ☆روشن چراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

    محترم قارئین۔۔! 
         تجارت ایک بہترین ذریعۂ معاش ہے،کامیاب تجارت میں ملازمت کی بنسبت عزت دولت اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کے بیشتر مواقع انسان کے ہاتھ ہوتے ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے تجارت میں بےانتہا خیر و  برکت اور عافیت و راحت رکھی ہے۔دین اسلام میں تجارت کو ناصرف محمود سمجھا گیا ہے بلکہ اس کے پاکیزہ اصول و آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔بروز قیامت ایماندار تاجر کو شہیدوں اور صدیقوں کے برابر اٹھائے جانے کی بشارت سنائی گئی ہے۔ہمارے آج کے خصوصی مہمان کا انتخاب تجارتی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے احباب کے لئے کیا گیا ہے۔مسائل کی کثرت، وسائل کی قلت،مواقعوں کی عدم دستیابی،اسباب کی قلت اور  بےسروسامانی اکثر نوجوان ساتھیوں کے راہ کی رکاوٹ اور احساس کمتری کی وجہ بن جاتی ہے۔ معاشی و تجارتی میدان میں بےپناہ رکاوٹوں کے باوجود عزم و استقلال اور حوصلہ و  قوت برداشت بالآخر انسان کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچادینے میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ہمارے آج کے خصوصی مہمان کی زندگی کے مختلف تجارتی پہلوں، ناگزیر حالات، ناگفتہ بہ واقعات، تلخ و ترش تجربات اور محنت و مشقت کی روداد  ان نوجوانوں کے لئے بطور خاص نمونۂ عمل ہیں جو تجارت کے میدان میں ترقی کرنا چاہتے ہیں لیکن راہ کی رکاوٹیں اور وسائل کی عدم فراہمی کے باعث کچھ کرنے سے عاجز ہے۔
آج کے خصوصی مہمان معروف تاجر و سماجی کارکن
 *عالیجناب الحاج شیخ سلیم الدین صاحب (باوا)*
                  موصوف کا مکمل نام شیخ سلیم الدین ابن شیخ محبوب باوا(مرحوم)ہے۔آپ کی پیدائش 1/نومبر سن1952ء کو باغبان محلہ بازار چوک قدیم جالنہ میں ہوئی۔
خاندانی پس منظر•
موصوف کے بقول؛ والد صاحب کا آبائی وطن جالنہ ہی تھا۔والد مرحوم نے آئی ٹی آئی کورس کیا ہوا تھا جس کے لئے بآسانی نوکری دستیاب ہونے کے باوجود پیشۂ  تجارت کو ترجیحاً  اختیار کیا اور بہت قلیل مدت میں ایک کامیاب تاجر کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔
(والدمرحوم کا تکیہ کلام لفظ "باوا" تھا جو بکثرت ہر چھوٹے بڑے کے لئے استعمال کرتے اسی نسبت سے ان کی پہچان باوا کے لاحقہ سے مشہور ہوگئی تھی جو وراثتاً منتقل ہوکر سلیم باوا کے حصہ میں آئی اور انکی شخصیت کا حصہ بن گئی۔)
اس وقت کرانہ مرچنٹ کی سب سے بڑی دکان انہیں کی سمجھی جاتی تھی۔اینٹ بھٹیوں کا وسیع کاروبار تھا۔ اس کے علاوہ سائیکل ٹیکسی کا بڑا کاروبار جس میں چار سو سے زائد دو پہیہ سائیکل اور تین پہیہ سائیکل  رکشہ شہر بھر کے قدیم و نئے علاقوں میں مسافر و راہگیروں کی سہولت کے لئے مہیا تھے۔کم و بیش اتنی ہی بیل گاڑیاں ریلوے اسٹیشن سے مونڈھا مختلف اشیائے زیست کی نقل و حمل اور مال برداری کے کاموں پر مصروف رہتی تھی۔غرض مال و دولت کی فراوانی اور اسباب کی ریل پیل تھی۔تقدیر کا پہیہ گھوما اور تقسیم ہند کا بدترین سانحہ پیش آیا،ایکشن کی غیر یقینی صورتحال اور ڈکیٹی و لوٹ مار کی وارداتوں نے ساری ملکیت کو سبوتاژ  اور جمع پونجی کو تاراج  کر دیا۔موصوف کے بقول اس وقت والد مرحوم کی ملکیت میں کروڑوں کی املاک اور سینکڑوں ایکڑ اراضی موجود تھی۔بےبسی کے عالم میں جان بچاکر راہ پناہ اختیار کی،ساری ملکیت لوٹنے میں قزاقوں کو تقریبا آٹھ دن لگ گئے۔سارا معاملہ صفر ہوگیا۔اس گہرے صدمے سے نکلنے میں کئی سال لگ گئے۔اس دوران جالنہ سے اورنگ آباد چلے گئے وہاں ایک مخلص دوست کی سفارش پر ایک بیکری میں بطور مزدور کام مل گیا۔طبیعت میں جذب کاروباری سوچ نے انگڑائی لی اور کام سیکھنے کے بعد اپنے آبائی مقام پر واپسی کی وہیں پر جولائی سن 1965ء میں ایک چھوٹی سی بیکری قائم کی۔
احوالِ ہم نفساں۔۔
تنگدستی اور زبوحالی کے دور میں سلیم باوا نے آنکھ کھولی،ابتدائی تعلیم تحتانیہ ملٹی پرپز اسکول قدیم جالنہ میں ہوئی۔معاشی حالات کی سازگاری کے پیش نظر دورطالب علمی ہی میں والد مرحوم کے شانہ بشانہ بیکری میں کام کرنے لگ گئے۔سن1971ء میں اردو ہائی اسکول قدیم جالنہ سے میٹرک پاس کیا چھوٹے بھائی مرحوم ڈاکٹر نعیم الدین صاحب کی تعلیم سے دلچسپی کو دیکھتے ہوئے والد مرحوم کے مشورے پر اپنی تعلیم موقوف کرکے پوری طرح والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں اتر گئے۔چھوٹے بھائی کی خواہش ڈاکٹر بننے کی تھی جس میں والدین کا مکمل ہر طرح کا تعاون شامل رہا لہذا سخت محنت اور جانفشانی کے ساتھ چھوٹے بھائی کے تعلیمی مراحل کی تکمیل میں آپ نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔اس دوران بہت ساری مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔کاروبار میں خاطر خواہ آمدنی نہیں ملنے کے سبب ٹرک ڈرائیورنگ بھی شروع کردی۔ایس ٹی مہامنڈل میں آٹھ مہینے بطور ڈرائیور ملازمت کی۔پیشۂ زراعت سے بھی گہرا تعلق رہا طویل عرصہ تک  پھلوں کے باغات اور غلہ کی  کھیتی کا تجربہ حاصل کیا۔اورنگ آباد میڈیکل کالج سے آپ کے چھوٹے بھائی جناب ڈاکٹر نعیم الدین مرحوم نے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ذاتی تعلیمی شغف کے پیش نظر والد مرحوم کی ایماء پر سن 1983ء میں موصوف نے کملا نہرو فارمیسی کالج اورنگ آباد سے ڈی فارمیسی کیا۔یقیناً بیشتر قارئین کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ جناب سلیم باوا ایک بہترین فارمسشٹ بھی ہے۔
والدہ مرحومہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب رہتی مہلک مرض میں تقریباً 36 برس تک آپ کی والدہ صاحبہ فراش رہیں۔والدہ کی شفایابی کے لیے والد مرحوم نے پورے ملک کا دورہ کیا والد صاحب کی  عدم یکسوئی سے کاروباری سرگرمیوں پر غیرمعمولی اثر پڑنے لگا۔اس دوران سلیم باوا نے پوری شدت و توانائی اور مشقت و جانفشانی سے کاروبار کو استحکام بخشا۔بہرحال دیکھتے ہی دیکھتے حالات سازگار ہوگئے اور بفضل خدا موصوف نے کاروبار میں ترقی کی منزلوں کو عبور کر لیا۔گزشتہ پچپن برس سے موصوف بیکری کے کاروبار کو بحسن و خوبی کامیابی کیساتھ چلارہے ہیں آج  بلامبالغہ موصوف کی ملکیت کروڑوں میں ہے۔مراہٹواڑہ بیکری شوروم کی مختلف شاخیں شہر بھر میں صارفین کی خدمت میں مصروف ہیں۔اس میں یقینا سلیم باوا کی جان توڑ مشقت سلیم الفطرت طبیعت اور سچی جانشینی کا اثر غالب ہے۔کاروباری مصروفیات کے علاوہ موصوف دینی  ملی اور سماجی و تعلیمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔جمیت علماء جالنہ کے آپ باقاعدہ رکن،جماعت اسلامی جالنہ کے وابستہ کارکن اور جماعت تبلیغ کے فعال ساتھی ہے۔ جماعت تبلیغ میں موصوف کا اچھا خاصا وقت لگا  جس میں قابل ذکر ملک کی بیشتر ریاستوں کے اسفار سمیت بنگلہ دیش میں پانچ مہینے دعوتی و اصلاحی غرض سے قیام شامل ہے۔موصوف ملت کی معاشی و تعلیمی زبوحالی پر فکرمند رہتے ہیں۔قدیم جالنہ کی عظیم عصری درسگاہ علامہ اقبال اردو ہائی اسکول کے آپ تاسیسی رکن ہیں۔

اللہ رب العزت جناب سلیم الدین باوا  کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔دل کی تنگی اور شحّ نفس سے نجات عطا فرمائے۔غلطیوں،کوتاہیوں کو معاف فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔دنیوی سکون و اخروی راحت و مغفرت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین


✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                     📱8329953822

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب