میراشہر،میرےلوگ ‏قسط ‏نمبر/19 ‏جناب ‏محمد اقبال قریشی صاحب ‏


                  ﴿جالنہ شہر خصوصی پیشکش﴾
              مستقل تعارفی سیریز٭قسط نمبر_19
       
                            ☆روشن چراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

    محترم قارئین۔۔! ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہوتا ہے۔بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں خطا و نسیان کا صدور محال نہیں۔البتہ کسی فرد کی ساری زندگی کے بےشمار کارناموں اور قوم و ملت کے حق میں انجام دی گئی مخلصانہ خدمات سے صرفِ نظر  فقط کمی خامی اور نقائص کو  سامنے رکھتے ہوئے  خامیوں پر نکتہ چینی کرنا، غلطیوں کو زبان زد عام کرنا،عیوب کو افشاں کرنا،کردار کے منفی پہلوؤں کو طشت ازبام کرنا اور اس سے متعلق ان فیصلوں کا حق بذات خود حاصل کرلینا جس کا اختیار مالکِ روزِجزا  کے قبضہ قدرت میں ہے سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔تعارفی سیریز کو جاری کرنے کا مقصد ہی یہ ہیکہ سوشل میڈیا پر موجود ملت کے سواداعظم بالخصوص نوجوان طبقہ کو جو منفی تخریبی اور اخلاق سوز مواد بہم فراہم کیا جارہا ہے۔جس سے ناصرف نوجوان نسل کی ذہنی پرداخت پر غیرمعمولی منفی اثرات اور تخریبی نفسیات  تیزی کیساتھ پروان چڑھ رہی ہیں۔وہیں کم ہمتی و احساس کمتری میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔ہمارے اپنے شہر میں موجود مختلف شعبہ جات سے متعلق سرکردہ شخصیات کا تعارفی خاکہ اور سرگرمیوں کا مختصر پر اثر تذکرہ کہیں نا کہیں قارئین کے لئے زندگی میں کچھ کرگزرنے کا جذبہ پیدا کرنے اور متعلقہ شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔
معزز قارئین۔۔!
یقینا ہمارے آج کے خصوصی مہمان جنہوں نے مختلف تعلیمی سماجی سیاسی و تجارتی میدانوں میں بہترین کارکردگی انجام دیں اور اپنی منفرد شناخت سے متعارف ہوئے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور سرگرمیوں کے تذکرے سے نوجوان نسل کو کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملیگا۔۔۔
ہمارے آج کے خصوصی مہمان معروف تعلیمی سماجی اور سیاسی شخصیت جناب 
                     *محمد اقبال قریشی صاحب*

    موصوف کا مکمل نام محمد اقبال ولد حاجی عبد الرزاق قریشی(مرحوم)ہے۔آپ کی پیدائش 15/اپریل سن1951ء کو رانی اونچے گاؤں تعلقہ گھن ساؤنگی ضلع جالنہ میں ہوئی۔
*خاندانی پس منظر۔۔*
         موصوف کے بقول۔۔آباؤ اجداد کا تعلق بیڑ ضلع سے تھا۔ جہاں دادا پردادا کے ریشم اور کپڑوں کے وسیع کاروبار تھے۔قریشی لاحقہ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق کسی قریشی قبیلہ سے نسبتاً وراثت  میں ملا،کثرت استعمال کے سبب بطور شناخت عام ہوگیا۔
کاروباری مناسبت سے دادامرحوم  جالنہ آئے رانی اونچے گاؤں کو کاروباری اعتبار سے مناسب مقام حاصل تھا لہذا وہیں پر مستقل سکونت اختیار کرلی۔والدمرحوم نے کاروبار کو بحسن وخوبی ترقیات کی منزلوں تک پہچایا۔افرادی قوت سے بھرپور بڑا اور وسیع کنبہ ہونے کی وجہ سے متعدد کاروبار جس میں کرانہ مرچنٹ راشن اناج کپڑے اور کچے تیل کی دکانیں جالنہ اور رانی اونچے گاؤں میں تھی۔ٹرانسپورٹ کا کافی بڑا کاروبار رہا۔450/ایکڑ زمین جس میں 300 سے زائد افراد کام کرتے تھے،قابل ذکر ہے۔سیاست موصوف کا خاندانی مشغلہ رہا والد اور چچا تایا پہلے سے سیاست میں زور آزما چکیں تھے۔غرض موصوف کا تعلق وسیع تجارتی زراعتی  و سیاسی خاندان سے ہیں۔
*تعلیمی احوال و خدمات۔۔*
    موصوف کے بقول۔۔ابتدائی تعلیم کا آغاز مراہٹی میڈیم سے آبائی گاؤں میں ہوا۔سن62ء میں جالنہ آگئے۔یہاں ایس بی اسکول کچہری روڈ سے ہفتم اور سی ٹی ایم کے گجراتی اسکول سے سن 69ء میں میٹرک پاس کیا۔ والد مرحوم کے حکم کی تعمیل میں گیارہویں جماعت کے بعد کاروباری پیشہ سے وابستہ ہوگئے۔اردو زبان سے تعلق خاطر اور اپنے علاقے  کی تعلیمی پسماندگی سے متاثر ہوکر 
✍🏻 سن74ء میں ضلع پریشد اردو اسکول کی منظوری حاصل کی،جو درحقیقت موصوف کی تعلیمی میدان میں کوششوں کی سب سے پہلی کامیابی تھی۔
شہر جالنہ میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے کچھ مخلص رفقاء جن میں مرحوم امین الدین سر وغیرہ کا نام قابل ذکر ہیں کیساتھ ملکر سن83ء میں سرسیداحمدخان ایجوکیشنل سوشل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی قائم کیں۔جس کے تحت پسماندہ علاقوں میں تین تعلیمی ادارے 
✍🏻1) سر سید احمد خان اردوپرائمری اسکول گاندھی نگر نیا جالنہ
✍🏻2) مولانا ابوالکلام آزاد اردو پرائمری اسکول منگل بازار نیاجالنہ اور
✍🏻3) غلام نبی غلام رسول اردو پرائمری اسکول قائم کیئے۔
افراد خاندان کو جوڑ کر بھارت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی قائم کیں۔جس کے تحت بھی تین تعلیمی ادارے قائم کیئے۔
✍🏻1) حاجی عبد الرزاق غلام رسول اردو ہائی اسکول گھن ساؤنگی
✍🏻2)  اندرا گاندھی جونیئر کالج رانی اونچے گاؤں
✍🏻3) مدرسہ فیض العلوم غیراقامتی جو دادی مرحومہ کے نام سے بنائی گئی مسجد زمرود کے زیرانصرام چل رہا ہے۔
ان تمام اداروں سے فارغ التحصیل ہزاروں افراد مختلف شعبہ جات میں برسرخدمات ہیں اور جہاں آج بھی قوم و ملت کے سینکڑوں طلبہ حصول علم میں مصروف ہیں۔
موصوف کی تعلیمی خدمات کا دائرہ بےحد وسیع و عریض ہے۔مذکورہ بالا تمام اداروں کے قیام اور استحکام میں موصوف نے بےپناہ قربانیاں دی ہیں۔علاوہ ازیں دیگر تعلیمی تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
 ✍🏻 ریاستی وزیر فوزیہ خان کی تعلیمی تحریک FAME کے آپ سرگرم رکن اور جالنہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر رہیں۔
✍🏻 نیٹ امتحانات کو اردو میں منظوری دلوانے کے لئے موصوف نے بہترین کارکردگی اور عملی کوششیں انجام دیں۔
✍🏻 راشٹرماتا اندرا گاندھی سینئر کالج کے آپ تاسیسی رکن ہیں۔شہر اور ضلع بھر میں چلنے والے متعدد تعلیمی اداروں کے آپ بہی خواں ہیں۔اس کے علاوہ ملت کی تعلیمی و سماجی زبوحالی  کو دور کرنے کیلئے موصوف نے بےشمار کارنامے انجام دیئے۔جن کا تفصیلی تذکرہ ہرچند کہ مختصر خاکہ میں ممکن نہیں ہے۔

*سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا تذکرہ۔۔*
موصوف کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا آغاز زمانہ طالبعلمی ہی سے باقاعدہ ہوچکا تھا۔آپ کا ماننا ہیں کہ جمہوری نظام حکومت میں اپنی سیاسی شناخت کو برقرار رکھنے اور حقوق کو حاصل کرنے کے لئے سیاست میں حصہ لینا بےحد ضروری ہے۔سن71ء میں موصوف مسلمانوں کی "بےحد ہمدرد غمخوار اور نہایت سیکولر پارٹی"  انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہوگئے اور تاحال وفادار سپاہی کی حیثیت سے پارٹی سمیت قوم و ملت کی خدمات میں مصروف ہیں۔موصوف نے دیہی علاقوں گرام پنچایت کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا میدان عمل بنایا۔سن84ء میں موصوف  نے باقاعدہ پہلا الیکشن لڑا جس میں تاریخی جیت حاصل کرتے ہوئے رانی اونچے گاؤں کے سرپنچ بنیں۔ بےپناہ عوامی مقبولیت اور سماجی سیاسی و رفاہی خدمات کی وجہ سے تاحال رانی اونچے گاؤں گرام پنچایت کے مکھیا ہیں۔موصوف  گزشتہ پچاس برس سےدیہی علاقوں میں عوامی مسائل کے حل کے لئے سرگرداں رہیں۔جن میں قابل ذکر خدمات کا مختصر خاکہ درج ذیل ہے۔
✍🏻 دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا قیام
✍🏻 پرائمری ہیلتھ سینٹر(دواخانہ)کا قیام
✍🏻 سرکاری اسکیم کے تحت سو سے زائد مکانات کی تعمیر 
✍🏻 عوامی بنیادی ضروریات اسٹریٹ لائٹس،ڈرینج،سڑکیں اور شدید پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے بیسیوں کلومیٹر سے آب رسانی کا کارنامہ شامل ہیں۔
✍🏻 دیہی علاقوں میں تیزی کیساتھ پھیلنے والی فرقہ وارانہ منافرت عصبیت اور کشیدگی کو دور کرنے کیلئے موصوف نے بہترین کارکردگی انجام دیں۔موصوف قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بڑے علمبردار ہیں۔سماجی و خاندانی تنازعات کو حل کرانے اور صلح صفائی کرانے میں آج بھی اکثریتی فرقوں میں آپ کو غیر معمولی مقام اور مقبولیت و رسوخ حاصل ہیں۔یقینا یہ موصوف کی عوامی پسندیدگی و مقبولیت کی بین دلیل ہے کہ بلالحاظ قوم و مذہب لوگ اپنے مسائل و تنازعات آپ کے ہاتھوں سے حل کرواتے ہیں۔
اس کے علاوہ موصوف
✍🏻  جالنہ سول ہاسپٹل کمیٹی ممبر،
✍🏻 ایس ٹی مہامنڈل جالنہ ضلع کمیٹی ممبر،
✍🏻 مارکٹ کمیٹی گھن ساؤنگی ضلع جالنہ کے ڈائریکٹر،
✍🏻 کانگریس ضلع اقلیتی شعبہ کے صدر اور
✍🏻  کانگریس ضلع کمیٹی جالنہ کے نائب صدر کی حیثیت سے سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔موصوف نے دو مرتبہ پارٹی کی ایماء پر ضلع پریشد رکنیت انتخابات میں حصہ لیا جس میں بہت کم ووٹوں سے شکست سے دو چار ہوئے۔پارٹی کی ہائے کمان اور وزرائے اعلیٰ سے موصوف کے قریبی دیرینہ تعلقات رہیں جن میں عبدالرحمن انتولے،ولاس راؤ دیشمکھ،اشوک چوہان،پرتھوی راج چوہان،ایم ایم شیخ،غلام نبی آزاد شیواجی راؤ پاٹل وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔موصوف کو سیاست میں غیرمعمولی رسوخ حاصل رہا جس میں اپنی مخلصانہ کاوشوں اور سیاسی شعور بصیرت و ذہانت کا اہم کردار ہیں۔سیاسی میدان میں موصوف نے کافی دقتوں کا سامنا کیا قیدوبند کے مراحل بھی طئے کئے۔تاہم ہمارے نزدیک سیاسی  سرگرمیوں سے زیادہ موصوف کی تعلیمی وسماجی خدمات کا تذکرہ اور کاوشوں کا اعتراف اولین ترجیحی بنیادوں پر مقدم ہے۔

اللہ رب العزت جناب اقبال قریشی صاحب  کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھے صحت عافیت عطا فرمائے۔حقوق کی ادائیگی کرنے اور حق تلفیوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔غلطیوں،کوتاہیوں سے درگزر فرمائے،سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔دنیوی سکون و اخروی راحت و مغفرت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین


✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                     📱8329953822

تبصرے

  1. ماشاءاللہ جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا
    موصوف کی تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے
    خوبصورت تحریر، اسلوب بیان ،ندرت اظہار بہت اعلیٰ ومعاری ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشاءاللہ محترم بہت خوب اور صادق لکھا آپ نے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب