قسط ‏نمبر20/میرا ‏شہر،میرےلوگ ‏محترم ‏عبداللہ ‏فاروقی ‏قادری ‏صاحب



                  ﴿جالنہ شہر خصوصی پیشکش﴾
              مستقل تعارفی سیریز٭قسط نمبر_20
       
                              ☆روشن چراغ☆
                   ﴿میرا شہر،میرے لوگ﴾

    محترم قارئین۔۔! معلم معاشرہ کا معمار ہوتا ہے۔پتھروں کو گوہرِ نایاب کی شکل میں ڈھالنے میں جس طرح جوہری کا غیرمعمولی کردار ہوتا ہے اسی طرح معاشرہ کے ہر فرد کی ہمہ پہلو ذہنی فکری علمی و اخلاقی تربیت کا عظیم الشان کارنامہ اک معلم ہی کا مرہون منت ہوتا ہے۔جو فرد جس حال میں جس مقام پر فائز ہے اس کی شخصیت سازی میں اس کے معلم کا غیرمعمولی کردار شامل ہے۔کسی نے خوب کہا کہ معلم خود بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ کو بادشاہ بنانے میں اس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔شغلِ تعلم ایک غیرمعمولی عظیم الشان مقام ومرتبہ ہے جس کی بابرکت نسبت معلم انسانیت کی ذاتِ اقدس سے منسوب ہوتی ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "انمابعثت معلماً؛  میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں"
  قارئین کرام!آج ہم آپ کو ایک ایسی شخصیت سے روبرؤ کروانے جارہے ہیں جو ناصرف بہترین استاذ مثالی معلم اور قابل و مخلص مربی و مزکی ہیں بلکہ جن  کی شخصیت گوناگوں خصوصیات  خاندانی شرافت،نفیس طبیعت،ظرافت طبع،عجزوانکساری،وضعداری، مہذب و متمدن،اسلاف کی علمی فکری روحانی اور اخلاقی وراثتوں کی حقیقی جانشین ہیں۔جو صوفیانہ کردار،مومنانہ فراست اور مجاہدانہ عزم کے پیکر ہیں ہمارے آج کے خصوصی مہمان معروف علمی ادبی و ملی شخصیت استاذ الاساتذہ عالیجناب
 محمد عبداللہ فاروقی قادری صاحب بمعروف عبداللہ سر
(خاندانی پس منظر اور شخصی فروگزاشت بزبان حال)
             دعوۂ غلامی بھی جہاں بے ادبی ہے۔۔
ماضی کے دھندلکوں پہ روشنی کے ان میناروں کی تلاش، جن کی غلامی کا دعوی بھی میرے لئے بےادبی کا باعث ہے۔لیکن ان کے  جو عظیم الشان کارنامے اور ان سے جو پاکیزہ نسبت مجھے منجانب اللہ ورثہ میں ملی ہے اسے دیکھ کر فرط خوش بختی و فرحت آفرینی اور مسرت و انبساط سے جھوم اٹھتا ہوں۔عہدعالمگیری میں دعوت وعزیمت کے پیکر ہمارے پیرومرشد حضرت جان اللہ شاہ و باب اللہ شاہ قادری رحمہ اللہ علیہا بھٹکتی انسانیت کو راستہ دکھانے اور فرسودہ بےجان روحوں میں ایمان و عمل کی شمع روشن کرنے،تصوف و طریقت کے ذریعہ تزکیہ نفس و اصلاح باطن  کی خاطر  شاہِ وقت کی التجا پر پنجاب سے برہانپور اور وہاں سے اورنگ آباد پھر جالنہ  تشریف لائیں۔سفر ہجرت میں حضرت ممدوح کے ہمراہ سینکڑوں خادمین،مریدین،متوسلین اور منتسبین شامل تھے۔جن میں اس عاجز کے جدِاعلی حضرت شاہ عالم قبلہ اور ان کے فرزند ارجمند شاہ فیروز قبلہ بھی شامل تھے۔جن کا شمار حضرت ممدوح کے خصوصی معتمد خدام و خلفاء میں ہوتا تھا۔حضرت ممدوح کی نظرعنایت اور خصوصی التفات سے جن کو تصوف و طریقت میں غیر معمولی مقام حاصل ہوگیا تھا۔ جدامجد فیروز شاہ قبلہ حضرت ممدوح کے امور خط وکتابت کے معتمدامین تھے اور  خود بھی عربی و فارسی کے بہترین شاعر تھے قبلہ مرحوم کے نوادرات قلم ماضی قریب تک بزرگوں نے بحفاظت سنبھال رکھے تھے۔پولس ایکشن کے خوفناک روح فرساں حادثہ میں دو تہائی سے زائد قلمی شہ پاروں کو نذر آتش کردیا گیا۔جو کچھ بچا رہا شومئ قسمت، ہماری کوتاہ خیالی نے ان بیشتر قیمتی اثاثوں سے ہمیں محروم کردیا۔تاہم آج بھی متعدد نادرونایاب خطوط جو حرمین کریمین  بغدادشریف افغانستان لاہور دلی حیدرآباد  سمیت دنیا بھر  سے موصول ہوتے تھے ہمارے یہاں محفوظ ہیں۔قیمتی شہ پارے اور نوادررشحات جن میں قابل ذکر فتاوے، قلمی خطبات اور بیعت و خلافت کی اسنادپیری مریدی کے سلسلے کی تفصیلات  ہماری وراثت میں موجود ہمیں عظمت رفتہ کی پرسوز، دل گداز صدا سے حیات آفرینی کا درس دیتے سنائی پڑتے ہیں۔
بہرکیف۔۔،شاہ فیروز صاحب قبلہ سے تین شاخیں مجاورین و خدامین درگاہ شریف قادرآباد کی قائم ہوئی جو باہم شیروشکر اور ممدومعان ہیں۔ان تمام شاخوں کو پیرومرشد کی دعاؤں اور فضل خداوندی سے ہردور میں غیرمعمولی مقام و مرتبہ حاصل رہا۔خوشحال زندگیاں نصیب ہوئی،عزت و مقبولیت حاصل ہوئی۔تینوں شاخوں میں موجود افراد اور انکی نسلیں دینی و عصری اعتبار سے اعلی تعلیم و اخلاقی محاسن سے آراستہ ہوئی۔ہمارا تعلق مذکورہ شاخ دوئم سے ہیں جن میں ہمارے بزرگ اکابرین ۔۔۔
کی خصوصی تربیت اور راہ تصوف و سلوک میں ریاضت کی برکتیں و عنایتیں شامل ہیں۔
والد گرامی نظام حکومت میں   سرکاری ملازم تھے۔پولس ایکشن کے بعد گھریلوں معاشی صورت حال دگرگوں ہوگئی۔بڑی محنت مشقت اور جاں سوزی سے تعلیمی و تدریسی مراحل طئے کئے۔آج بحمدللہ تعالیٰ دنیا جہان کی نعمتیں پاک پروردگار کے کرم سے حاصل ہیں۔بچے بھی اعلی تعلیم اور دینی و اخلاقی تربیت سے آراستہ گلف میں اعلی عہدوں پر برسر خدمات ہیں۔"
موصوف کی متواضع مہذب شخصیت سے واقفیت کے بعد راحت اندوری مرحوم کے یہ اشعار نوک زبان پر رقص کرتے ہیں؛
یہ الگ بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں 
پھر  بھی جو لوگ بڑے  ہیں وہ بڑے  رہتے  ہیں
ایسے درویشوں سے ملتا ہے ہمارا شجرہ
جن کے جوتوں میں کئی تاج پڑے رہتے ہیں
اور۔۔
ہمارے  سر  کی  پھٹی  ٹوپیوں    پر طنز نہ  کر! 
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

موصوف کا مکمل نام محمد عبداللہ ولد محمدلطیف الدین فاروقی قادری ہے۔آپ کی پیدائش 12/ستمبر سن 1940ء کو قادرآباد جالنہ کے علمی ادبی مذہبی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ فوقانیہ جالنہ اور اورنگ آباد  میں حاصل کی، سن1955ء میں   میٹرک پاس کیا۔مابعد ایگریکلچر کالج پربھنی سے (Bsc.agr) گریجویٹ کیا۔بعدازاں باقاعدہ پیشۂ تدریس سے منسلک ہوگئے۔آپ نے نہرو میموریل اردواسکول اجنٹہ میں تین سال تدریسی خدمات انجام دی۔اس وقت شہر جالنہ میں کچھ عرصہ قبل اردو ہائی اسکول کا قیام عمل میں آچکا تھا۔اسکول میں اساتذہ کی ضرورت کا اشتہار دیکھتے ہوئے موصوف اجنٹہ سے جالنہ واپس آگئے اور اردو ہائی اسکول سے منسلک ہوگئے سن69ء میں باظابطگی کیساتھ بطور معلم آپ کا تقرر عمل میں آیا۔اس وقت شہر جالنہ میں بالخصوص مسلم طبقہ کی تعلیمی سماجی و معاشی صورت حال بہت دگرگوں تھی۔تعلیم سے بےالتفاتی اور نا خواندگی کے سبب طلبہ کی تعداد بہت محدود تھی دیگر مخلص رفقاء ومعاونین کے ساتھ شہر بھر میں  تعلیمی شعور و آگہی کے لئے موصوف نے کافی کوششیں کیں۔سن72ء میں موصوف نے اسکول کی طرف سے مولانا آزاد کالج اورنگ آباد سے بی ایڈ کیا۔اس طرح موصوف اسکول اسٹاف میں سب سے پہلے ٹرینڈ گریجویٹ قرار پائے۔تعلیمی اخلاقی و تربیتی اعتبار سے نہایت مشکل ترین حالات میں موصوف سن77ء میں بطورِ صدرمدرس(پرنسپل)مقرر ہوئے۔ان دشوار کن حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے موصوف نے برملا اپنے احساسات کا اظہار اس شعر میں  کیا~
اندھیری    رات،  طوفانی ہوا،   ٹوٹی ہوئی کشتی
یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر ناخدا ہم ہیں

انتہائی نامساعد حالات میں موصوف نے ادارے کی تعلیمی اخلاقی و تربیتی صورت حال کو بہتر سے بہتر بنانے میں غیریقینی کامیاب کردار ادا کیا۔
اسکول کا  معیار تعلیم بڑھانے کے لئے توسیعی لیکچرس کا خصوصی اہتمام کیا گیا ماہرین تعلیم کو مدعو کیا گیا جناب مبارک کا پڑی اور دیگر سر کردہ شخصیات کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ خصوصی طورپر اردو ہائی اسکول کا رول جالنہ کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں نا قابل فراموش ہے۔آپ کے دور صدارت میں  اردوپرائمری اسکول و جونیئر کالج کا   انعقاد عمل میں  آیا۔
آپ نے اپنے دورملازمت میں بے شمار تلخ و ترش تجربات اور ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ نہایت صبرو استقامت سے کیا۔ہر موضوع(subject) پر موصوف کو غیرمعمولی دسترس حاصل تھی شاید اسی کا نتیجہ رہا کہ پیشۂ تدریس میں موصوف کو مہارت تامہ حاصل ہوئی۔دوران ملازمت موصوف نے بیشتر قابل طلبہ و اساتذہ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے ناصرف آمادہ کیا بلکہ ہرممکن تعاون سے اپنے متعلقین کی حوصلہ افزائی فرمائی۔موصوف درگاہ شریف قادرآباد کے مجاور و متولی ہیں آپ نے اپنے مشفق و مربی تایہ جان نورالحسن فاروقی قبلہ کے وصال کے بعد درگاہ کمیٹی و چوک مسجد قادرآباد کے امور کو سنبھالا،عرصہ تک چوک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیئے۔
سن98ء میں حسن خدمات سے سبکدوش ہوئے۔متعدد دینی ملی علمی و ادبی سرگرمیوں میں گرمجوشی سے حصہ لیتے رہے۔تیس سالہ دور ملازمت میں موصوف نے بےشمار طلبہ کی ہمہ پہلو تعلیم و تربیت نیز غیرمعمولی شخصیت سازی کے ذریعہ معاشرہ کو قابل اور قیمتی افراد فراہم کیئے۔آج آپ کے لاتعداد طلبہ ملک و بیرون ملک میں مختلف شعبوں کے کلیدی عہدوں پر متمکن ہیں۔آپ کی شخصیت سازی اور علمی و عملی سرگرمیوں کی بےلوث خدمات میں  آپ کے جن مخلص و معاون بزرگوں  کا شمار ہوتا ہے ان میں قابل ذکر والد مرحوم محمد لطیف الدین فاروقی صاحب،پروفیسرعبدالوہاب جذب مرحوم ، ڈاکٹر محمد بدرالدین صاحب، محمد اشفاق کاغذی صاحب سمیت بیشتر عزیزواقارب اور اسٹاف کے  عملہ وغیرہ حضرات جن کا نامزد اندراج شامل تحریر کرنا فی الحال  ممکن نہیں  قابل ذکر ہیں۔
موصوف کا مطالعہ وسیع،فکرکشادہ علمی و ادبی ذوق نہایت اعلی ہے۔گوکہ خود شاعر نہیں لیکن سینکڑوں اشعار حافظہ میں محفوظ ہیں جن کا برمحل انتخاب گفتگوں میں حلاوت پیدا کردیتا ہے۔علمِ تفسیرو حدیث،فقہ اور تاریخ اسلام،تصوف و طریقت جیسے دینی و عصری موضوعات پر مشتمل متعدد نادرونایاب کتابیں آپ کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں جن سے اکتسابِ فیض فی الوقت موصوف کا محبوب مشغلہ ہیں۔
موصوف کی ہمہ گیر شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ مختصر خاکہ میں ممکن نہیں لہذا اس شعر پر اس تعارفی خاکہ کو تمام کرتے ہیں کہ۔
مانا  کہ   اس. زمیں   کو   نہ.  گلزارکرسکے!
کچھ خار کم تو کرگئے،گزرے جدھر سے ہم!

اللہ رب العزت محترم عبداللہ سر کا سایہ دراز فرمائے۔صحت و عافیت عطا فرمائے۔غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے،دنیوی راحت و اخروی نجات عطافرمائے۔آمین یارب العالمین۔

           ✍🏻تحریروپیشکش۔۔۔
•┄┅══❁✿عامرفہیم راہیؔ✿❁══┅┄•​
                     📱8329953822

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب