تذکرہ علامہ امین الرحمن عامرعثمانی رحمہم
وہ ایک تارہ جو ضوفگن تھا حیات کے مغربی افق پر۔۔۔
(تذکرۂ عامر عثمانی بر موقع صدسالہ یوم پیدائش )
ملتِ اسلامیہ کے حق میں اللہ رب العزت کا عظیم احسان ہیکہ ہر دور میں اللہ جلّ شانہٗ نے دینی خطوط پر ملت اسلامیہ کی ہمہ پہلو تربیت،تزکیہ اور اصلاحی کاوشوں نیز فتنوں کے سدباب اور طاغوتی افکار و نظریات کے تدارک کے لئے نائبینِ مرسلین و وارثینِ انبیاء کا سلسلہ جاری رکھا ہے،ظاہر ہےکہ وہ پاکیزہ نفوس جن کی شخصی عبقریت ایک عالم کو محوِ استعجاب کردیتی ہے۔ان کا علمی،روحانی،اصلاحی و اخلاقی فیض چہارِدانگ عالم تک محیط ہوتا ہے۔ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے وقف ہوتا ہے جو ایک ہدف سرمایۂ حیات کی شکل میں طئے کئے ہوئے اس کی تکمیل کیلئے سرگرداں ہوتے ہیں۔وہ منزل کی جستجوں میں اس قدر متحرک ہوتے ہیں کہ موسم کی سختیاں ان کےعزائم اور پائے استقامت میں ذرہ برابر جنبش نہیں پیدا ہونے دیتی۔پاکیزہ افکار،صالح کردار اور جولانگاہِ شوق ان کا سرمایۂ کار ہوتا ہے۔حصولِ مقصد کی لگن اور نصب العین کی تکمیل ان کی زندگی کا وہ واجب الادا قرض بن جاتا ہے۔جسے ادا کرتے کرتے وہ نفس مطمئنہ لئے حضورِحق میں حاضر ہوتے ہیں۔وہ رب سے راضی،رب ان سے راضی ان کا شمار صالحین میں ہوتا ہیں اور ان کا نعم البدل جنتِ معلی ہوتی ہے۔۔۔ان قدسی الاصل ارواح کے افکار و نظریات اور علمی و عملی کاوشوں کا گرانقدر سرمایہ ان کے ظاہری و مادی وجود کے ختم ہوجانے کے بعد بھی صدیوں تک راہ حق کے مسافروں کو گھٹاتوپ اندھیروں میں مشعلۂ راہ کی حیثیت سے رہبری کا فریضہ انجام دیتا رہتا ہے۔
مدبراسلام علامہ امین الرحمن عامر عثمانی نوراللہ مرقدہ اسی محیطِ بیکراں کی ایک ناتواں آبجو ہے۔آپؒ نے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے فریضہ کو کسی لومۃ لائم کی پرواہ کئے بغیر ببانگ دہل انجام دیا۔عامر عثمانی فقط اک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت انجمن ادارہ اور عہد ساز تحریک کا نام ہے۔گرچہ کہ آپ کی طبعی عمر اختتام پذیر ہوچکیں لیکن آپ کے گرانقدر علمی فکری ادبی اور دینی خدمات کا سیلِ رواں پوری آب و تاب کیساتھ رواں دواں ہے۔آج دسیوں سال بعد بھی ہزاروں تشنگانِ حق آپ کی تحریری کاوشوں سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
جوہری کا یہ فن ہوتا ہیکہ وہ پتھروں کو تراش کر نادرونایاب گوہر کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے لوگ اس کےفنکارانہ شاہکار کو دیکھتے اور دادوتحسین سے نوازتے ہیں۔لیکن اس تراشیدہ گوہر کے پسِ پردہ انجام دی گئی محنت ہائے شاقہ کا ادراک عام نگاہیں نہیں کرپاتیں۔کچھ لوگ دنیا میں جوہری کردار کے حامل ہوا کرتے ہے۔جو اپنی خاموش محنت،لگن اور تڑپ کے نتیجہ میں ایسے گوہرِنایاب تیار کرکے زمانہ کو عطاکردیتے ہے۔ جن کا تصور کج فہم اذہان نہیں کرسکتے۔ان کی زندگی مسائل پریشانیوں اور دشواریوں کا مجموعہ ہوتی ہے لیکن ان کے نتائج ان کی زندگی کے مشکل ترین تقاضوں سے مماثلت نہیں رکھتے۔قحط الرجال کے اس دورِنامساعد میں صحیح خطوط پر افرادسازی کی انتہائی غیر معمولی اہمیت ہے۔علامہ عامر عثمانی نوراللہ مرقدہ ہمہ گیر شخصیت کا نام ہے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بالتفصیل تحریریں منصۂ شہود پر قارئین کی باصرہ نوازی کا شرف حاصل کرچکی ہیں۔آپ اک صاحب طرز انشاء پرداز،عظیم مفکر،اسلامی اسکالر،بلندپایہ عالم دین، محقق مدبر مبصر مفسر محدث مصنف تنقید نگار سلیم الطبع شاعر اور ادیب تھے۔ماہنامہ تجلی دیوبند میں آپ کے معرکۃ الآرا قلمی شہ پارے،مختلف النوع موضوعات پر فقیدالمثال علمی ادبی فکری اور فقہی نوادراتِ قلم کی جولانیاں فی زمانہ عنقا اور نادرالوقع معلوم ہوتی ہے۔آپ کی تحریری حلاوت اور حرارت کا رنگ نصف صدی کے بعد بھی مزید نکھرتا معلوم ہوتا ہے۔شرک و بدعت قبوری تصوف اور ریاکارانہ زہد پر آپ کا قلم قیامت بن کر ٹوٹ پڑا۔موصوف کے قلم نے باطل عقائد و نظریات طاغوتی افکار و تخیلات کی بیخ کنی کر کے رکھدی۔آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا بتمام و کمال اس کا حق ادا کردیا۔
بعض کردار شجرِسایہ دار کے مماثل ہوتے ہیں جن کا وجود مسعود سراپا خیر عافیت عاطفت اور ثمرآور ہوتا ہے جن کے گہرے گھنیرے سایہ میں خلق سکون راحت اور عافیت محسوس کرتی ہیں۔جو پتھروں کے جواب میں صحت بخش پھل اور روح افزا پھول دیتے ہیں۔جن کے مقاصد اعلی، فکر ارفع، کردار مسفی اور اخلاق مرجع ہوتے ہیں۔۔۔پاکیزہ نسبت انسان کو باکمال بنا دیتی ہے اور علوم شرعیہ میں مہارتِ تامہ اس میں مزید نکھار پیدا کردیتے ہیں۔
علامہ عامرعثمانیؒ انہیں برگزیدہ افراد میں سے تھے جن کی نسبت عالی اور کردار اعلی ہوتے ہیں۔آپ کے دادا حضرت مولانا فضل الرحمن عثمانیؒ کا شمار بانیانِ دارالعلوم دیوبند میں ہوتا ہے۔مفتئ اعظم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمنؒ عثمانی آپ کے تایا تھے۔ پیرطریقت حضرت مولانا مطلوب الرحمن عثمانی آپ کے والد محترم اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نوراللہ مرقدہ آپ کے عم محترم تھے۔آپ کی پیدائش 30/ نومبر سن ۱۹۲۰ء کو ہردوئی اترپردیش میں ہوئی۔جہاں آپ کے والدِمحترم ملازمت کے سلسلہ میں مقیم تھے۔سن ۱۹۳۹ء میں دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد مختلف شعبہ جات میں طبع آزمائی کی بالآخر سن ۱۹۴۹ء میں کافی مشکلوں دقتوں اور مشقتوں کے بعد مشہور زمانہ رسالہ ماہنامہ تجلی دیوبند کی بنیاد رکھی۔جس نے ایوان باطل کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔اعلائے کلمۃ اللہ کی صدائے بلند کرتے ہوئے تقریبا پچیس سال آپ نے ماہنامہ تجلی کو بے شمار رکاوٹوں کے باوجود بحسن و خوبی شائع کیا۔تجلی کے صفحات کو موصوف نے دین حق کی ترجمانی اور اسلامی افکار و نظریات کی ترویج کا وسیلۂ اظہار بنایا۔مفکراسلام مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کے خلاف اٹھائے گئے جھوٹے الزام و اتہام اور بےبنیاد اعتراضات کا جم کر رد کیا فی الواقع آپ ہندوستان میں مولانا مودودی کے بڑے مداح اور دفع کار تھے۔صاحبِ تجلی مولانا عامر عثمانی نے خلافت و ملوکیت کے رد میں لکھی گئی کتاب شواہد تقدس کے جواب میں خلافت و ملوکیت نمبر تین ضخیم جلدوں میں نکال کر صاحب شواہدتقدس کے پرخچیں اڑا دیئے۔بیشتر دقیق موضوعات پر خالص علمی انداز میں خصوصی شمارے نکال کر موصوف نے عالمانہ و فاضلانہ معیار و وقار کا حق ادا کردیا۔ ماہنامہ تجلی کے مستقل کالم "مسجد سے میخانہ تک" میں انشاء پردازی اور طنز و مزاح نگاری کے شاہکار نمونے اور قیمتی جواہرات بکھرے ہوئے ہیں جن کی مثال اردو ادب میں اور کہیں نہیں ملتی۔جہاں آپ نے فتنۂ ارتداد لادینیت شرک و بدعت ضلالت و معصیت کے خلاف محاذ آرائی کی وہی فتنۂ قادیانیت کے خلاف بزورِ قلم علم جہاد بلند کیا۔آپ کی تیز دھار قلم شمشیر بےزنہار بن کر فتنۂ قادیانیت پر ٹوٹ پڑی۔تجلی کے سینکڑوں صفحات فتنہ قادیانیت کے رد اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے حق میں دلائل و براہین اور شواہد و حقائق کی روشنی میں لکھے گئے۔علامہ عامر عثمانی کی تحریری کاوشوں کا رقبہ نہایت وسیع آپ کا تبحر علمی نہایت عمیق اور عالمانہ وقار اور فاضلانہ کمال کا حامل ہے۔عقیدۂ ختم نبوت کی تائید اور فتنۂ قادیانیت کے رد میں متعدد علماء امت نے قابلِ قدر اور لائق تحسین گرانقدر علمی و عملی خدمات انجام دی ہیں جس سے چشم پوشی درحقیقت سورج کی روشنی سے انکار کا مؤجب ہوگا(آئیندہ صفحات میں مشاہرین امت کی رد قادیانیت پر علمی و عملی کاوشوں کا اجمالی تذکرہ درج کیا جارہا ہے۔) موصوف نے فتنۂ قادیانیت کے رد میں تجلی کے مستقل کالم کے علاوہ "قادیانیت کے جیب و گریباں" کے عنوان سے چشم کشاں مبسوط و مدلل تحریری سلسلہ شروع کیا اور پوری سنجیدگی اور شدت سے دلائل و براہین کی روشنی میں فتنۂ انکار ختم نبوت اور قادیانیت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔۔
✍🏻خامہ فرسائی:-
عامرفہیم راہی، جالنہ مہاراشٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں