تعزیتی تحریر بروفات عزیزم منیب احمد


یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا…

زندگی، موت کی تمہید ہے، اور موت، حیاتِ مستعار کا تتمہ۔۔۔عالمِ فانی میں ایسا کوئی جاندار نہیں جسے زندگی کا روگ لگا ہو اور وہ نہ مرے؛ جسے یہ روگ لگ گیا  اسے بہرحال مرنا ہے۔ہر شئے فانی ہے فنائیت اس کی  اصل حقیقت ہے۔ زندگی تیز بہت تیز ہے جس کا ہر لمحہ موت سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے انجام کی طرف کشاں کشاں گامزن ہے۔کوئی جلد کوئی بدیر... لیکن ایسی موت جو عین جوانی کی دہلیز پر دستک دے، عنفوان شباب پر قدم رکھتے ہی اُچک لے، زندگی کے اس مرحلے میں جسمیں عزائم ارادے منصوبے اور خواب جو اپنی تعبیر چاہتے ہیں جو ایک بامقصد انسان کی ترجیحات کا حصہ ہوتے ہیں انہیں اپنے اختتام تک پہنچادیں۔ بڑی کربناک ہوتی ہے۔ 
آہ۔۔ منیب احمد ہمارا جواں سال بھتیجا، ایک ایسا لائق،ہونہار،باصلاحیت لڑکا جس نے سلیقہ سے اپنی عمرعارضی کی پندرہ بہاریں بھی نہ دیکھیں۔  انتہائی  ناگہانی  مرض میں مبتلاء ہوکر ہزار کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوکر لقمہ اجل بن گیا۔ منیب احمد کی وفات کا سانحہ جانکاہ، حادثہ فاجعہ اس قدر دلدوز، دلخراش اور المناک ہے کہ اس پر تاثرات یا احساسات کے لئے جذبات  پر الفاظ کا زور نہیں چلتا  ۔۔۔
بھلا اس درد و کرب کی شدت کو الفاظ کے سہارے کیسے بیان کیا جاسکتا ہے جسے ایک ماں جھیل رہی ہو، ایک باپ برداشت کررہا ہو، دادا   اور   دادی جن کو اپنی ضعیفی نقاہت و پیرانہ سالی میں ایسے دلخراش سانحہ نے دل برداشتہ کردیا ہو ایک ایسا لائق پوتا جو سب کی آنکھوں کا نور، دل کا سرور اور منظورِ نظرہو   ناگہانی مرض میں داغ مفارقت دے گیا ہو، جس کی وفات سے پورا خاندان سوگوار ہو۔۔
 ہمارا رویہ  اس حادثہ پر وہی ہونا چاہیے جو رحمت عالم محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے معصوم بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک سے آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا اور زبان مبارک پر غم واَلم کے اظہار کے ساتھ تسلیم ورضا کے یہ کلمات جاری تھے: ان القلب لیحزن و إن العین لتدمع ولا نقول إلا ما یرضی اللّٰہ سبحانہ وإنا لفراقک یا إبراھیم لمحزونون(دل غموں سے نڈھال ہے، آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، لیکن زبان سے ہم صرف وہی بات کہہ سکتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے، اے ابراہیم تمہاری جدائی پرہم سبھی مغموم ہیں۔)
منیب احمد ہمارے خاندان کی دوسری نسل کا سب سے بڑا لڑکا تھا۔ انتہائی فرمابردار اطاعت شعار دینی  رجحان و رغبت رکھنے والا، مزاج میں متانت سنجیدگی اور عمدہ اخلاق و آداب کا نمونہ تھا۔ دسویں جماعت کا ہونہار طالب علم جو اپنے بہتر مستقبل کے لئے فکر مند،آنکھوں میں ترقی کے خواب،دل میں امنگوں آرزؤوں اور تمناؤں کی انگڑائی لیے ہوئے
۔ کم سخن، خوش گفتار، ہنس مکھ ملنسار انتہائی مؤدب و خلیق صلاحیت و صالحیت کا مرکب نوجوان۔۔۔ جو خیانت بدخصلتی اور بری صحبت سے کوسوں دور تھا۔اسے جینے کی خواہش تھی جسے وہ اپنے لئے نہیں دینِ اسلام کے لئے وقف کرنے کا آرزومند تھا جس کا برملا اظہار اس نے دورانِ علاج شدید تکلیف کے عالم میں کیا لیکن قدرت اس کے حق میں کچھ اور فیصلہ کرچکی تھی،جب اسے اس بات کا یقینی اندازہ ہوگیا کہ اب زندگی محال ہے تو وہ بتکرار اس بات پر اصرار کرتا نظر آیا کہ اس کے حق میں دعا کی جائے کے باری تعالیٰ اسے درجہ شہادت سے سرفراز فرمائے۔۔ وینٹیلیشن سے قبل اس نے والدین کو طلب کیا اور بڑی لجاجت سے اس کی صحت یابی کے لئے کی جارہی کوششوں اور قربانیوں پر شرمندگی کیساتھ معافی مانگی اسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ اس کی بیماری کی وجہ سے پورا خاندان ڈسٹرب ہے۔ لہذا معافی تلافی کے بعد جو کچھ کلمات اسے ازبر تھے اس کا ورد کیا اور الوداعی سلام عرض کرکے عالم مدہوشی میں چلا گیا۔۔ایک دفعہ کچھ طبیعت سنبھلی تو اس نے اپنی والدہ کو روتا بلکتا دیکھ کر جنہیں اس سے ملنے کی اجازت نہ تھی اسٹاف سے قلم اور کاغذ طلب کیا اور اس پر بکھرے لفظوں میں وہ دلخراش نصیحت لکھ کر دی جو درحقیقت ہم سبھی کے حق میں اس کی وصیت ثابت ہوئی اور جو تاحیات ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں تازہ رہے گی۔۔
"میرے جنازے میں رونا نہیں…"
گویا وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے ۔۔۔ اس نے جس بلندحوصلگی عزم ہمت اور بہادری کیساتھ بیماری کا مقابلہ کیا وہ دیکھنے والوں کے علاؤہ خود ڈاکٹرس کے لئے غیر معمولی حیرت اور تعجب کا باعث بن گیا۔اس قدر قوت برداشت کا مظاہرہ کہ دیکھنے والی نگاہیں اسے بظاہر صحت مندسمجھتی لیکن طبی رپورٹس انتہائی تشویشناک،  ڈاکٹرس کی جانب سے علاج کے لئے ہر ممکن کوشش اور بہتر سے بہتر خدمات فراہم کی گئیں لیکن "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی…" کے مصداق معاملہ کنٹرول سے باہر ہوتا گیا۔۔۔
اس کے معمولات میں اسکول و مکتب کی مشغولیات اور تنظیمی سرگرمیاں نمایاں تھیں۔
 ضد، لالچ،حرص، لڑائی جھگڑا اور ہٹ دھرمی بچوں میں عام بات ہوتی ہے لیکن کم از کم میں نے اس بچے میں یہ قباحتیں نہیں دیکھیں۔ اس نے اپنی حیاتِ مستعار کا متعینہ جتنا بھی حصہ جیا خوب جیا۔۔ اب جبکہ وہ ہماری یادوں باتوں اور ماضی کا حصہ بن گیا جس کی جدائی جملہ متعلقین کے لئے سخت غم حسرت افسوس اندوہ اور آزمائش کا باعث ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے غم میں شریک ہیں اور باہم تعزیت کے حقدار ہیں ایسے موقع پر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ اس معصوم لڑکے کو اپنے مقربین میں شامل فرمائے شہادت کے درجہ سے سرفراز فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے جملہ والدین کے دل کو قرار اور صبرو تحمل عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے آمین یارب العالمین 

*یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا؛*
*کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا.*

عامرفہیم راہی،جالنہ

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! (تعزیتی تحریر بروفات عزیزمن برادرشیخ سہیل احمد،بھائی جان)

قسط ‏نمبر۰۱؀ ‏جناب ‏شبیر ‏احمد ‏انصاری ‏صاحب